کابُوس – سنگت ھانلی

23

کابُوس

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

پردے کے اُس پار ایک سیاہ گھوڑا اندھیرے سے جھانک رہا ہے، مگر محورِ توجہ وہ نہیں۔ نگاہ خودبخود اُس عورت پر جا ٹھہرتی ہے جو بستر پر لاچار پڑی ہے۔ اُس کے بازو ڈھلک کر نیچے لٹک رہے ہیں، سر کنارۂ بستر سے جھکا ہوا ہے، وہ مردہ نہیں، مگر وہ زندہ بھی یوں نہیں جیسے جاگتے ہوئے انسان زندہ ہوتے ہیں۔ وہ نیند اور بیداری کے درمیان عالم بے خودی میں معلق معلوم ہوتی ہے۔

پھر تمہاری نگاہ اُس کے سینے تک پہنچے گی۔ اور اچانک محسوس ہوگا کہ اس کمرے کی تمام بدصورتی ایک ہی وجود میں سمٹ آئی ہے۔
ایک چھوٹی سی، بد شکل و بد ڈول مخلوق، نہ وہ انسان ہے، نہ کسی معلوم نسل سے تعلق رکھنے والی حیوان۔ اُس کے چہرے میں ایسی کراہیت ہے جسے دیکھ کر نفرت تو محسوس ہوتی ہے، مگر نفرت کے پہلو بہ پہلو خوف بھی سر اٹھاتا ہے۔

سن 1781ء میں سوئس نژاد پینٹر ہنری فوسیلی نے دی نائٹمئیر کے نام سے یہ پینٹنگ تخلیق کی۔

البتہ پردے کے پیچھے سے جھانکتا ہوا سیاہ گھوڑا فوسیلی کا ایک فلسفیانہ مذاق ہے۔ آج نائٹمئیر کے لفظ میں mare کو دیکھ کر ذہن بے اختیار گھوڑی کی طرف جاتا ہے، چنانچہ اُس نے اسی التباس کو ذہن الجھانے کے لیے تصویر کا حصہ بنا دیا۔ حالانکہ نائٹمئیر کا mare گھوڑا نہیں، بلکہ قدیم انگریزی کا mære ہے، ایک ایسی خبیث اور شریر مخلوق جس کے بارے میں یہ عقیدہ تھا کہ وہ رات کی تاریکی میں سوئے ہوئے انسان کے سینے پر آ بیٹھتی، اُس کا دم گھونٹتی اور اُسے خوف میں مبتلا کر دیتی۔ یہی مخلوق نارس میں Mara، جرمن زبان میں Nachtmahr، فرانسیسی میں Cauchemar اور پولش میں Zmora کے نام سے زندہ ہے۔ دیکھنے والی آنکھ اکثر پردے کے پیچھے جھانکتے گھوڑے میں اُلجھی رہتی ہے، جبکہ اصل کابوس اُس کے عین سامنے بیٹھا ہوتا ہے۔

کارل یونگ ایک سائیکولاجسٹ تھا جس کے نزدیک کابوس وہ سچائیاں ہوتی ہیں جنہیں انسان جاگتی آنکھوں سے دیکھنے سے انکار کر دیتا ہے۔ انسان کا انکانشئیس اُنہیں اپنے اندر چھپائے رکھتا ہے، مگر جب اُن کا بوجھ حد سے بڑھ جائے تو وہ رات کے اندھیرے میں کابوس بن کر لوٹ آتے ہیں۔

اگر یونگ درست تھا تو میرے کابُوس کی صورت اُس بدنُما mære سے ہزاروں گُنا زیادہ ہولناک ہے۔ مُجھے نائٹ مئیرز تو آتے ہیں مگر بھوت پریت کی جگہ ایک پیرالل یونیورس آباد ہو جاتی ہے۔ وہاں میرا کاز انسانوں کی طرح مرکر کفن اوڑھ لیتا ہے اور خود ہی قبر میں جاکر سو جاتا ہیں، جہاں میں اپنی آخری گولی کے فلسفے پر عمل کرنے سے پہلے ہی دشمن کے ہاتھ لگ جاتی ہوں۔ جہاں غلامی مجھے آزادی سے زیادہ عزیز لگنے لگتی ہے، جہاں میں مراعات کے لیے اپنی قوم بیچ ڈالتی ہوں، جہاں بڑھاپا میرے ہاتھ میں میرے بیٹے کی تصویر تھما دیتی ہے، جہاں میرے ساتھ میری ماں میری تصویر لیے مجھے ہی ڈھونڈ رہی ہوتی ہے، جہاں قبرستان بستیوں سے زیادہ تیزی سے آباد ہوتے ہیں، جہاں بھوک کی عمر میری قوم کے بچے کی عمر سے طویل ہو جاتی ہے، جہاں میری قوم کی آنکھوں سے غیرت، آزادی کی امید اور خواب ایک ایک کر کے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں۔ جہاں ایک خود پرست اور مفاد پرست رہنما کے گرد ہجوم بڑھتا جاتا ہے اور پہاڑوں پہ گاٹ دیتے سپائی کے لیے محبت کم ہوتی جاتی ہے۔ جہاں میری زمین مکمل طور پر فروخت ہو چکی ہوتی ہے، اور اجنبی اُس پر مالکوں کی طرح چل رہے ہوتے ہیں۔ جہاں ہر روز میرے بچوں کی ڈرلڈ لاشیں میرے آنکھوں کے سامنے پھینک دی جاتی ہے۔ ایک نائٹ مئیر ایسا ہے جس میں مَیں دشمن کے ساتھ کھڑی ہوتی ہوں اور ایک نائٹمئیر ایسا ہے جس میں مَیں اُس کے جبر کی شکایت کرتے ہوئے صرف اُسے برداشت کرتی ہوں مزاحمت نہیں کرتی۔

خبیث mære کے دل میں اتنا رحم ضرور ہوتا ہے کہ اُس کا خوف صبح کی روشنی کے ساتھ ہی گار ہو جاتا ہے، مگر میرے وحشت بھرے کابوس صبح و شام میرا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔

سن 1886ء میں جرمن فلسفی فریڈرک نطشے کی کتاب Beyond Good and Evil شائع ہوئی، جس میں اُس نے لکھا

“Whoever fights monsters should see to it that in the process he does not become a monster. And if you gaze long enough into an abyss, the abyss will gaze back into you.”

نطشے کی تنبیہ اپنی جگہ، مگر میرے نزدیک ہر عفریت ڈیمن پنجے، سینگ یا دانت لے کر نہیں آتا۔ بعض عفریت نظریات کی صورت میں جنم لیتے ہیں، بعض تنگ ذہنی کی صورت میں، بعض خوف کی صورت میں، بعض مفاد کی صورت میں، اور بعض اُن سمجھوتوں کی صورت میں جنہیں انسان روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان کو عفریت سے نہیں، اپنے ہی عکس سے خوف آنے لگتا ہے۔ اسی لیے مجھے ہمیشہ یہ سوال بے چین کرتا ہے کہ نطشے نے عفریت سے لڑتے لڑتے خود عفریت بن جانے سے تو خبردار کیا، مگر یہ کیوں نہ کہا کہ بعض اوقات عفریت سے نہ لڑنا بھی انسان کو آہستہ آہستہ اُسی عفریت کا حصہ بنا دیتا ہے کیونکہ جب انسان ظلم و باطل کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتا ہے، تو ضروری نہیں کہ وہ عفریت کا شکار رہے، وہ دوسروں کے لیے خود زیادہ خطرناک مونسٹر، ڈیمن اور عفریت بن جاتا ہے۔

یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا میں خود تو ایک ڈیمن نہیں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ایک عام انسان عفریت کیسے بن جاتا ہے؟ اس سوال کا سب سے ہولناک جواب مجھے چند مہینے پہلے پڑھنے والی ایک کتاب میں ملا۔ سن 1963ء میں میری پسندیدہ فلسفی ہانا آرنٹ کی ریپورٹ کتاب
Eichmann in Jerusalem
شائع ہوئی۔ یہ دراصل 1961ء میں یروشلم میں چلنے والے نازی افسر Adolf Eichmann کے مقدمے پر مبنی ایک رپورٹ تھی، جسے کور کرنے کے لیے آرنٹ خود وہاں گئی تھیں۔

اُنہوں نے دیکھا کہ جو شخص لاکھوں انسانوں کے قتل کا ذمہ دار ہے، وہ نہ کوئی پاگل تھا، نہ خون کا پیاسا، نہ ہی خوفناک چہرے والا کسی ہارر فلم کا ولن۔ وہ ایک نہایت معمولی سا سرکاری افسر تھا، جو بار بار صرف ایک ہی جملہ دہراتا تھا:

“I was just following orders.”

اسی مشاہدے کے بعد ہانا آرنٹ نے اپنا مشہور نظریہ The Banality of Evil پیش کیا۔ اُن کے نزدیک دنیا کی ہولناک برائیاں غیر معمولی شیاطین کے ہاتھوں نہیں، بلکہ ایسے عام انسانوں کے ذریعے جنم لیتی ہیں جو سوچنا چھوڑ دیتے ہیں، اپنے ضمیر کو خاموش کر دیتے ہیں، اور حکم ماننے کو اپنی آخری اخلاقی ذمہ داری سمجھ لیتے ہیں۔

مجھے اپنے کابوس میں کبھی کوئی ایک ڈیمن یا کسی ایک مخصوص شکل کا عفریت دکھائی نہیں دیتا۔ مجھے ہمیشہ اُس کے گرد ایک ہجوم دکھائی دیتا ہے۔ وہ لوگ جو اُسے روکتے نہیں۔ وہ لوگ جو اُس کے لیے تالیاں بجاتے ہیں۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں

“I was just following orders.”

ہر ڈکٹیٹر کے نیچے ہزاروں ایچ مین موجود ہوتے ہیں۔ کیونکہ برائی کبھی ایک آدمی کے بل بوتے پر زندہ نہیں رہتی، اُسے زندہ رکھنے کے لیے بے شمار عام انسان درکار ہوتے ہیں۔ اُن میں کچھ جابر ہوتے ہیں، کچھ جبر سہنے والے، کچھ قابض، کچھ مقبوض، مگر سب اُس ایک ہی لمحے میں ایک جیسے ہو جاتے ہیں، جب وہ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے میرے کابوس کسی ایک مونسٹر کے نہیں ہوتے۔ اُن میں ہزاروں عفریتیں ہوتی ہیں۔ اُن سب کے چہرے حیرت انگیز حد تک انسانوں جیسے ہوتے ہیں۔

اگر میرے خواب مجھے اسی ہجوم سے خبردار کر رہے ہیں، تو پھر اُنہیں نظرانداز کرنا کیا خود ایک اور کابوس کو جنم دینا نہیں؟ اب وقت آ گیا ہے کہ پردے کے پیچھے جھانکتے ہوئے گھوڑے کو اُس کی اصل حیثیت میں دیکھا جائے، جوو ایک لطیفے، ایک فلاسفکل مذاق سے زیادہ نہیں، گھوڑا محض ایک ایسا التباس ہے جو نگاہ کو اصل خطرے سے ہٹا دیتا ہے۔ اصل mære تو وہ ہے جو ہمارے سینوں پر بیٹھا ہے، ہمارا دم گھونٹ رہا ہے، اور ہمیں یہ یقین دلا رہا ہے کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔

کابوس ایک ریولوشنری کے دل میں خوف پیدا کرنے نہیں آتے، وہ بیدار کرنے آتے ہیں۔ اُن کی اصل معنویت اسی لمحے ختم ہو جاتی ہے جب انسان جاگنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ لیکن اگر وہ جاگنے سے انکار کر دے، تو پھر کابوس ایک حقیقت بن جاتا ہے۔

ہنری فوسیلی کی پینٹنگ میں صرف ایک عورت بے بسی کی نیند میں ڈوبی ہوئی ہے، اور اُس کے سینے پر ایک mære بیٹھا ہے۔ لیکن اگر آج میں یہی منظر بناؤں، تو اُس بستر پر ایک فرد نہیں بلکہ اپنی پوری قوم کو سلا رہی ہونگی۔ اُن کے سینے پر الگ الگ نہیں، ایک ہی عفریت بیٹھا ہوگا، اور پردے کے پیچھے جھانکتا ہوا گھوڑا اب بھی اُن لوگوں کی توجہ بانٹ رہا ہوگا جو اصل کابوس کو پہچاننے سے انکار کرتے ہیں۔

سائنس کہتی ہے کہ ایک عام خواب اور ایک لوسڈ ڈریم میں فرق صرف اتنا ہے کہ خواب دیکھنے والا یہ جان لے کہ وہ خواب ہی دیکھ رہا ہے۔ جس لمحے یہ ادراک جنم لیتا ہے، دماغ کا وہی حصہ متحرک ہو جاتا ہے جو جاگتی آنکھوں میں والنٹری فیصلے کرتا ہے۔ خواب ختم نہیں ہوتا، مگر خواب دیکھنے والا اب اُس کا اسیر نہیں رہتا، وہ اُس کے اندر ہی جاگ اٹھتا ہے۔

یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے مزاحمت جنم لیتی ہے، اُس کابُوس کے ختم ہونے سے پہلے کابوس کے اندر ہی ہوش آجانے سے۔ جب mære کا وزن محسوس ہو، اور جب پردے کے پیچھے جھانکتا ہوا گھوڑا اب مزید دھوکہ نہ دے سکے۔

فرانز فینن نے لکھا تھا کہ ہر نسل کو اپنا مشن خود دریافت کرنا ہوتا ہے، پھر چاہے وہ اُسے پورا کرے یا اُس سے غداری کر جائے، یہ فیصلہ ہر بار دھند میں لپٹا ہوا آتا ہے۔ کوئی نسل مکمل روشنی میں فیصلہ نہیں کرتی۔ ہر نسل کو اپنی آنکھیں خود کھولنی پڑتی ہیں، اپنے کابوس کو خود پہچاننا پڑتا ہے۔ میری نسل کے سامنے بھی وہی دھند ہے، وہی بستر ہے، وہی سیاہ گھوڑا پردے کے پیچھے کھڑا ہمیں الجھائے رکھنے پر مصر ہے۔

سو آج، اسی دھند میں، اُسی کابوس کے عین درمیان، میں بس اتنا جانتی ہوں کہ اب کوئی نائٹ مئیر، کوئی گھوڑا مجھ پر غالب نہیں آ سکتا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔