مذاکرات سے انکار کا الزام اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی امن کی تاریخ – شاہموز زہری

26

مذاکرات سے انکار کا الزام اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی امن کی تاریخ

تحریر: شاہموز زہری

دی بلوچستان پوسٹ

حکومتِ بلوچستان کا دعویٰ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی مذاکرات کی حامی نہیں، مگر گزشتہ برسوں کا ریکارڈ اس دعوے کے بالکل برعکس ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی اور جب بھی حکومت کے ساتھ تعطل پیدا ہوا، اہلِ بلوچستان کی بھلائی کے لیے اپنا مؤقف نرم کیا۔ مذاکرات کی تاریخ میں کئی بار بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت حکومتی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی۔

گوادر میں یہی سلسلہ کئی بار دہرایا گیا۔ گیارہ روز تک جاری رہنے والے دھرنے کے دوران ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور کامیابی کے بعد ہی دھرنا ختم کیا گیا۔ حکومتی وفد نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام مطالبات منظور کر لیے اور سات نکات پر مبنی معاہدہ طے پایا، جس کے بعد گوادر اور کوئٹہ سمیت صوبے کے کئی شہروں میں دو ہفتوں سے جاری دھرنے ختم کر دیئے گئے۔ بعد ازاں، طے شدہ معاہدہ حکومت ہی کی طرف سے منسوخ کر دیا گیا۔

اسی سے متعلق سیشن کورٹ میں بے بنیاد مقدمات زیرِ سماعت ہیں، قلات میں بھی یہی عمل دہرایا گیا اور کوئٹہ میں بھی حکومت اور احتجاجی کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پایا۔ یہ تمام واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نہ صرف مذاکرات کی حامی ہے بلکہ اپنی قیادت کے ذریعے ہر بار مذاکرات میں پہل بھی کرتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ کوئٹہ کا دھرنا بھی مذاکرات پر ختم ہوا، مگر وہ لاپتہ کارکن آج تک گمشدہ ہے۔

اس امن کی پالیسی کو بدلنے کا آغاز ایک ایسے دور میں ہوا جب نگران حکومت نے اقتدار سنبھالا۔ جب بلوچ مائیں، بہنیں اور بزرگ اسلام آباد پہنچے تو شدید سردی میں ان کا استقبال لاٹھی چارج اور واٹر کینن سے کیا گیا اور احتجاج کرنے والوں سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا گیا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ریکارڈ پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ بیٹھ کر ان کے مطالبات سنے جائیں، مگر حکومت نے اسپیکر ضبط کر لیے، احتجاجی کیمپ کے گرد خاردار تاریں بچھا دیں، مظاہرین کی پروفائلنگ شروع کر دی اور ان کی خوراک تک بند کر دی۔ بلوچ خواتین اور بچے منجمد راتوں میں خیموں میں سوے رہے، لیکن حکومت نے ان کی آواز سننے کی بجائے انہیں مجرم ثابت کرنے کی مہم چلائی۔

اسی پالیسی کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔ اسی حلقے نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کو توڑنے کے لیے جھوٹے مقدمات اور جیل کا سہارا لیا اور اب یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی۔ جس فریق نے ہر بار تعطل پر نرمی دکھائی اور مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کیا، اسی پر مذاکرات سے انکار کا الزام لگانا خود حکومتی موقف کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر مذاکرات کرنا ہیں تو کس کے ساتھ؟ پاکستان نے ماضی میں بابو نوروز خان زہری کے ساتھ مذاکرات کیے، اسی نظامِ حکومت نے شہید اکبر خان بگٹی کے ساتھ بھی بات چیت کی، لیکن ان مذاکرات کا انجام کیا ہوا، یہ پوری قوم جانتی ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کے لیے سب سے پہلے سنجیدگی ضروری ہے، مگر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کبھی سچے مذاکرات نہیں چاہتے۔ اگر وہ مذاکرات کی بات بھی کرتے ہیں تو وہ بھی صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے کرتے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کی قید آج ہر بلوچ نوجوان کے لیے سب سے بڑی اور تازہ ترین مثال ہے کہ اگر وہ پرامن بلوچستان کی بات کرے گا تو اسے کیا انجام بھگتنا پڑے گا۔ جب کسی فرد کو اپنی آواز اٹھانے کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں ملتا، تو بالآخر اس کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے اور وہ ہے بندوق-

مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی ہمیشہ اس کے لیے تیار ہے کہ حکومت سچے دل سے مذاکرات کی میز پر بیٹھے- صرف بی وائی سی رہنماؤں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات کافی نہیں، کیونکہ اصل مسئلہ بی وائی سی رہنماؤں کا نہیں بلکہ ریاستی پالیسیوں کا ہے۔ حقیقی بات چیت اسی وقت ممکن ہے جب حکومت “کِل اینڈ ڈمپ” پالیسی، جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کا مکمل خاتمہ کرے۔ جب تک انصاف اور احتساب نہیں ہوگا، کوئی بھی معاہدہ سطحی اور ناپائیدار رہے گا۔بلوچ عوام نے ہر بار امن کا ہاتھ بڑھایا اور ہر بار اسی ہاتھ کو جھٹکا دیا گیا، مگر پھر بھی بی وائی سی نے امید نہیں چھوڑی، کیونکہ امن ہی اس تحریک کی اصل پہچان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ الزام تراشنے کی بجائے اصل مسئلے کی طرف دیکھے اور بلوچ عوام کے لاپتہ بھائیوں اور بہنوں کا جواب دے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔