بیٹے کی جبری گمشدگی کو چار ماہ گزر گئے، زیب النسا کی بازیابی کی اپیل

27

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6347ویں روز بھی جاری رہا۔

اس دوران بلوچ اتحاد پنجاب کے صدر دانش بلوچ اور سابق چیئرمین بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، مہیم خان بلوچ، نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔

انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ملکی قوانین اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ ایک فرد کی جبری گمشدگی سے پورا خاندان کرب اور اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے فوری خاتمے اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

دانش بلوچ اور مہیم خان بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں طاقت کے استعمال اور ماورائے آئین اقدامات سے امن قائم نہیں ہو سکتا، بلکہ حالات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، اسے سیاسی طریقے سے حل کیا جائے۔ ماورائے آئین اقدامات کا خاتمہ اور اہلِ بلوچستان کے ساتھ ملکی قوانین کے مطابق برتاؤ یقینی بنایا جائے۔

علاوہ ازیں، ڈیگاری کی رہائشی خاتون زیب النسا نے کیمپ میں آ کر کہا کہ ان کے بیٹے محمد ریاض ساتکزئی کو 5 مئی کو ڈیگاری ایف سی چیک پوسٹ، دشت، مستونگ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ میری اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ محمد ریاض ساتکزئی کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے اور ان کے بارے میں ہمیں آگاہ کیا جائے۔