خضدار: زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک کم، بور خشک، زمیندار زراعتی نقصان سے پریشان 

0

بلوچستان کے ضلع خضدار سمیت گردونواح کی تحصیلوں میں پینے اور آبنوشی کے لیے زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی گئی ہے، جس کے باعث متعدد بورنگ مشینیں خشک ہونے کے اطلاعات ہیں جبکہ پانی کی شدید قلت کے نتیجے میں زرعی زمینیں بنجر اور فصلیں تباہ ہونے لگی ہیں۔

مقامی زمینداروں کے مطابق وہ نسلوں سے زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں، تاہم پانی کی مسلسل کمی نے انہیں اپنی آبائی زمینیں چھوڑ کر ہجرت پر مجبور کردیا ہے۔ 

زمینداروں کے مطابق ایک ایک بور کی کھدائی پر لاکھوں روپے خرچ کیے گئے، لیکن پانی کی سطح مزید نیچے جانے کے باعث کئی بور چند ماہ بعد ہی خشک ہوگئے۔

زمیندار حلقوں کا کہنا ہے کہ زیرِ زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے اور پانی کے متبادل ذرائع پیدا کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کوئی مؤثر اور جامع پالیسی نظر نہیں آ رہی، پانی کی قلت سے نہ صرف زراعت بلکہ مویشی پال حضرات اور دیہی آبادی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانی کے بحران پر فوری قابو پانے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو خضدار کے کئی دیہات خالی ہونے کا خدشہ ہے اور مقامی آبادی کو بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

زمینداروں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خضدار میں پانی کے سنگین بحران کا فوری نوٹس لیا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر واٹر کنزرویشن ڈیمز، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے اور متبادل آبپاشی نظام شروع کیے جائیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو زمینداروں کی معاشی تباہی کے ساتھ پورے ضلع کی معیشت، زراعت اور دیہی زندگی کا نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔