کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

13

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6332ویں دن بھی جاری رہا۔

احتجاجی کیمپ میں ایوب کرد کے لواحقین نے شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ ایوب کرد کو نوید کے ہمراہ 10 جنوری 2024 کو بی بی زیارت لنک روڈ، کوئٹہ سے ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔ بعد ازاں نوید کو رہا کر دیا گیا، تاہم ایوب کرد تاحال لاپتہ ہیں۔

لواحقین نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ایوب کرد کی بازیابی یقینی بنائی جائے اور ان کے خاندان کو طویل عرصے سے جاری اذیت اور بے یقینی کی کیفیت سے نجات دلائی جائے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ ایوب کرد سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔ اگر کسی لاپتہ شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ وہ اپنے خلاف الزامات کا قانونی دفاع کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو ملکی قوانین کے تحت حل کرتے ہوئے تمام لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو انصاف اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔