بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے بلوچستان کے ضلع سوراب کے علاقے گدر میں پاکستانی فضائیہ کی بمباری کو صریح جنگی جرم قرار دیا ہے۔ آبادی والے علاقوں پر جیٹ طیاروں کے اس حملے میں 10 سال سے کم عمر کے معصوم بچوں سمیت 20 سے زائد عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جس نے بلوچستان میں انسانی حقوق اور عام شہریوں کی حفاظت سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ شہری آبادی پر بمباری اور معصوم بچوں کی جانیں لینا بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بلوچستان میں شہریوں کے خلاف عسکری قوت کا یہ بے دریغ استعمال، گھروں کی مسماری اور جبری نقل مکانی جیسے اقدامات میں نہ صرف پاکستانی فوج ملوث ہے، بلکہ اس کی سہولت کاری کرنے والے مقامی کاسہ لیس سیاستدان اور تمام سیاسی جماعتیں بھی برابر کی شریکِ جرم ہیں۔
بی این ایم نے یورپی یونین اور عالمی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ اس انسانی بحران پر خاموش رہنے کے بجائے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائیں۔ خاص طور پر یورپی یونین پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس اور دیگر تمام تجارتی مراعات فی الفور معطل کرے، کیونکہ یہ بین الاقوامی سہولیات بنیادی انسانی حقوق کے احترام سے مشروط ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ آئی ایس پی آر کے یک طرفہ پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانیے کو جگہ دینے کے بجائے بین الاقوامی میڈیا غیر جانبدارانہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرے۔ بین الاقوامی مداخلت اور عالمی حقوق کی تنظیموں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہی وقت کی اہم ضرورت ہیں؛ اگر عالمی برادری نے فوری ردعمل نہ دیا تو نہ صرف بلوچستان کا انسانی بحران شدید تر ہوگا بلکہ عالمی اداروں کی اپنی ساکھ بھی داؤ پر لگ جائے گی۔



















































