بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6366ویں روز میں داخل ہو گیا۔
احتجاجی کیمپ میں لاپتہ قاری عبدالصمد کے والد، غلام رسول محمد حسنی، نے شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا قاری عبدالصمد، جو ایک نجی ادارے میں استاد تھا، 15 سال قبل گاہی خان چوک، کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ بیٹے کی بازیابی کے لیے مقدمہ دائر کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام سے بھی رابطہ کیا، تاہم وہ تاحال لاپتہ ہے، جس کے باعث خاندان شدید کرب اور اذیت میں مبتلا ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے غلام رسول محمد حسنی کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیمی سطح پر قاری عبدالصمد کا کیس متعلقہ اداروں کے سامنے اٹھایا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاری عبدالصمد سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو ان کے پیاروں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔



















































