چمترکی جلال و سوراب – سنگت ھانلی

10

چمترکی جلال و سوراب

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

شام ڈھلے اُس کی ضد بڑھ گئی تھی۔ نہ کھانا کھارہا تھا، نہ سو رہا تھا۔ ماں کی گود میں سر رکھ کر بھی بے قرار، بس روتا رہا۔ بہت بہلانے کے بعد بھی جب طبیعت نہ سنبھلی تو ماں اسے دم کروانے پڑوس میں لے گئی۔ انہوں نے دو سالہ جلال کی آنکھوں میں جھانک کر کہا کہ اسے نظر لگی ہے۔ پھر اسفند سلگایا، دھواں اُس کے گرد سات بار گھمایا، دعائیں پڑھیں اور چمڑے میں بندھا ایک تعویذ ماں کے حوالے کیا۔ ماں نے تعویذ اُسکے گلے میں پہنایا اور اس کے اوپر چمترک کی نیلے موتیوں والی لڑی ڈال کر دونوں سرے باندھ دیئے۔ اب بچے کی سسکیاں مدھم پڑچکی تھیں۔

رات آدھی سے کچھ اوپر ہوئی تو گھر گہری نیند میں ڈوب چکا تھا۔ جلال ماں کے پہلو میں دبکا ہوا اسی سکون میں تھا جو تھوڑی دیر پہلے اسے نصیب ہوا تھا۔ باہر گن شپ ہیلی کاپٹروں کی آوازیں بتدریج بلند ہوتی جارہی تھیں، رات کے اس نامعلوم گوشے میں کوئی آفت تھی جو اپنے ہی قریب آنے کا اعلان کر رہی تھی۔

پھر اچانک آسمان نے اپنا رنگ بدل لیا۔ ایک بھاری، اندھی اور بہری گونج گدر کی گہرائیوں تک اتر گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ گھر، وہ چھت، وہ دیواریں جو نسلوں سے قائم تھیں، مٹی اور ملبے کے ایک ڈھیر میں تبدیل ہوگئیں۔ آگ نے پہلے نارنجی رنگ اوڑھا، پھر سیاہ دھوئیں میں ڈوب گئی اور آخرکار گہری سرخی ہر طرف پھیل گئی۔ فضا میں ملبے، بارود اور جلتے ہوئے گوشت کی ملی جلی بو پھیل گئی۔ جو چیخیں بلند ہوئیں، وہ زیادہ دیر فضا میں قائم نہ رہ سکیں، ان کے مالک ملبے کے نیچے دفن ہوچکے تھے۔

جس آسمان نے کبھی اس بچے کو تیربند کی چمک اور بنات النعش کے سات ستارے گن کر دکھائے تھے، آج اسی آسمان سے موت کا ایک ٹکڑا سیدھا اس کے سینے پر آ گرا تھا۔ نہ وہ دم کارگر آیا، نہ اسفند کا دھواں، نہ وہ تعویذ جسے ماں نے چند گھنٹے پہلے اپنی دعاؤں کے ساتھ اس کے گلے میں باندھا تھا۔ اسے بچانے کیلئے جو ہاتھ آگے بڑھا، وہ ماں کا تھا، اور وہ ہاتھ بھی اسی ملبے کے نیچے ہمیشہ کیلئے دب چکا تھا۔

صبح جب ملبہ ہٹایا گیا تو اس میں پورا گھر موجود تھا، وہ سب لوگ جن کے ساتھ جلال کی دنیا مکمل تھی، اور آخر میں خود ضدی جلال بھی جس کی شام بھر کی ضد اب ہمیشہ کیلئے تھم چکی تھی۔ اس کے گلے میں چمترک اور تعویذ بدستور موجود تھے، ایک ایسی آخری نشانی کے طور پر جو اتنا بتانے کیلئے کافی ہیں کہ کوئی تھا جو اس بچے سے بے حد محبت کرتا تھا، کوئی تھا جس نے اسے بچانے کیلئے اپنی تمام تر استطاعت صرف کردی تھی۔

جب لُمہ ناز بی بی کے سینے سے لگے قرآن پر نظر پڑی تھی تو پچھلی تحریر میں سوال اُن سے تھا کہ آپ سے گلے لگنے کا حق تو آصف کا ہے، وہ کہاں ہے؟ مگر کیا یہ میری بدقسمتی ہے کہ ایک ماں کے غم کو ابھی پوری طرح لکھ بھی نہیں پاتی کہ ایک اور ماں کا ماتم میرے سامنے برے خواب کی طرح آ کھڑا ہوتا ہے؟ ایک ماں کا بیٹا اُنہیں واپس نہیں مل سکا تھا کہ ایک اور ماں اپنے ڈیڑھ سالہ بچے کے ملبے تلے سے ملنے کا سوال اٹھا کر سامنے آگئی ؟

اس بار تو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ یہ جگہ جلال کی تھی، کیونکہ جلال تو اب بھی اپنی جگہ، اپنی ماں کے آنچل سے لپٹا موجود تھا، ایک ماں کو اپنے بچے سے جدا کرنے کیلئے صرف اسے کہیں لے جانے کی ضرورت تھوڑی تھی ؟

وہ جو ایک خراش پہ ماں سے لپٹ جاتا تھا آج زخموں سے چُور ایک ٹوٹے پلر کے نیچھے بے بس پڑا تھا۔ اس بچے کو کیا کرنا چاہیے جس کے ننھے جسم کو چیر کر سریا، پتھر اور بارود اندر اتر رہے ہوں؟ جب ماں خود ملبے کے نیچے ہو تو وہ کس کے دامن میں چھپے؟ جب بے بس باپ اُسے تڑپتا دیکھے مگر وہ خود اینٹوں کے نیچھے سے ہل نا سک رہا ہو؟ جب خاندان کا ایک حصہ اُس کے ساتھ ملبے تلے اور باقیوں کی لاشیں فوجی تحویل میں سڑ رہی ہوں تو اُس بچے کے پاس آخر بچتا کیا ہے؟ ایک چمترک؟ ایک تعویذ؟ چند آیتیں؟ یا پھر صرف وہ گھر جسے اب گھر نہیں کہا جاسکتا؟

کیا یہ بذاتِ خود ہماری بدنصیبی نہیں کہ ہماری وسیع زبان میں، ہمارے شاعروں کی لکھی لوریوں اور ہماری دعاؤں میں ہمارے بچوں کے لیے ہزاروں خواب محفوظ ہیں، مگر ان لوریوں کو گاتے ہوئے بھی کہیں نہ کہیں دل کو یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ غلامی ہمیں کسی ایسے موڑ پر لا کھڑا کرے گی جہاں ہمیں اپنے بچوں کو چھوڑ کر مزاحمت کی راہ لینا پڑے گی، یا انہیں ہم سے چھین لیا جائے گا؛ اور جو دعائیں ہم آج اُن کے لیے پڑھ رہے ہیں، ممکن ہے اُن کی عمر ہی اُن دعاؤں تک پہنچنے کی نہ ہو۔

اخلاص ہکّل ایمان مرو
سگ سینہ ٹی کاہان مرو
شازانتی نا پہچان مرو
لمہ صدخہ اوڑان مرو

لیکن کیوں پھر چار اجنبی آئیں گے اور آسمان سے آگ برسائیں گے، ہمارے “مش تا مار” کو گاڑیوں میں اٹھا کر سیاہ زندانوں میں عمر بھر کے لیے بند کردیں گے، یا اُنہی ماؤں کے سامنے اُن کے بچوں کے جسم گولیوں سے چھلنی کردیں گے؟ تو میرا وہ ننھا بچہ جسے گود میں لے کر میں یہ لوری سناتی ہوں، کیا وہ کبھی اتنا بڑا ہو پائے گا کہ اپنے سینے میں کاہان جیسی وسعت اور برداشت سمیٹ سکے؟

او زند آتیٹی شون ہتو
خوشی تا ننکے رون ہتو
نازینکی ءُ دے مون ہتو
یار مرید ءِ تینتوں ہتو

کیا وہ کبھی اتنا بڑا ہو پائے گا کہ ہماری بکھری ہوئی زندگیوں کو کوئی سمت دے سکے، ہمارے تشنہ دلوں میں خوشی کی کوئی جگہ بنا سکے؟ یا ہم اپنے بچوں کو لوریاں دیتے دیتے، کسی ملبے تلے دفن ہوجائیں گے۔

وہ بلائیں جنہیں چمترک روک نہیں سکی ہماری بستیوں پر آگ برسا کر چند ساعتوں بعد اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں، اپنے اُنہی خون آلود ہاتھوں سے اپنے بچوں کو گلے لگاتے ہیں، اُن کے بالوں کو سہلاتے ہیں اور انہیں اپنی بہادری کے قصے سناتے ہوئے سلا دیتے ہیں، یہاں ہماری لوریاں ویران ہوچکی ہوتی ہیں، جبکہ وہاں اُن کے بچے اُنہی باہوں میں سو جاتے ہیں جنہوں نے چند گھنٹے پہلے ہمارے بچوں سے اُن کی دنیا چھین لی تھی۔

کیا خدا جب انسان بناتا ہے تو ہمارے اور اُن کے درمیان کوئی حد کھینچ دیتا ہے؟ کیا ہمارے بچوں کو بھی اُسی مٹی سے بنایا گیا ہے جس مٹی سے اُن کے بچے بنے ہیں، یا اُس مٹی سے جس سے اُن کے نومولود کیلیے قربانی کے جانور بنائے جاتے ہیں؟ جب ہمارے بچوں کی مٹی اُن کے بسمل کی مٹی سے الگ ہے پھر کیوں اُن کے بچوں کو گلے لگانے والی بانہیں سلامت رہتی ہیں اور ہمارے بچوں کو ڈھانپنے والی مائیں بچوں سمیت ملبے تلے دب جاتی ہیں؟ کیوں جبرائیل کے پروں میں اتنی وسعت ہے کہ آسمانوں کے پیغام اٹھا سکیں، مگر اُن پروں میں میرے بچوں کے لیے ایک چھوٹی سی ڈھال کی جگہ نہیں؟ کیوں ہمارے ننھے وجودوں کو قوتِ پرواز نہیں ملتی جن کے جسموں کو غلامی پہلے ہی دیمک کی طرح چاٹ چکی ہوتی ہے؟

صدیوں پہلے میسوپوٹیمیا کی سرزمین پر ایک بلا کا ذکر ملتا ہے جسے لمشتو کہا جاتا تھا، وہ آسمانی دیوتا انو کی بیٹی تھی، جس کا خوف خاص طور پر معصوم بچوں اور نئی ماؤں کے گرد منڈلاتا تھا۔ وہ رات کے اندھیرے میں گھروں تک پہنچتی، بچوں کو اُن کے گہواروں سے اٹھا لیتی اور ماؤں کی تمام تدبیروں کو بے معنی کر دیتی تھی۔ مائیں اُس کے خوف سے اپنے گھروں کی دہلیزوں پر تعویذ رکھتے، اس امید میں کہ شاید کوئی مقدس نشان اُس بلا کو اُن کے گھر کی حد سے واپس لوٹا دے۔ اسکا خوف اتنا شدید تھا کہ ماؤں کے پاس عام تعویذ کافی نہ سمجھے جاتے، وہ ایک اور بلا کا سہارا لیتیں، pazuzu، ایک اور ڈیمن جس کی صورت خود ڈراؤنی تھی، تاکہ وہ لمشتو کو دہلیز سے بھگا دے۔ انسان اس قدر بے بس ہے کہ اپنے بچے کو ایک بلا سے بچانے کیلئے دوسری بلا کے آگے سر جھکاتا، کیونکہ اس کے اپنے ہاتھ میں کوئی طاقت نہ تھی جو براہ راست اس آسمانی شر کا مقابلہ کر سکے۔

لمشتو کے خوف میں بھی ایک عجیب چیز تھی کہ وہ کسی انسان کی بدنیتی سے پیدا ہونے والی بلا نہ تھی، نہ کسی حسد بھری نگاہ کا نتیجہ، اس کی خود کی نسبت آسمان سے تھی۔ پھر سوال یہی رہ جاتا ہے کہ جو بلا خود آسمان سے اترے، اسے زمین پر بندھا ہوا کوئی تعویذ آخر کس طرح روک سکتا ہے ؟

ہم نے تو چمترک اُن بلاؤں کیلئے باندھے تھے جو کسی انسان کی آنکھ یا دل سے نکل کر ہمارے بچوں تک پہنچتی تھیں؛ مگر یہ بلا تو آنکھ سے نہیں دیکھتی، دل سے نہیں سوچتی، نام سے نہیں پہچانتی۔ یہ تو آسمان سے آتی ہے، اور آتے ہوئے نہ ماں کی دعا دیکھتی ہے، نہ بچے کی عمر، نہ اُس کے گلے میں بندھے نیلے موتی۔

تو پھر ہمیں کون سا چمترک چاہیے؟ ایسا چمترک جو آسمان سے گرنے والی آگ کے راستے میں خود کو بچھا دے، ایسا تعویذ جو ملبے کو ماں کی گود تک پہنچنے سے پہلے روک دے، ایسی دعا جو اُن ہاتھوں کو روک دے جو بٹن دباتے ہیں، وہ انگلیاں روک دے جو بندوق کی طرف بڑھتی ہیں، وہ ارادے روک دے جو ایک سوئے ہوئے بچے کے گھر کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہمیں اُس نظر سے بچانے والا چمترک نہیں چاہیے جو بچے کو دیکھ کر حسد کرتا ہے، ہمیں اُس آنکھ سے بچانے والا چمترک چاہیے جو بچے کو دیکھ کر بھی اندیکھا کرتا ہے۔ ہمیں اُس بددعا سے بچنے کا تعویذ نہیں چاہیے جو زبان سے نکلتی ہے، ہمیں اُس حکم سے بچانے والا تعویذ چاہیے جو ایک پوری بستی پر موت کا فیصلہ لکھ دیتا ہے۔

اگر چمترک پر اُس ماں کا اندھا یقین تھا، تو پھر اُس کے پاس اب کیا بچا؟ اُس نے تعویذ بھی باندھا، دم بھی کیا، آیتیں بھی پڑھیں، نیلے موتی بھی اُس کے گلے میں ڈالے، پھر بھی آسمان نے اُسے نہیں چھوڑا۔ اس لیے کہ اُس رات مسئلہ یہ نہیں تھا کہ چمترک کمزور تھا، مسئلہ یہ تھا کہ بلا بہت بڑی تھی۔ اتنی بڑی کہ ایک بچے کے گلے میں بندھے چند نیلے موتی کیا، کئی ماؤں کی بانہیں بھی اپنے جلال، عاصم، ضیاء، امیر اور تین دن کا بے نام بچے نہ بچا سکیں ۔ تو بتاؤ، کون سا چمترک باندھیں ہم اپنے بچوں کے گلے میں کہ اگلی بار جب آسمان سے آگ اترے تو وہ پہلے اُسی سے ٹکرائے؟ کون سا چمترک اُس بلا کو واپس لوٹائے جو ہر بار ہمارے بچوں کے نام، عمر اور معصومیت سے بے خبر آتی ہے؟ اور اگر ایسا کوئی چمترک نہیں، تو پھر ماؤں کو کب تک اپنے بچوں کے گلے میں نیلے موتی باندھ کر یہ یقین دلاتے رہنا ہوگا کہ وہ محفوظ ہیں؟

آج ہمارے ارد گرد ایک نہیں، کئی جلال ہیں، جنہیں جابر ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے، جن کے گلے میں بندھا چمترک بھی ندامت سے سرنگوں ہو کر اُنہیں تکتا رہ جاتا ہے، جن کے لیے لوریوں کے الفاظ قفسِ سکوت سے آزاد ہو کر ہواؤں میں بھٹکتے پھرتے ہیں، جن کے مستقبل ہمارے خوابیدہ حال کو ملامت کرتے ہیں، کہ وہ جنہیں بڑا ہو کر اپنے والدین کی ڈھال بننا تھا، وہی والدین کی کمر توڑ دینے والے جبر کے ملبے تلے خود شکستہ ہو جاتے ہیں۔

شاید قصاص کے دن جلال اپنے جابروں کے سامنے کھڑا ہو کر وہی الفاظ کہے گا جو غزہ کے بچوں کی طرف سے بمباری کرنے والے پائلٹ کے نام لکھے گئے تھے۔

“You should have seen the imploded children you have killed in your last air raid”

— The Little Prince, to the Air Force Pilot
Sharif S. Elmusa


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔