پروفیسر غمخوار حیات اور انور صاحب خان کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین، بساک کے زیرِ اہتمام ادبی دیوان کا انعقاد

32

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام پروفیسر غمخوار حیات اور انور صاحب خان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک ادبی دیوان کا انعقاد کیا گیا۔

پروگرام میں تنظیم کے مرکزی صدر عزیر بلوچ، مرکزی کمیٹی کے ارکان سہیل بلوچ، نگرہ بلوچ اور ہانی بلوچ سمیت طلبہ، نوجوانوں، شعرا اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

دیوان کی مختلف نشستوں میں مقالہ جات، پینل ڈسکشنز، ڈاکومنٹریز، مشاعرہ، کتابوں کی نمائش اور روایتی ’’دوچاپی‘‘ شامل تھیں۔

دیوان کی پہلی نشست میں پروفیسر غمخوار حیات کی زندگی اور فن پر ایک مقالہ پیش کیا گیا۔

بعد ازاں انور صاحب خان کی حیات و خدمات پر ایک ڈاکومنٹری دکھائی گئی، جس پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ علاوہ ازیں، کوئٹہ میں بلوچ طلبہ کے تعلیمی مسائل اور بلوچ سیاست کی اہمیت کے موضوعات پر بھی ڈاکومنٹری اور مقالے پیش کیے گئے۔

بلوچی اور براہوئی زبان کی اہمیت‘‘ کے عنوان سے ایک پینل ڈسکشن منعقد ہوا، جس میں مرکزی رہنماؤں نگرہ بلوچ اور سہیل بلوچ نے بطور پینلسٹ شرکت کی، جبکہ نائب صدر زون حانل بلوچ نے موڈریٹر کے فرائض انجام دیے۔

دیوان کے دوران ’’بلوچستان کتاب کاروان‘‘ کے تحت کتابوں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا، جہاں سے شرکا نے بڑی تعداد میں کتابیں حاصل کیں۔ آخر میں ایک مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔

دیوان سے خطاب کرتے ہوئے بساک کے مرکزی صدر عزیر بلوچ نے کہا کہ آج طلبہ سیاست کے حوالے سے من گھڑت اور منفی تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ حقیقی سیاسی اور فکری عمل ہی معاشرتی برائیوں کے خاتمے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچ معاشرہ اس وقت ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے، اس لیے نوجوانوں کو اپنے افعال کے ذریعے قوم اور معاشرے کی مثبت تعمیر میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

مقررین نے پروفیسر غمخوار حیات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ براہوئی اور بلوچی ادب کے ایسے منارۂ نور تھے جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے بلوچ قوم کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ اسی طرح استاد انور صاحب خان (ماما) کو قومی ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے شاعری، تحریر اور فن کے ذریعے مادری زبان اور قوم کی بے لوث خدمت کی اور سیاسی و فکری شعور کی آبیاری کی۔

پروگرام کا اختتام تمام نشستوں میں تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد ہوا۔