بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فورسز کی جانب سے اپنی من مانی کے تحت سڑکیں بند کرنا، شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنا اور عوام پر تشدد کرنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ تربت میں اسلام آباد سے لائے گئے ٹک ٹاکرز اور کانٹینٹ کریٹرز کو وی آئی پی پروٹوکول دینے کے لیے شہریوں کی آمدورفت روکی گئی اور کئی گھنٹوں تک سڑکیں بند رکھی گئیں، جس کے باعث اسکول جانے والے بچوں، مریضوں، ڈاکٹروں، اسپتال کے عملے اور کاروباری افراد سمیت ہزاروں شہری شدید مشکلات کا شکار ہوئے۔
انہوں نے کہاکہ سڑکوں کے بندش پر جب مریضوں اور سینیر ڈاکٹروں نے سوال اٹھایا، تو ایف سی کی جانب سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ایک ڈاکٹر پر بندق تانا گیا اور گولی مارنے کی دھمکی دی گئی۔ تشدد کا شکار ہونے والے مریضوں میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھی۔ اس واقعے کے خلاف تربت ٹیچنگ ہسپتال میں عوام، مریضوں اور اسپتال کے عملے نے احتجاج کرتے ہوئے ڈیوٹی سے بایئکاٹ کیا ، کرفیو نما صورتحال کے خاتمے اور شہریوں پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مزید کہاکہ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ بلوچستان میں نام نہاد ’’فیک نیرٹیو‘‘ تشکیل دینے کے لیے وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ اسی مقصد کے لیے عام شہریوں کو محصور کرکے ان کی بنیادی آزادیِ نقل و حرکت سلب کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی کے نام پر بلوچستان میں شہری زندگی کو مسلسل پابندیوں اور جبر میں رکھنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم متعلقہ اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس طرح کے غیر انسانی واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے، اور شہریوں پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف شفاف کارروائی کی جائے اور بلوچستان میں کرفیو نما پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کرتی ہیں کہ بلوچستان میں شہریوں کے ساتھ ہونے والے جبری اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور حکام کوانسانی حقوق کے لیے پابند کریں۔
آخر میں کہاکہ تربت کے عوام اور اسپتال کے عملے کی جانب سے اپنے بنیادی حقوق کے لیے ریکارڈ کرائے گئے احتجاج جبر کے خلاف مزاحمت ہے ہم بلوچ عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے حقوق اور آزادیوں کے دفاع میں اپنی آواز پُرامن اور مسلسل انداز میں بلند کرتے رہیں کیونکہ خاموش ظلم کو مزید توانا کرتی رہے گی۔
















































