امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے فوجی پروگرام، بالخصوص ڈرون ٹیکنالوجی کے لیے خام مال اور ہتھیاروں کی فراہمی میں مدد دینے کے الزام میں 10 افراد اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
خبر رساں دارے روئٹرز کے مطابق یہ نئی پابندیاں جمعے کو ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے خاتمے کی تجویز پر ایران کے باقاعدہ جواب کا انتظار کر رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد تہران کے ان نیٹ ورکس کو توڑنا ہے جو ’شاہد‘ ڈرونز کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان ڈرونز کا استعمال حالیہ علاقائی تنازعات میں کثرت سے دیکھا گیا ہے۔
ان حالیہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں چین اور ہانگ کانگ میں قائم کئی کمپنیاں اور افراد شامل ہیں۔
واشنگٹن کا موقف ہے کہ یہ عناصر ایرانی فوج کو وہ حساس آلات اور مواد فراہم کر رہے تھے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت ممنوعہ ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چند روز بعد اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے چین روانہ ہونے والے ہیں۔
دوسری جانب ایران میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے سے متعلق تمام سفارتی کوششیں اس وقت تعطل کا شکار ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان پابندیوں کے نتیجے میں نامزد افراد اور کمپنیوں کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور کسی بھی امریکی شہری یا کمپنی کو ان کے ساتھ تجارت کی اجازت نہیں ہو گی۔


















































