مستونگ میں عام عوام پر ڈرون حملہ ریاستی دہشتگردی اور سفاکیت ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ، گیت میں باغ میں کام کرتے ہوئے مزدوروں پر ڈرون حملہ بغیر کسی اگر مگر کے ریاستی دہشتگردی اور سفاکیت ہے۔ چند روز قبل سوراب میں شہری آبادی پر فضائی حملے میں بچوں، خواتین اور عام شہریوں کی شہادت نے پورے بلوچستان کو صدمے سے دوچار کیا، آج پھر محنت مزدوری کرنے والے شہریوں کو ڈرون حملے کے ذریعے نشانہ بنانا بلوچ عوام کے خلاف ریاستی سفاکیت اور جبر میں بدترین اضافہ ہے۔

انہوں نے کہاہےکہ اس حملے میں گل خان مغیری، عمران بلوچ، عبیداللہ بلوچ اور جہانزیب ابڑو قتل کر دیے گئے، جبکہ علی رضا مینگل، نصیب اللہ ابڑو اور خالد حسین زخمی ہوئے۔ یہ محض ناموں کی ایک فہرست نہیں، یہ وہ محنت کش انسان تھے جو باغات میں مزدوری کرکے اپنے خاندانوں کے معاشی سہارے بنے ہوئے تھے۔ ان کے قتل سے صرف چار زندگیاں نہیں چھینی گئیں بلکہ چار خاندانوں کے سہارے، امیدیں اور مستقبل بھی ریاستی دہشتگردی کی نظر ہوگئے۔

بی وائی سی نے کہاہے کہ بلوچستان میں جنگی طیاروں، ڈرونز اور دیگر عسکری ذرائع کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنانا اس ریاستی پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے کہ ریاست بلوچستان میں بلاتفریق محض بلوچ ہونے کی بنیاد پر بلوچ عوام کا قتل عام کررہی ہے۔ ریاست کی اس پالیسی میں باغ میں اپنے روزگار کے لیے کام کرنے والا مزدور سے لیکر جھولوں میں سونے والے بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔

مزید کہاکہ ہم بلوچ عوام پر واضح کرتے ہیں کہ ریاست نے بلوچ عوام کی بلاتفریق قتل عام کی پالیسی میں بدترین شدت لائی ہے۔ اس نسل کشی کو روکنا کا واحد ذرائع صرف اور صرف قومی مزاحمت ہے۔ بلوچ عوام کو اجتماعی طور پر لاکھوں کی صورت میں سڑکوں پر نکلنا ہوگا اور ریاستی طاقت کو شکست دینا ہوگا۔