کوئٹہ شہر سے باہر حکومتی رٹ عملاً ختم ہو چکی ہے – تجزیہ نگار، رفیع اللہ کاکڑ

0

بلوچستان کی جدید تاریخ میں بلوچستان کے حالات اتنے خراب و سنگین موڑ پر نہیں پہنچے جتنے آج پہنچ چکے ہیں۔ جس کا اندازہ ان باتوں سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ شہر سے باہر حکومتی رٹ عملاً ختم ہو چکی ہے، بلوچستان کی مرکزی شاہراہوں پر سفر نہیں کیا جا سکتا، راستوں پر مسلح افراد ہیں جو لوگوں کو روک کر چیکنگ کرتے ہیں۔ اس وقت اگر آپ کوئٹہ سے کراچی یا اسلام آباد جانا ہو تو ہوائی جہاز کی ٹکٹیں ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار عوامی ترقی پالیسی کے ماہر اور تجزیہ نگار رفیع اللہ کاکڑ نے فرزانہ علی کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں کیا۔

رفیع اللہ کاکڑ نے بلوچستان میں موجودہ حالات کے حوالے سے مزید کہا کہ بلوچ بیلٹ میں بلوچ لبریشن آرمی کی عملاً راج ہے، جبکہ پشتون بیلٹ میں ٹی ٹی پی کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ پشتونخوا اور بلوچستان میں تجارت کا انحصار سرحد پر ہے۔ پچھلے پانچ مہینوں سے ایران جانے والے کنٹینروں اور ٹرکوں پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں، جس سے تقریباً یہ تجارت بھی بند ہو چکی ہے۔

اس وقت کوئٹہ ایک ’’اوپن ایئر پریزن‘‘ بن چکا ہے، معاشی سرگرمیاں عملاً ختم ہو چکی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی و پی ٹی ایم جیسی پرامن سیاسی تحریکوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں رفیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ ریاست جان بوجھ کر پُرامن سیاسی تحریکوں کو تشدد کی طرف دھکیل رہی ہے، جو انتہائی غلط پالیسی ہے۔ پی ٹی ایم نے امن کی بات کی، جنگ کے انسانی اثرات کی بات کی، طالبانائزیشن کے خلاف آواز اٹھائی۔ اسی طرح بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں اور لاپتا افراد کے لواحقین کی تحریک تھی، جو ان کے لیے آواز اٹھا رہی تھی۔ آپ نے ان کا مارا، زد و کوب کیا، جس سے عوام کے غصے میں مزید اضافہ ہوا۔

“پھر بی وائی سی کے رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا، ان کے کارکنوں کو سزائیں دی گئیں۔ اپنے ہی تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر یہ سب کیا گیا۔ ریاست نے پیغام دیا کہ جو بھی تحریک پُرامن سیاست کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کرے گی، نہ صرف اس کی بات نہیں سنی جائے گی بلکہ اسے سزا بھی دی جائے گی۔”

“آپ انہیں دھکیل رہے ہیں۔ ایک بلوچ نوجوان جو بی وائی سی کے ذریعے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنا چاہتا تھا، اسے آپ نے واضح پیغام دیا کہ اس کے لیے پُرامن جدوجہد کا کوئی راستہ نہیں ہے۔”

ایک سوال کے جواب میں رفیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ ریاست عوام سے بنتی ہے، اس لیے یہ کہنا کہ ریاست اتنی مقدم ہے کہ جو لوگ ریاست کو تشکیل دیتے ہیں، وہ غیر متعلقہ یا ثانوی بن جاتے ہیں، غلط ہے۔ ریاست خود لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے بنائی گئی ہے، اس لیے میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ غداری والی بات ہے تو لوگ لاہور، اسلام آباد یا کراچی میں غدار کیوں نہیں بنتے؟ بھارت کی سرحد بھی پنجاب سے لگتی ہے۔ اگر بھارت حمایت کر رہا ہوتا تو یہاں زیادہ آسانی ہوتی، تو پھر وزیرستان، کوئٹہ، تربت اور آواران میں برائے نام ریاستی بیانیے کے مطابق ’’غدار‘‘ کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟

“اس کا مطلب ہے کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں، ریاستی پالیسیوں کو درست کرنے کے بجائے لوگوں پر غداری کے لیبل لگا رہے ہیں۔ انہی غلط ریاستی پالیسیوں کے تحت تحریکیں اٹھی ہیں۔”