سٹار لنک کی پیشکش، قاسم سلیمانی کی تصویر اور واک آؤٹ: اقوام متحدہ میں اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کے دوران کیا ہوا؟

29

’میں یہ ڈیوائس (آلہ) ایرانی وفد کو فراہم کروں گا۔ جب وہ اس رجیم کو چھوڑ دیں گے، جیسا کہ وہ بالآخر ضرور چھوڑیں گے تاکہ وہ اپنی کہانی سوشل میڈیا پر بیان کر سکیں گے۔‘

یہ کہنا تھا اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کا جو جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سٹار لنک کی ڈیوائس تھامے ایرانی قیادت پر طنز کر رہے تھے۔

نتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ چیز ہے جس سے ایرانی حکومت خوف کھاتی ہے۔ یہ مواصلاتی ڈیوائس ہے جو لوگوں کو سچائی تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہے، کیونکہ ایرانی رجیم انٹرنیٹ پر سنسر شپ کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتی ہے۔‘

نتن یاہو کے ان الفاظ کے بعد کیمرہ ایرانی مندوبین کے لیے مخصوص نشستوں کی جانب جاتا ہے، جہاں واک آؤٹ کی وجہ سے کوئی موجود نہیں، تاہم ڈیسک پر ایرانی سابق ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی تصویر رکھی ہے جو 2020 میں بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

سٹار لنک سیٹلائٹس کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ سروس مہیا کرتا ہے۔

ایلون مسک کی یہ کمپنی ان افراد کو تیز ترین انٹرنیٹ کی سروس مہیا کرتی ہے جو زمین کے دور دراز یا دیہی علاقوں میں رہتے ہیں اور انھیں تیز انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔

نتن یاہو کی تقریر کے اختتام کے بعد جب ایرانی وفد دوبارہ اقوامِ متحدہ کے ہال آتا ہے تو اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون سٹار لنک ڈیوائس اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے کو یہ ڈیوائس دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہال میں موجود ایرانی نمائندے ناصر اسدی اسرائیلی سفیر کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

اسرائیلی سفیر نے یہ ویڈیو اپنے ایکس اکاؤنٹ میں شیئر کی ہے جس میں اُنھیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’آپ نے وزیرِ اعظم کی باتیں سنیں۔ یہ ڈیوائس آپ کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے تاکہ ایرانی عوام کو اُن کاموں کے بعد آزادی حاصل کرنے میں مدد ملے جو آپ نے ان کے ساتھ کیے ہیں۔‘

ڈینون ایرانی نمائندے سے کہتے ہیں کہ ’ہم ایران کے عوام سے محبت کرتے ہیں اور وہاں حکومت کی تبدیلی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ وہ دن آئے گا۔‘

واک آؤٹ

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے خطاب سے پہلے ہی اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کے درجنوں نمائندے اُس ہال سے باہر چلے گئے جہاں اسرائیلی وزیرِ اعظم کی تقریر مقرر تھی۔

اپنے خطاب میں نتن یاہو نے ہال سے جانے والوں کو ’اخلاقی بزدل‘ قرار دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’جو لوگ ہال میں موجود رہے لیکن جانے والوں کے خیالات سے اتفاق رکھتے ہیں تو انھیں بھی چلے جانا چاہیے۔‘

اس دوران ہال میں موجود اسرائیلی وفد کے ارکان نتن یاہو کی حمایت میں نعرے لگاتے رہتے ہیں۔

نتن یاہو کی نیویارک آمد کے موقع پر پولیس نے احتجاج کرنے والے متعدد افراد کو بھی حراست میں لیا جن میں آسکر ایوارڈ یافتہ ادکارہ سوزن سارینڈن اور ’ہیکس‘ (Hacks) کی ایمی ایوارڈ یافتہ اداکارہ ہینا آئن بائنڈر بھی شامل تھیں۔

حراست میں لیے جانے والوں میں ڈیموکریٹک کانگریشنل امیدوار ڈیرالیزا اویلا شیولیئر اور نیویارک سٹی کونسل کے رکن چی اوسے بھی شامل تھے۔

نیویارک پولیس (NYPD) کے ترجمان نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ایک ’غیر طے شدہ مظاہرے‘ کی اطلاعات پر کارروائی کی، جہاں مظاہرین ایک چوراہے کو بند کر رہے تھے۔

’ہم لڑائی جاری رکھیں گے‘

اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم جیتیں گے، ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے خطاب سے کچھ گھنٹے قبل ایک ریکارڈڈ پیغام میں فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوامِ متحدہ کو بتایا کہ اسرائیلی پالیسیوں، خاص طور پر مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی غیر قانونی توسیع نے ’اپنی سرزمین پر فلسطینی عوام کی زندگی اور وجود‘ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے ’دو ریاستی حل‘ خطرے میں پڑ گیا ہے، جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فارمولا ہے۔

محمود عباس نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کو ’قتل و غارت، تباہی، بھوک اور بے دخلی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ نسل کشی پر مبنی جنگ‘ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

فلسطینی رہنما اس سالانہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہے تھے کیونکہ انھیں امریکی ویزہ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

ترک صدر اور میئر ممدانی پر تنقید

نتن یاہو نے اپنے خطاب میں ترک صدر اردوغان کو ’ظالم‘ قرار دیتے ہوئے اُن پر فلسطینی مسلح گروپ حماس کی حمایت کا الزام عائد کیا۔

ترک صدر نے منگل کے روز اقوامِ متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے عوام کو درپیش ناانصافیاں ’انسانیت کے ضمیر کو شدید ٹھیس پہنچاتی ہیں۔‘

ترک صدر کے دفتر کی جانب سے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے ’اقوامِ متحدہ کے امن، قانون اور مکالمے‘ کے اُصولوں کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

اسرائیلی رہنما نے نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ممدانی نے اس سے قبل نتن یاہو کو گرفتار کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن بعد میں کہا کہ انھیں ایسا کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ’جب سے آپ اس شہر کے میئر منتخب ہوئے ہیں، نیویارک میں بہت سے یہودی اب خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔‘

ممدانی کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ نتن یاہو نے ’اپنی تقریر میں ایسے بے بنیاد جھوٹ دہرائے جن کا مقصد فلسطینیوں کی نسل کشی کو جائز یا بے داغ ثابت کرنا تھا۔‘