ایتھنز سے شال تک
تحریر: سنگت ھانلی
دی بلوچستان پوسٹ
سقراط سے فکری نسبت، فلسفیانہ شعور اور ذہنی ہم آہنگی رکھنے والے یقیناً کم نہ ہوں گے۔ اُس کا نام سُنتے ہی زہر کا پیالا ، ایتھنز کی عدالت اور اپنے استاد کے آخری لمحے قلم بند کرتا افلاطون بھی غالباً ذہن میں آتا ہی ہوگا مگر اس انجام تک پہنچنے والے سفر کو سمجھے بغیر سقراط کو سمجھنا ممکن نہیں۔ اس سفر کی تین بنیادی کتابیں ہیں؛ کریٹو ، اپالوجی اور فیڈو۔
ان کتابوں کے صفحات میں درج مکالموں کو پڑھتے ہوئے ایک متجسس قاری اور ایک ادنیٰ لکھاری ہونے کے ناطے آج میں بے اختیار زمانوں کے درمیان مماثلتیں ڈھونڈنے لگی اور پھر صدیوں کے فاصلوں کے باوجود میں ایتھنز سے شال تک ، پانچ سو ایک ایتھنوی منصفین سے جج علی مُبین تک، ہیلیئیا کورٹ سے اے ٹی سی کوئٹہ تک، زہر کے پیالے سے بھوک ہڑتال تک، اور بالآخر سقراط سے ماہ رنگ تک ان بکھرے ہوئے نقطوں کو ایک ہی لکیر میں پروتی چلی گئی۔
المختصر سقراط ایتھنز شہر کا ایک فلسفی تھا جس نے خود کو کسی مکتبِ فکر کی تدریس تک محدود نہیں رکھا اور شہر کے عوامی مقامات پر شاعروں، سیاست دانوں، اہلِ حرفت اور بالخصوص نوجوانوں کے تصورات کو پرکھتا اور مکالمے کے ذریعے سچائی تک پہنچنے کی کوشش کرتا۔ اسی وجہ سے اس کے گرد نوجوانوں اور اہلِ فکر کا ایک حلقہ وجود میں آیا، جبکہ دوسری جانب شہر کے بااثر طبقات اسے اپنے اقتدار اور فکری بالادستی کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔
آخر کار 399 قبلِ مسیح میں اس کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا۔ اس پر دو بنیادی الزامات عائد کیے گئے: شہر کے تسلیم شدہ خداؤں کا انکار اور نوجوانوں کو گمراہ کرنا۔ پانچ سو ایک ایتھنوی منصفین پر مشتمل عدالت میں اسے سزا ء موت سنائی گئی۔
مقدمے کے فیصلے اور سزائے موت کے اعلان کے بعد بھی سقراط کو فوراً قتل نہیں کیا گیا۔ انہی دنوں ایتھنز سے دیوتا اپالو کے مقدس جزیرے، ڈی لوس، کے لیے ایک مذہبی کشتی روانہ ہو چکی تھی۔ شہر کا دستور تھا کہ جب تک وہ کشتی واپس نہ لوٹے، اس دوران کسی بھی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔ یوں عدالت کا فیصلہ سنائے جانے کے باوجود سقراط تقریباً ایک ماہ تک زندان ہی میں رہا۔
پھر وہ صبح بھی آن پہنچی جس کا انتظار اس کے چاہنے والوں کو خوف میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔ ابھی سپیدہ پوری طرح نہیں پھوٹا تھا کہ اس کا شاگرد اور ساتھی کریٹو، زندان میں داخل ہوا۔ وہ کچھ دیر سقراط کو دیکھتا رہا۔ سقراط گہری اور پُرسکون نیند سو رہا تھا۔ جب وہ بیدار ہوا تو پوچھا: “کریٹو، تم اس قدر سویرے کیوں آ گئے؟” کریٹو نے جواب دیا کہ وہ کافی دیر سے موجود ہے مگر اس نے جان بوجھ کر اسے جگایا نہیں، کیونکہ وہ اس حیرت سے باہر نہیں آ رہا تھا کہ موت کا منتظر انسان بھی اس قدر سکون سے کیسے سو سکتا ہے۔
کریٹو نے پھر خبر سنائی کہ مقدس کشتی روانہ ہوچُکی تھی، لیکن وہ نجات کا ایک منصوبہ بھی ساتھ لایا تھا۔ اس نے بتایا کہ قید خانے کے نگہبانوں کو رشوت دے کر راضی کر لیا گیا ہے، درکار رقم کا بندوبست ہو چکا ہے، دوست ہر خطرہ مول لینے کو تیار ہیں، اور شہر سے باہر نکلنے کا راستہ بھی محفوظ ہے۔ اگر سقراط آمادہ ہو جائے تو اسی رات اسے ایتھنز سے نکال کر تھیسالی پہنچا دیا جائے، جہاں اس کے خیرخواہ اس کی حفاظت کریں گے اور وہ اپنی بقیہ زندگی آزادی سے گزار سکے گا۔
کریٹو کی تمام تر گزارشات سننے کے بعد بھی سقراط کے لہجے میں کوئی تذبذب نہ آیا۔ کریٹو کے مطابق سقراط نے سکون سے جواب دیا:
“اے کریٹو! ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ لوگ کیا کہیں گے، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ حق کیا ہے۔ نہ کبھی ظلم کرنا درست ہے اور نہ ظلم کے جواب میں ظلم کرنا۔ اگر میں اپنے ہی اصولوں کے خلاف جا کر فرار اختیار کروں تو میری ساری زندگی کی تعلیمات بے معنی ہو جائے گی۔”
پھر سزا کے وقت اس نے اطمینان سے زہر کا پیالہ لیا، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے نوش کیا، اور اپنے دوستوں سے گفتگو کرتا رہا، یہاں تک کہ زہر نے آہستہ آہستہ اس کے جسم کو اپنے حصار میں لے لیا۔ جب زندگی کی آخری سانسیں باقی رہ گئیں تو اس نے کریٹو کو مخاطب کرکے کہا:
“کریٹو! ہم پر اسقلیپیوس کا ایک مرغ قرض ہے، اسے ادا کر دینا، بھولنا مت۔”
اسقلیپیوس ایک یونانی دیوتا تھا جسے شفا کا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔ صحت یابی پر اس کے نام ایک مرغ قربان کرنا رواج تھا۔ گویا اس نے موت کو روح کی شفا کے طور پر دیکھا، اس لیے یہ “قرض” ادا کرنے کی وصیت کی۔
خیر۔۔ اپنے اصل مضمون سے وفاداری نبھاتے ہوئے، اب رخ کرتے ہیں شال کا۔
ماہرنگ کون ہے؟ اس پر کیا الزامات عائد کیے گئے؟ اس کی جدوجہد کیا تھی؟ اسے کس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا، اور اسے کیا سزا سنائی گئی؟ یہ تمام سوال اپنی جگہ اہم ہیں، مگر میرے لیے اس داستان کا سب سے حیران کن پہلو کچھ اور ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سقراط کو اس کے دوست خفیہ طور پر قید سے نکال لے جانا چاہتے تھے۔ یہ ایک ذاتی منصوبہ تھا، جس کی اخلاقی حیثیت پر خود سقراط نے سوال اٹھایا اور اسے مسترد کر دیا۔ مگر شال کی داستان اس مقام پر ایتھنز سے مختلف نظر آتی ہے۔ یہاں فرار کی راہیں صرف ہم فکروں نے نہیں کھولیں، بلکہ ہر موڑ پر قانون نے خود مفاہمت، مراعات، ملک سے باہر ایک پُرسکون زندگی اِن شارٹ بلوچ خون کے بدلے ڈیلز بھی ان کے سامنے رکھے۔ اگر وہ چاہتی تو شاید ایک نسبتاً آسان زندگی کا انتخاب کر سکتی تھی۔
انڈرگراؤنڈ چلے جانا، ریاست کی پیش کردہ مراعات قبول کر لینا، یا بقا اور پُرسکون زندگی کے عوض راہِ فرار اختیار کر لینا، عمر قید کاٹنے سے کہیں زیادہ آسان اور شاید زیادہ سودمند انتخاب ہو سکتا ہے، مگر کچھ ہوتے ہیں سقراط صفت لوگ ، جو زہر کے پیالے کو بھی خندہ پیشانی سے قبول کر لیتے ہیں۔
جس طرح سقراط پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ ایتھنز کے نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے، بعینہٖ اسی طرح ماہ رنگ پر بھی یہی تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ بلوچ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسا رہی ہے، انہیں احتجاج، مزاحمت اور ریاستی بیانیے سے انحراف کی طرف لے جا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی معاشرے میں فکری اثر پیدا نہ کر رہا ہو تو ریاست بھی اس سے اس قدر خائف نہیں ہوتی۔ پرہیپس اسی لیے وہ لوگ بھی، جو کبھی ماہ رنگ کو سمجھنے سے قاصر تھے یا اس کے مخالف تھے، آج ریاست کے اس بچگانہ اور خوفزدہ رویے کو دیکھ کر یہ سوال ضرور اٹھا رہے ہیں کہ آخر معاملہ کیا ہے۔
ایک ایسے عہد میں، جہاں قابض قوتیں ہر روز کسی نہ کسی سیاسی رہنما، دانشور یا ایکٹوسٹ کو خاموش کر رہی ہوں، جہاں ہر نئی صبح کسی نئی گرفتاری، کسی نئی تشدد زدہ لاش اور کسی نئے سانحے کی خبر لے کر طلوع ہوتی ہو، وہاں خاموش ہو جانا یقیناً ایک قابلِ فہم انتخاب بن جاتا ہے۔ جب بانک کریمہ سے لے کر دیگر بلوچ سیاسی کارکنوں اور ایکٹوسٹس تک کے انجام سب کے سامنے ہوں، جب یہ معلوم ہو کہ اختلاف کی قیمت تشدد، گمشدگی اور عبرتناک انجام بھی ہو سکتا ہے، تو ایسے میں پسپائی اختیار کرنا، انڈرگراؤنڈ ہو جانا یا نگاہوں سے اوجھل ہو جانا ایک فطری انسانی ردِعمل ہوتا ہے۔
اسی مقام پر ڈاکٹر چی گویرا کا یہ قول بے اختیار یاد آتا ہے کہ،
“Those who joined the struggle without knowing the cost will abandon it at the first test.”
ایک فرق ہے جو وقتی وابستگی اور نظریاتی وابستگی کے درمیان ہوتا ہے۔ جو لوگ جدوجہد کی قیمت سے ناواقف ہوتے ہیں، وہ پہلے ہی امتحان پر پلٹ جاتے ہیں، مگر جو ابتدا ہی سے انجام کو جانتے ہوں، وہ راستہ نہیں بدلتے، خواہ اس راستے کے اختتام پر زہر کا پیالہ ہو یا عمر قید۔
آج ماہ رنگ قید میں ہوکر بھی قید میں نہیں وہ ہر بستی میں، ہر گلی میں، ہر ہاسٹل میں، ہر یونیورسٹی میں، ہر مویشی چراتے بچے کے گلے میں بجتے سپیکر میں ، ہر رکشے اور ہر موٹر سائیکل کے شیشے پہ، ہر لڑکی کے سیاہ دوپٹے میں، ہر طالب علم کی گفتگو میں، اور ہر ماں کی دعا میں، کہیں نہ کہیں ماہ رنگ موجود ہے، جہاں سے اُسے کبھی نکالا نہیں جاسکتا۔
ماہ رنگ بحرالکاہل کی گہرایوں سے بڑا مضمون ہے جسے ایک ویب آرٹیکل میں لکھنا تو ممکن نہ ہوگا البتہ ایک جملے میں اگر پرو کر کہوں تو وہ کُچھ یوں بنے گا کہ:
لشکر تو بڑا ہے تیرا مگر ترے ساتھ کوئی ماہ رنگ نہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































