“ ہیروف کی مہندی”
تحریر : نوکآپ بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
ہیروف کی مہندی، یہ عنوان پڑھتے ہی آپ نہ جانے کیا سوچ رہے ہوں گے، لیکن میرا یقین مانیں، یہ جنگ اب محض ایک قوم کی آزادی کی ایک روایتی طرز کی جنگ نہیں رہی، بلکہ یہ اب بلوچ قوم کے آنے والی آزاد نسل کے لیے تاریخ لکھی جا رہی ہے۔
وطن کے عاشقوں کی وہ داستان جو رہتی دنیا تک زمین سے عشق کی اعلیٰ مثال رہے گی۔ ہر جنگی آپریشن درجنوں سرمچاروں کے لازوال قربانیوں کی ایک یاد ہے کہ وہ کیسے اپنے وطن کے لیے اپنا جسم سجاتے ہیں، اپنے بکھرے ہوئے لمبے بالوں کو دھوتے ہیں، انہیں کنگھی کرتے وقت کیا محسوس کرتے ہیں، اور جب وہ اپنی آنکھوں میں وطن کی مٹی سے سرمہ لگاتے ہیں، ان کے رخسار عشق کے نور سے گلابی رنگت دھار لیتی ہے۔
جیسے کوئی برائڈل گروم اپنے شادی کے لیے تیار ہو رہا ہو، اپنے من پسند محبوبہ سے ملنے کے لیے بے چین ہو، اپنے شادی کی خوشی میں کئی لوگوں سے ہنستے مسکراتے ہوئے باتیں کر رہا ہو، شادی سے ایک رات پہلے مہندی رچائی گئی ہو اس کے خوبصورت قلمی ہاتھوں پر، بات بات پر وہ شرمندگی محسوس کرتے ہوئے مسکرا رہا ہو، اپنے قریبی دوستوں سے دھیمی آواز میں کچھ کہنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ہر آپریشن اپنے اندر ایسی کئی حسین یادیں سمیٹے ہوئے ہیں۔
مگر ایک رات جو شاید اب تک وطن کے شہدا کی خوشیوں کی سب سے بڑی رات تھی: “ہیروف دوہم کی مہندی”۔ اس دن کے لیے ہزاروں نوجوان سالوں سے منتظر تھے، ہر کوئی اپنے دل میں یہی تمنا لیے بیٹھا تھا کہ مجھے کل میرے وطن کے لیے سجایا جائے گا، میں نئے کپڑے زیبِ تن کر کے اپنے وطن کے لیے قربان ہونے جاؤں گا۔ یہ اُن کی زندگی کے سب سے خوبصورت خواب کی تعبیر تھی جب انہیں معلوم ہوا کہ کل آپریشن ہیروف دوہم کا اعلان ہوگا۔
سینکڑوں سرمچار میلوں کا طویل سفر طے کر کے بیس کیمپ پہنچے تھے۔ کافی تھکے ہارے، کئی دنوں کی بھوک پیاس، مگر یہاں پہنچتے ہی سب کے چہرے چمک اُٹھ رہے تھے۔ کئی پرانے ساتھیوں سے ملاقات ہونا، ایک دوسرے کو زور سے گلے لگانا، یہ سب روایتی طور پر کسی نوجوان کی شادی کی رات جیسی ہی تھی، مگر یہ شادی کسی ایک نوجوان کی نہیں، بلکہ ہزاروں سرمچاروں کی مہندی کی رات تھی۔
ماں بانڑی ایک بڑی سے تالی میں آپریشن ہیروف میں شامل ہونے والے فدائیوں کے لیے مہندی گوندھ رہی تھیں۔ فدائی “حوا جان” اپنے پیاری پیاری باتوں سے ان کے ساتھ ہنسی مزاق میں مگن تھیں۔ سارا ماحول سنجیدہ جنگجوؤں کی مسکراہٹ سے جگمگا اُٹھا تھا۔ یہاں کچھ ایسے بھی ساتھی تھے جنہوں نے ایک ساتھ تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی، مگر تنظیمی پالیسیوں کی وجہ سے سالوں بعد ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔
ان دوستوں میں مکالمے کی شروعات بس انہی الفاظ سے ہوئی کہ یار، کتنے عرصے بعد ہمارا ملاقات ممکن ہوا ہے۔ یہ سب ہیروف جان کی برکت و طفیل ہے کہ جس وطن کی ناموس کے تحفظ کے لیے ہم نے جنگِ آزادی کا راستہ اختیار کیا تھا، آج اسی محبت نے ہمیں اتنا بڑا دن شہید ہونے کے لیے عطا کیا۔ پوری دنیا اب ہمیں ہیروفی شہدا کے نام سے یاد کرے گی، ہر سال ہمارا دن منایا جائے گا، اور ہماری قربانیوں کو ہماری قوم مشعلِ راہ کے طور پر دیکھے گی۔
اماں بانڑی مہندی تیار کر کے فدائین کے محفل میں شریک ہوئیں۔ ہر طرف مسکراہٹیں، آنکھوں میں خمار، چہرے پر لالی، وشے وشے کی آوازیں۔ ہر فدائی ایسے محبت سے اپنا ہاتھ مہندی کے لیے بڑھا رہا تھا جیسے وہ اب مزید انتظار نہیں کر سکتا۔ یہ رات بہت ہی خوبصورت اور دل آویز تھی۔ سارے فدائیوں کے چہرے پر ایک ایسا نور چھایا تھا جیسے لیلۃ القدر کی رات ایک پرنور جھلک آسمان سے ان کے قدم چومنے اتری ہو اور وطن کے شہزادوں کو دیکھنے خدا کے فرشتے زمین پر نازل ہوں۔
یہ مہندی صرف ایک رسم نہیں تھی، یہ ان کے حوصلے، رفاقت اور آخری رات کی یاد تھی۔ کوئی اپنے ساتھی کی ہتھیلی پر پھول بناتا، کوئی آزادی کا لفظ لکھتا، اور کوئی خاموشی سے دوسرے کا ہاتھ تھام لیتا۔
انہیں معلوم تھا کہ صبح کا سورج شاید سب کے لیے ایک جیسا نہ ہو۔ کچھ لوٹ کر آئیں گے، کچھ تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔ یہ جنگجو جن کے ہاتھوں پر آپریشن ہیروف کے نام کی مہندی رچائی جا رہی تھی، یہ ایک عام انسان سے کافی مختلف تھے۔ ان کی آنکھوں میں وطن پر قربان ہونے کا ایسا جنون تھا جو قابلِ دید تھا۔ دیکھنے والے بار بار اپنے دل میں یہی تمنا کر رہے تھے کہ ہم ان کی پُر خمار آنکھوں کو چومیں، ان کے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھنے کی تمنا ہمیشہ وقت کا نجومی آخری سانس تک کرتا رہے گا۔ ان کی تقدیر میں لکھی “آزاد بلوچ وطن” دنیا کے ہر انقلابی سوچ رکھنے والے انسان کو ان کی محبت میں گرفتار کرتا رہے گا۔
گودی آصفہ جان کی خوبصورت مسکراہٹ جو اس رات پہاڑوں کے چہرے پر نقش ہوئی تھی، وہ آج تلک چاند کو شرماتی ہے۔ اس کی معصومیت خدا کے معصوم فرشتوں سے چھینی گئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں تھامی ہوئی ایم 16 رائفل دنیا کے کسی بھی قیمتی زیور سے زیادہ خوبصورت اور دلفریب تھی۔ اس کے کانوں میں جھمکے ایسے جھلملا رہے تھے جیسے اس سے جڑی ہر چیز آصفہ کے ساتھ وطن پر قربان ہونا چاہتا ہے۔ اس کے ہاتھوں پر مہندی کی کیثیری رنگت فدائی حملے کے بعد نوشکی کے ریگستان میں سورج کے آخری سانس کی طرح پھیل گئی تھی، اور اس کی زیبِ تن کی ہوئی سرخ بلوچی جوڑے کی لالی ہمارے وطن میں کھلنے والے گواڑخ کے پھولوں نے اپنے لیے چُرا لی تھی۔
یہ خوبصورت اور دلنشین نظارے موکش وسیم جان اپنے خوبصورت آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ ان کے چہرے پر سیاہ رنگ کا فیس ماسک پہنا ہوا تھا۔ وطن کے عشق میں یہ مجنوں سنجیدگی اور جنگی محاذ پر قابلیت کی ہر حد پار کر چکا ہے۔ وہ اپنی مہکش آنکھوں سے کل صبح کو چلنے والی ٹھنڈی ہوا کا منتظر تھا، جیسے “کوہ باطیل” پر کھڑا دور تلک وہ آسمان کو للکار رہا ہو اور اپنے وطن کی ملکیت کا دعوے دار ہو۔ آج بھی زنگی ناوڑ پر کونج پرندوں کا لشکر اس کی ہمت و بہادری پر اپنے پنکھ پھیلائے ہوئے رقص کرتی ہیں۔
آسمان اپنا رنگ بدلنے لگی تھی۔ دور کئی پہاڑوں کے کونے سے اب سورج کانپتا ہوا جھانکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مولم جان کی بہادری اور آخری سانس تک وطن کے نام پر لڑنے کے بعد شہادت کی خبر جب پہنچی تو دوستوں میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں کہ یار، دیکھو مولم جان کتنی بہادری سے لڑتے ہوئے وطن پر قربان ہو گئے۔ ایک طرف ان کی جدائی کا رنج، تو دوسری جانب ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مولم جان اور دیگر ساتھیوں نے شہادت کا جام نوش کر کے آجُئی کا اذان پڑھا ہے۔
سارے دوست اپنے وفادار “ہمراہ” یعنی اپنی اپنی بندوقوں کو سجانے لگے۔ روشنی ہر جانب پھیلنے لگی تھی۔ مرکزی شاہراہ پر فدائیوں نے اپنے کمان سنبھال کر اپنی تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ وطن کے محافظوں نے ہر طرف اپنے مورچے سنبھال لیے تھے۔ دشمن خوابِ خرگوش میں سویا، اپنی طاقت کے گمان میں شکست کے قریب تر پہنچا تھا کہ سر کماش بشیر زیب نے آپریشن ہیروف دوہم کا اعلان کر دیا۔
وہ گرج دار آواز، درد، رنج اور عشق سے بھرپور، جس نے اپنی قوم کو یک دم سے بیدار کر دیا۔ چاروں طرف سیاہ آندھی رونما ہونے لگی، ٹھنڈی ہوائیں ایک دم سے ایسے خاموش ہوئیں جیسے کائنات میں موجود ہر شے نے یہ منظر پہلی مرتبہ دیکھا ہو۔ آنکھوں میں ایسی دہشت اور چہرے پر ایسا جلال تھا کہ دشمن کے در و دیوار کانپ اُٹھے۔
فضا میں ایک عجیب سا ارتعاش پیدا ہوا، زمین جیسے اپنے سینے میں کوئی طوفان سمیٹے ہوئے تھی۔ آسمان پر چھائے سیاہ بادل گرجنے لگے، بجلی کی چمک نے افق کو چیر ڈالا، اور ہر سمت ایک ہی صدا گونجنے لگی۔ یہ محض ایک آواز نہ تھی، یہ صدیوں کی خاموشی کا ٹوٹنا تھا، مظلوموں کی آہوں کا شعلہ بن کر بھڑک اٹھنا تھا، ان ماؤں کی سسکیوں کا جواب تھا جنہوں نے اپنے لختِ جگر قربان کر دیے، ان بے کسوں کی فریاد تھی جن کی صدائیں مدتوں سنگ و خشت سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی تھیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































