نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور مرکزی رہنما سینیٹر جان محمد بلیدی نے فورسز کی جانب سے ٹیچنگ ہسپتال تربت کے ڈاکٹروں کی تذلیل اور پیرامیڈیکل اسٹاف پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دنوں سے پورے کیچ، بالخصوص تربت شہر کو بلاجواز یرغمال بنایا گیا ہے۔ تمام شاہراہیں لوگوں کی آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی ہیں، یہاں تک کہ ہسپتال جانے کے لیے نہ مریضوں کو جانے دیا گیا اور نہ ہی ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ہسپتال جانے کی اجازت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے ایک مخصوص گروپ کے پریس کلب تربت کے دورے کے دوران مقامی صحافیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کو ذمہ دار اداروں کے ذمہ دار افراد اور عام شہریوں کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔
انہوں نے ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور صحافی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ نیشنل پارٹی ہر مرحلے پر اپنے پروفیشنل افراد اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔


















































