شیرزال – سنگت ھانلی

2

شیرزال

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

آسمان پہ ایک نیلاہٹ چھائی ہے، ایسی نیلاہٹ جو آنکھوں کو چندیا دے۔ چاند بھی اپنی مروجہ سفیدی ترک کر کے تہہ در تہہ نیلی روشنی بکھیر رہا ہے۔ جہاں تک نگاہ رسائی پاتی ہے، سبزہ اپنی پوری وسعت کے ساتھ ہوا میں رقص کررہا ہے، سبزہ زار کے دامن میں اُگے جنگلی پھول بھی نیلے ہیں، اور دور کھڑے پہاڑ بھی اُنہی پھولوں کی فراوانی کے باعث نیلی روشنی میں نہائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

فجر کے اس پہر میں مجھ سے کچھ فاصلے پر ایک لڑکی بیٹھی، اپنے سیاہ بال سامنے بکھیرے، اُن کی چوٹی گوندھ رہی ہے۔ ساتھ ہی گھاس پہ اُس کا دوپٹہ بچھا ہوا ہے جس پہ اُس نے اپنی بندوق نمی سے بچانے کیلیے رکھی ہے۔ نہ جانے کیوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اس رات کو، پہلے بھی جی چُکی ہوں، جیسے وقت دوبارہ مُجھے وہاں لے گیا ہے، کیا یہ ایک خواب ہے؟ کوئی حافظہ؟ یا وقت کی کوئی ایسی پرت جو میرے شعور سے اوجھل ہو چکی ہے؟ میں حرکت کرنا چاہتی ہوں، مگر میرے ٹخنوں سے گویا اینٹوں کی بھاری گٹھڑیاں باندھی گئی ہیں۔ میں اپنی جگہ سے ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتی، مگر عجب ہے کہ میری نگاہ ہر سمت رسائی رکھتی ہے۔

اب وہ لڑکی گلے میں بندوق لٹکائے میری طرف بڑھ رہی ہے۔ اُس کے ہونٹ مسلسل ہل رہے ہیں، وہ مسکرا بھی رہی ہے، شاید مجھ سے کچھ کہہ بھی رہی ہے… مگر اُس کی آواز مجھ تک نہیں پہنچتی۔ میرے کانوں پر بس وحشت کی ایک دبیز تہہ جمی ہوئی ہے۔ جس کے پار گولیوں کی بوچھاڑ کے سوا اور کچھ نہیں۔ میں بےاختیار چاروں طرف نظریں دوڑاتی ہوں، مگر آواز کا منبع کہیں نہیں ملتا۔ جیسے ہر سمت ایک جیسی ہو گئی ہو، اور ہر سمت سے جنگ مجھے پکار رہی ہو۔

وہ مجھ سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتی ہے۔ میں بھی اپنا ہاتھ آگے کرتی ہوں، مگر اچانک احساس ہوتا ہے کہ میری ہتھیلی خالی نہیں۔ اُس میں سفید کینولا کی نلکیاں، سوئیوں کے نشان، ٹیپ اور پٹیاں تہہ در تہہ الجھی ہوئی ہیں۔

وہ لڑکی ایک لمحے کے لیے ٹھٹھک جاتی ہے۔ اُس کی نگاہوں میں تشویش کی لکیریں ابھر آتی ہیں۔ اُس کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں، مگر آواز اب بھی مجھ تک نہیں پہنچتی۔ صرف اتنا محسوس ہوتا ہے کہ وہ حیران ہے… جیسے پوچھ رہی ہو، اپنا بستر چھوڑ کر ننگے پاؤں تم یہاں کیوں آگئی؟

اُسی لمحے میں یاداشت کی سرنگ میں سفر کرتے ہوئے خود کو ایک کچی، ادھ گری دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی پاتی ہوں جو گولیوں کے باعث چھلنی ہے، میرے پہلو میں ایک ساتھی بھی اُسی دیوار سے لگا بیٹھا ہے۔ اُس کا چہرہ برسوں سے شناسا معلوم ہوتا ہے، مگر وہ ہے کون؟ جتنا اُسے یاد کرنے کی کوشش کرتی ہوں، اتنا ہی اُسکا نام مجھ سے دور سرکتا جاتا ہے۔ میں بس اتنا جانتی ہوں کہ میں اُسے بہت پہلے سے جانتی ہوں۔

“وہ سپاہی تمہیں دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ شاید اُسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ایک عورت سامنے سے آ کر اُس پر حملہ کرے گی۔”

یہ بول کر وہ زور سے ہنس دیا اور میں بھی اُسکے ساتھ ہنسنے لگی۔

“جب تم جنگ کرتے ہو تو صرف آزادی کے لیے کرتے ہو، ظلم کے خلاف کرتے ہو۔ مگر جب میں بطور ایک عورت جنگ کرتی ہوں تو میری جنگ دو محاذوں پر ہوتی ہے۔ ایک آزادی کے لیے، اور دوسرا اُس ذہنیت کے خلاف جو عورت کو سپریسڈ رکھنا چاہتی ہے۔ جو نہیں چاہتی کہ عورت بھی سیاست کرے، قیادت کرے، تجارت کرے، فیصلے کرے، اور وہ سب کچھ کرے جو صدیوں سے صرف مردوں کا حق سمجھا جاتا رہا ہے۔”

پھر وہ اپنی جیب سے سگریٹ کی ایک پچکی ہوئی ڈبی نکالتا ہے۔ ماچس کی تیلی رگڑ کر سگریٹ سلگاتا ہے اور آنکھیں موند کر ایک لمبا کش لینے کی کوشش کرتا ہے۔

تمباکو کی بُو میرے حلق میں کانٹے کی طرح اترتی ہے۔ بےاختیار میری کھانسی پھوٹ پڑتی ہے۔ میں ناگواری سے اُسے کچھ کہتی ہوں۔ وہ میری طرف دیکھ کر صرف ہنس دیتا ہے، پھر شرارت سے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیتا ہے۔

منظر ایک بار پھر اپنی جگہ بدل دیتا ہے۔

اب ہم چار لوگ آگ کے گرد بیٹھے ہیں۔ شعلوں کی روشنی اُس کے چہرے پر لرز رہی ہے۔ وہ پھر سگریٹ جھک کر آگ سے سلگاتا ہے، میں پھر اُسے ڈانٹتی ہوں، اور وہ پھر ویسے ہی ہنس دیتا ہے…

پھر سب کچھ دھندلا جاتا ہے۔

کبھی ہم کسی ساتھی کے زخم سی رہے ہوتے ہیں۔ کبھی کسی تازہ قبر کے سرہانے بیٹھے اُس سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں، کبھی وہ میرے آگے چل رہا ہوتا ہے اور میں اُس کے قدموں کے نشانوں پر قدم رکھتی جاتی ہوں۔
کبھی چلتن ، کبھی بولان ، منظر بدلتے رہتے ہیں… لمحے آتے ہیں، مجھ سے ٹکراتے ہیں، اور پھر ریت کی طرح انگلیوں سے پھسل جاتے ہیں۔

اتنی ساری یادیں لوٹ آئی ہیں… مگر ایک چیز اب بھی گم ہے۔۔۔ مجھے اب تک اُس کا نام یاد نہیں آتا۔

آخر… وہ ہے کون؟ اور اب وہ کہاں ہے؟

“بات سنو۔”

“ہمم؟”

ہم دونوں اسی ٹوٹی ہوئی دیوار سے ٹیک لگائے سامنے دیکھ رہے تھے۔ جب میں نے خاموشی توڑ دی

“تمہیں کبھی لگا کہ جنگ مردوں کی چیز ہے؟”

“ہاں، پہلے لگتا تھا۔ اور تمہیں؟”

“نہیں۔ مجھے ہمیشہ یہی لگا کہ جنگ اُن لوگوں کی چیز ہے جو پریولیجڈ نا ہوں ، جن سے سب کچھ چھین لیا گیا ہو، خواہ مرد ہوں یا عورت۔”

“کیسے؟”

“تم نے ایمیزون عورتوں کے بارے میں سنا ہے؟”

“نہیں تو۔”

“دنیا بھی صدیوں تک اُن سے بےگانہ رہی۔ پھر سکیتھیا کی قبریں کھودی گئیں۔ عورتوں کے ڈھانچے ملے، اُن کے ساتھ تیر، تلواریں اور گھوڑوں کا سازوسامان بھی دفن تھا۔ حتہ کہ کئی ہڈیوں پر جنگ کے زخموں کے نشان تھے۔ تب جا کر لوگوں کو ماننا پڑا کہ وہ حقیقت میں جنگجو تھیں۔” ۔۔۔۔ “اور تم جانتے ہو؟”

“کیا؟”

“بودیکا برطانیہ کے آئسینی قبیلے کی ملکہ تھی۔ اُس کے شوہر نے مرنے سے پہلے اپنی سلطنت اپنی بیٹیوں اور رومی شہنشاہ کے درمیان تقسیم کر دی تھی تاکہ اس کے خاندان کو تحفظ مل جائے، مگر رومیوں نے وعدہ توڑ دیا۔ اُنہوں نے بودیکا کو سرِعام کوڑے مارے، اُس کی دونوں بیٹیوں کی بے حرمتی کی اور اس کی قوم کی زمینیں ضبط کر لیں۔ کہتے ہیں اسی دن ایک ملکہ ختم ہوئی اور ایک جنگجو نے جنم لیا۔ بودیکا نے مختلف قبائل کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا اور رومی سلطنت کے خلاف ایسی بغاوت کی کہ تین بڑے رومی شہر راکھ میں بدل گئے۔ وہ آخرکار جنگ ہار گئی، مگر دوبارہ رومیوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے بجائے اس نے زہر پی لیا۔ آج بھی لندن میں اس کا مجسمہ اپنے رتھ پر کھڑا ہے، وہ اب تک اپنی آخری یلغار کی طرف بڑھ رہی ہے۔”

“ہاں اُس کے نام پر ایک فلم بھی تو ہے، وہی نا؟”

“ہاں ہاں وہی”

“اب کچھ کہوں گا تو ڈانٹوگی مگر اُس شکل کی ایک بودیکا ہمارے پاس بھی تو ہے ”

“کون؟”

“چھوڑو یار”

بے اختیار ہم دونوں ہنسنے لگے۔

ہنستے ہنستے میری آنکھوں میں پانی آگیا، اور شاید پہلی بار میں اُسے اتنی وضاحت سے دیکھ سکی۔

وہ انگلیوں کے درمیان سگریٹ دبائے قہقہہ لگا رہا تھا۔ روشندان سے چھن کر آتی دھوپ اُس کے چہرے پر بکھر رہی تھی۔ عمر میں وہ مجھ سے دس یا شاید پندرہ، برس بڑا ہوگا۔ روشنی کے سبب اُس کی آنکھیں ہلکی بھوری رنگ کی دکھائی دے رہی تھیں، اور اُس کے کندوں تک آتے بالوں میں بھی ویسا ہی رنگ گھلا ہوا تھا۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ جب وہ ہنستا ہے تو اُس کی آنکھیں چھوٹی ہو جاتی ہیں۔ پہلے تو اُس کے گال میں کبھی ڈمپل بھی پڑتا تھا، مگر اب گھنی نسواری داڑھی نے اُسے اپنی اوٹ میں چھپا لیا ہے۔

ہاں… یہ میرا دوست تھا۔ شاید بہت قریبی دوست۔ ہم ایک ہی ساتھ اس جنگ کا حصہ بنے تھے۔

جب پہلی بار وہ جبری گمشدگی کا نشانہ بن کر مہینوں بعد واپس آیا تو ہم دونوں کرخسہ کی پہاڑیوں پر گئے تھے۔ وہاں اُس نے پہلی بار مجھے بتایا تھا کہ قید کے اُن دنوں میں اُس کے ساتھ کیا کیا ہوا… کس طرح تشدد کیا گیا… کس طرح ہر دن ایک الگ عذاب تھا۔

پھر اچانک وہ خاموش ہوگیا تھا۔

کافی دیر بعد آہستہ سے بولا تھا،

“سب سے عجیب بات جانتی ہو کیا تھی؟”

میں نے نفی میں سر ہلایا۔

وہ مسکرایا۔

“مجھے وہاں تم بہت یاد آتی تھیں۔”

میں بے اختیار ہنس پڑی تھی۔

“میں؟ آخر کیوں؟”

“تمہارا ڈانٹنا… وہاں بیٹھے بیٹھے میں سوچتا تھا کہ، کاش ایک بار پھر کہیں سے سگریٹ مل جائے اور تم پھر مجھے ڈانٹ دو۔”

میں نے اُس کے کندھے پر ہلکا سا تھپڑ مارا تھا، اور وہ بچوں کی طرح ہنسنے لگا تھا…

اچانک…

جیسے کسی نے تلاب میں پتھر دے مارا ہو۔ تمام منظر ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا۔

اور اب میں پھر اُسی منحوس کمرے میں تھی۔ وہی کمرہ جہاں پچھلے پندرہ دنوں سے میں قید تھی۔

پھر وہی سر کے اندر اٹھتی ہوئی درد کی لہر… پھر وہی سوئیاں، جو میری رگوں میں اتاری جا رہی تھیں۔

وہ لڑکی اب بھی میرے پہلو میں بیٹھی، بڑی احتیاط سے میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی اور دھماکوں کے وقت میرے سر میں پیوست ہو جانے والے باریک شریپنل ایک ایک کر کے نکال رہی تھی۔ جب بھی چمٹی میں دھات کا کوئی ننھا سا ذرہ آتا، میری پلکیں بےاختیار بھینچ جاتیں، اور درد سے ایسے محسوس ہوتا جیسے میری روح میرے جسم سے الگ ہورئی ہے۔

مجھے اب بھی کسی کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ سب کے ہونٹ ہلتے تھے، مگر میرے کانوں تک کچھ پہنچ نہ پاتا تھا۔

بس ایک نام تھا… جو پچھلے پندرہ دنوں سے بار بار میرے کانوں سے ٹکرا رہا تھا۔

شیرزال۔

پھر وہی نام۔

شیرزال۔

آخر کون ہے یہ شیرزال؟ جس کا نام اتنے احترام سے لیا جاتا ہے۔ کیا وہ بھی اِن کی طرح کوئی ڈاکٹر ہے؟ یا کوئی جنگجو؟ یا شاید دونوں؟

میرے جسم کی تکلیف اب ایک ہی امید سے بندھ گئی تھی۔.. کاش وہ آئے۔ کاش وہ ایک بار میرے سامنے آ جائے۔ شاید وہ میری اس اذیت کو کم کر سکے۔ اب میں شدت سے اُس کا انتظار کرنے لگی تھی۔

اسی اثنا میں ایک اور آدمی کمرے میں داخل ہوا۔ وہ میرے پہلو میں بیٹھی لڑکی سے کچھ کہہ رہا تھا، مگر حسبِ معمول اُس کی آواز مجھ تک نہیں پہنچی۔ دونوں کے درمیان چند لمحے آہستہ آہستہ بحث ہوتی رہی۔ پھر اُس نے اپنی جیب سے ایک شیشی نکال کر اُسکی گردن توڑی، اندر بھری دوا احتیاط سے سرنج میں منتقل کی، اور بغیر کچھ کہے میرے بازو میں اُتار دی۔

چند ہی لمحوں میں کمرے کی دیواریں دھندلانے لگیں۔

روشنی پگھلنے لگی۔ چہرے بہنے لگے۔

اور پھر…

میں ایک وسیع میدان کے بیچ کھڑی تھی۔

جہاں تک نگاہ جاتی، سرسوں کی گھنی فصلیں ہوا کے ساتھ لہرا رہی تھیں۔ اُن کے بیچ کھلے ننھے زرد پھولوں نے زمین کو یوں ڈھانپ رکھا تھا جیسے کسی نے دھوپ کو کاٹ کر مٹی میں بو دیا ہو۔

میرا دوپٹہ قریب ہی دراڑوں والی زمین پر بچھا تھا، اور ہم دونوں سرسوں کے نرم پتے توڑ توڑ کر اُس پر جمع کیے جا رہے تھے۔ عصر کا وقت تھا۔ سورج آہستہ آہستہ افق کی طرف جھک رہا تھا، اور اُس کی سنہری روشنی میرے بالوں میں الجھ کر انہیں چمکا رہی تھی۔

میرے ساتھ وہی ساتھی تھا۔ اس بار اُس کے ہاتھ میں ایک پولاروئیڈ کیمرا تھا۔

اچانک ایک سنہری تتلی آ کر میرے بازو پر بیٹھ گئی۔

میرے دونوں ہاتھ سرسوں کے پتوں سے بھرے ہوئے تھے، اور شاید میرے سیاہ لباس نے اُس تتلی کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔

وہ یہ منظر دیکھتے ہی چونک اٹھا۔ جلدی سے اُس نے کیمرا میری طرف اٹھایا۔

کلک۔

شٹر کی آواز کے ساتھ تتلی اُڑ گئی۔

منظر بدلا۔

ہم دونوں پھر سے ایک ٹوٹی ہوئی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہی تھے کہ دائیں جانب سے وقفے وقفے سے گولیوں کی آواز آنے لگی۔

“تم یہیں رہو، اگر ضرورت پڑی تو بلا لوں گی۔”

میں نے اتنا کہا اور قریب پڑی اپنی پی کے ایم اٹھا لی۔ بندوق کا پٹہ کندھے پر درست کیا اور ٹوٹی ہوئی دیواروں، ادھڑے کمروں اور خالی کھڑکیوں کی اوٹ لیتے ہوئے آگے بڑھنے لگی۔ ہر چند لمحوں بعد ایک آدھ فائر ہوتا، پھر خاموشی چھا جاتی۔

آخر ایک شکستہ دیوار کے پیچھے رک کر میں نے سر ذرا سا بلند کیا۔ سامنے والی پہاڑی کی اوٹ سے دھوپ کسی دھات پر چمکی۔ اگلے ہی لمحے ایک اور فائر ہوا۔ اب مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ فائرنگ کہاں سے آ رہی ہے۔ میں نے بندوق کی نال ایک پتھر پر جما دی، سانس روکی اور نشانہ باندھ لیا۔

صرف ایک فائر۔

اگلے ہی لمحے ایک رائفل لڑکھڑاتی ہوئی پہاڑی سے نیچے گری، اور اُس کے ساتھ وہ آدمی بھی جو اُسے تھامے بیٹھا تھا۔

چند لمحے وہیں کھڑی رہی۔ جب یقین ہو گیا کہ ہر طرف سکوت ہے تو بندوق دوبارہ کندھے پر ڈالی اور واپس چل پڑی۔

وہ اب بھی دیوار کے پاس کھڑا تھا۔ شاید میری طرف آنے کے لیے ابھی ابھی اپنی بندوق سنبھالی تھی۔ اُس نے مجھے دیکھا، حسبِ معمول مسکرایا، اور دیوار کی اوٹ سے نکل کر میری طرف بڑھنے لگا۔

میں بھی اُس کی طرف ایک قدم بڑھانے ہی والی تھی کہ اچانک ایک ایسا دھماکہ ہوا جس نے میرے زمین اور آسمان دونوں کو ہلا دیا۔ میرے سامنے مٹی، پتھر اور دھواں ایک ساتھ بلند ہوئے۔ ہر چیز ایک ہی لمحے میں سفید دھند میں گم ہو گئی۔ مجھے کچھ دکھائی دینا بند ہو گیا…

اور پھر میں ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ ایک تیز، جسم چیر دینے والی آواز میرے کانوں میں گونجنے لگی۔ الفاظ ایسے تھے کہ مجھے محسوس ہوا جیسے میرا کلیجہ میرے منہ تک آ جائے گا۔

وہی لڑکی میرے سرہانے بیٹھی کسی کتاب میں جھکی ہوئی تھی اور دھیمی آواز میں پڑھ رہی تھی۔

“مُرے شار…
ہمپہ یار…

پد نے آن…
چٹ بے سار…

یکا دون…
نی بے وار…

نن تل کین…
مف دیدار…

اس باتیل…
ہسُر چار…

مِشتا عشق…
مَشتا مار…”

بس… خدا کے لیے بس کرو… خاموش ہو جاؤ…

میرے ہونٹ کانپتے ہوئے بمشکل یہ الفاظ ادا کر سکے۔ آنکھوں سے آنسو بےاختیار بہنے لگے۔ میں اُس سے التجا کرنے لگی کہ وہ پڑھنا بند کر دے۔

وہ گھبرا کر فوراً میری طرف لپکی۔

میں نے دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا اور بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

“مجھے کچھ نہیں معلوم… کچھ بھی یاد نہیں… میرا جسم اس بستر سے بندھ گیا ہے… میں جنگ نہیں لڑ پا رہی… وہ شخص کون ہے؟… اُسے بلا دو… خدا کے لیے اُسے میرے پاس بلا دو…”

وہ کچھ نہ بولی۔

بس مجھے اپنے بازوؤں میں سمیٹ کر خاموش کرانے کی کوشش کرتی رہی۔ میری پیشانی سہلاتی رہی، اور بار بار ایک ہی نام دہراتی رہی۔

“شیرزال… شیرزال…”

میں اچانک ساکت ہو گئی۔

میں نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔

“کون…؟”

وہ بھی حیرت سے مجھے دیکھنے لگی۔

“شیرزال… کیا ہوا تمہیں؟”

اُسی لمحے میرے حافظے کے بند دریچے یکایک وا ہو گئے، اور میری شناخت، جو پندرہ دن سے کہیں کھو گئی تھی، میرے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

منظر بدل گیا۔

ہم ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے تھے۔ سامنے نقشے، چند میگزین اور آدھی پی ہوئی چائے کے مگ پڑے تھے۔ میرے ساتھ وہی ساتھی بیٹھا تھا، اور ایک اور سنگت بھی۔ وہ دونوں کسی بات پر بحث کر رہے تھے۔

اچانک اُس نے میری طرف دیکھا۔

“اتنی دور تک… اتنی ضد، اتنا حوصلہ اور اتنا سکون ساتھ لے کر صرف ایک شیرزال ہی آ سکتی ہے۔”

میں ہنس پڑی۔

“شیرزال؟ یہ بھی کوئی نام ہوا؟”

وہ بھی مسکرایا۔

“شیر صرف لڑنا جانتا ہے، مگر شیرزال جانتی ہے کب لڑنا ہے، کب خاموش رہنا ہے، اور کب دوسروں کو اپنے ساتھ لے کر چلنا ہے… تم مجھے ویسی ہی لگتی ہو۔”

کمرے میں بیٹھے تیسرے سنگت نے ہنستے ہوئے کہا،

“بس پھر طے رہا… آج سے تمہارا نوم دے گئیر ‘شیرزال’۔”

میں نے نفی میں سر ہلایا، مگر وہ دونوں ہنسنے لگے۔

پھر منظر ایک بار پھر بکھر گیا۔

میں اُسی ٹوٹی ہوئی دیوار کے پاس گری پڑی تھی۔

میرے پہلو میں وہی ساتھی بےحرکت پڑا تھا۔ اُترائی کی وجہ سے اُس کے زخموں سے بہتا ہوا خون آہستہ آہستہ میری طرف سرک رہا تھا۔

اُسی لمحے۔ شناسہ قدموں کی چاپ میرے قریب آ کر رکی۔

“شیرزال…!”

ہمارے ہی ساتھی تھے۔

اُس نے میرے کندھے کو ہلایا۔

“شیرزال… اُٹھو!”

پھر اُس کی آواز میں گھبراہٹ گھل گئی۔

“کامریڈ…!”

اگلے ہی لمحے کئی ہاتھ ہم تک پہنچے۔ مجھے اور میرے کامریڈ کو احتیاط سے اٹھایا گیا، اور دنیا ایک بار پھر میری آنکھوں کے سامنے دھندلانے لگی۔

موجودہ دن۔۔۔

میرے سامنے اُس کی رائفل رکھ دی گئی تھی۔

وہی رائفل… جس کے بٹ کے نچلے حصے میں لینیارڈ کی رنگ سے چمڑے کی ایک باریک ڈوری بندھی تھی۔ اُس ڈوری میں تین چھوٹے چھوٹے موتی پروئے ہوئے تھے۔

سبز… سرخ… اور نیلا۔

بھاری قدم اٹھاتے ہوئے میں اُس قبر نما کمرے سے باہر نکلی۔

چاروں طرف بے حس، سر بلند، شیرزال پہاڑ تھے۔…

اُن پہاڑوں کے درمیان تین قبریں تھیں۔ دو پرانی، تیسری ابھی نئی تھی۔ اُس کی مٹی اب تک تازہ تھی، اور سرہانے وہی تین رنگ ہوا میں ہلکے ہلکے لہرا رہے تھے۔

کیا ایک انسان کے چلے جانے سے تحریکیں ختم ہو جایا کرتی ہیں؟

کیا میں صرف اس لیے پلٹ جاؤں کہ اس سفر نے مجھ سے میرا ایک ساتھی لے لیا؟

کیا میں اُس رائفل کا وزن زمین پر رکھ دوں جسے اُٹھانے کی قیمت کسی نے اپنی پوری زندگی سے ادا کی؟

میں نے سر اُٹھایا، اور پوری قوت سے وہ نظم اُسی جگہ سے پڑھنا شروع کردی جہاں سے میں نے اُسے رکوایا تھا۔

باخو خمپ۔۔
بزغر خوار۔۔

کاٹم لکھ ۔۔
اف دستار !!

کشکا اُست ۔۔
تف غدار !!

دنیا ساز ۔۔
ای بے تار !!!!

ارپہ دُن۔۔
مر بیدار !!

مُرے شار
ہمپہ یار۔۔۔ !!

مُرے شار
ہمپہ یار۔۔۔ !!

یہ کہہ کر میرا گلہ رندھ گیا اور آنسوں کا ایک گولہ میرے گلے میں پھنس گیا۔

اگلے ہی لمحے میری انگلیوں نے ایک میسج ٹائپ کرکے ارسال کردیا۔

“میں اپنا فیصلہ کرچکی ہوں سنگت”


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔