سوراب میں فضائی حملے کے خلاف بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن، پہیہ جام

114

بلوچستان کے ضلع سوراب میں گدر کے علاقے میں پاکستانی فوج کے فضائی حملے اور اس کے نتیجے میں شہریوں کی قتل کے خلاف جمعرات کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں اور مقامی افراد نے میتیں قومی شاہراہ پر رکھ کر احتجاج کیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے مطابق سوراب، خضدار، قلات، مستونگ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں متعدد کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں۔ کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سوراب میں احتجاج کے باعث کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ پر آمدورفت خاص طور پر متاثر ہوئی، جہاں مظاہرین نے حملے میںجانبحق ہونے والے افراد کی میتیں رکھ کر احتجاج کیا۔ مقامی اطلاعات کے مطابق شاہراہ کے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں بن گئیں۔

مقامی ذرائع اور مظاہرین کے مطابق 12 اگست کو سوراب کے علاقے گدر گندان میں ایک فضائی کارروائی کے دوران بمباری ہوئی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت20 سے زائد افراد جان بحق اور 16 زخمی ہوئے۔

حملے کے بعد جانبحق ہونے والے افراد کے لواحقین اور مقامی باشندوں نے میتیں سوراب کے مرکزی چوک میں کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ پر رکھ دیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔ شاہراہ کی بندش سے بلوچستان کے اندرونی علاقوں کو کراچی اور کوئٹہ سے ملانے والی اہم زمینی رابطہ منقطع ہوکر رہ گیا ہے۔