یکے از ستارگان – سنگت ھانلی

1

یکے از ستارگان

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

رنگ محض دھوکہ و فریب ہے، وگرنہ سب کچھ سیاہ ہے، رنگ دکھتا ہے تو سبب انکشاف وہ ضیاء ہے جو اس پر پڑتی ہے، ورنہ حقائقِ ارضی کا ماحصل اسی سیاہی کے سوا ہے ہی کیا، جس سے سب گریزاں ہیں۔ ستارے سے آنکھ تک پہنچنے والی روشنی، صدیوں کا فاصلہ طے کرکے ہمارے سامنے آتی ہے۔ تو کیا بعید کہ جس رنگ کو ہم حال سمجھ کر دیکھ رہے ہیں وہ محض کسی گزرے ہوئے زمانے کی روشنی ہو، اور ہم جس حقیقت سے آنکھ چرا رہے ہیں وہ سیاہی اب بھی وہیں کی وہیں ہو۔

اس سیاہ و رنگیں دمچر میں کوئی تو ہے جو سب سے لاتعلق و بے خوف، اپنی ہی سمت میں رواں ہے، شبِ تاریک کے سیاہ پہروں میں بھی انہی سیاہ شاخساروں کے مابین تنہا گزرتا ہوا۔ گمان تو یہی گزرتا ہے کہ شاید وہ بذاتِ خود کوئی قطبی ستارہ ہے یا کسی سُپر نووَا کا بجھنے سے انکار کردہ شعلہ، آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ جو ضیاء لاکھوں سال کی مسافتیں طے کرکے تفاخر سے عالم کو اسکے رنگ منکشف کرتی پھرے، پھر کوئی آدم زاد اسی سیاہ گم گشتگی میں ضیاء کو اسکی اوقات یاد دلا دے اور خود ہی اپنے سنہری رنگ آشکار کر دے۔

وہ آدم زاد ان سیاہ جنگلوں کو تنہا پار کرتا، اپنے رنگوں کو ہمراہ لیے، کچھ گنگناتا ہوا اس دشت میں آن پہنچا تھا، یوں محسوس ہو گویا یہ دشت و جبل، یہ کوہ و کہسار، یہ ماہ و مہتاب، یہ ضیاء و تاریکیاں سب اسی کے نام راکھ ہو چکی ہیں۔ وہ بے خوف اس طرح گامزن رہا کہ اسکے حوصلے کو دیکھنے کیلئے ریت کے ذرے بھی سر اٹھانے لگے۔ وہ رنگوں کا شہنشاہ، جنگوں کا پناہ گاہ، ہزارہا رنگوں کے ہجوم میں صرف سرخ کو اپنائے؛ خون میں نہائے، الدبران و رجل الجبار کو بھی انکے مقام و نسبت سے آشنا کرتا، اور پھر اپنی ہی ضیاء سے خود کو واقف پاتا رہا۔

بابل کے نجومی جب رات کے آسمان کو تکتے تھے تو انہیں یقین تھا کہ ہر ستارہ دراصل کسی نہ کسی دیوتا کی آنکھ ہے، جو زمین پر گزرنے والے ہر فعل کا حساب رکھتی ہے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ جس ستارے کو ابھی تک وہ نگاہ میں لیے ہیں، ممکن ہے وہ قرون پہلے بجھ چکا ہو اور یہ ضیاء محض اسکی موت کی خبر تاخیر سے اٹھائے پھر رہی ہو۔ یہی المیہ ہر عظیم صاحبِ ضیاء کا مقدر ہے، چراغ اکثر پہچانے جانے سے پیشتر ہی بجھ چکا ہوتا ہے اور زمانہ اسکے انکشاف پر تب آمادہ ہوتا ہے جب خود صاحبِ چراغ اپنی روشنی کا مشاہدہ کرنے سے عاری ہوچکا ہو۔

مگر یہ آدم زاد ان قوانین سے مبرا لگتا ہے۔

جیسے انشا جی کہتے ہیں کہ؛

اس شہر میں کس سے ملیں ؟ ہم سے تو چُوٹی محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانا ترا

یوں اسے کسی نجومی، کسی آنے والے زمانے یا کسی مؤخر شناخت کا انتظار نہ تھا، وہ ستاروں کی طرح انتظار کا محتاج نہیں کہ کوئی نجومی صدیوں بعد اسکی روشنی کو پہچانے، وہ خود اپنی روشنی کا گواہ تھا، خود اپنے سرخ رنگ کا امین۔

نطشے نے کہیں لکھا تھا کہ ہر وہ شخص جو اپنے دور سے بہت آگے سوچتا ہے، اسے اپنے دور کی تنہائی برداشت کرنی پڑتی ہے، کیونکہ اسکے ہم عصر ابھی وہاں تک نہیں پہنچے ہوتے جہاں وہ خود کھڑا ہوتا ہے۔ یہ آدم زاد بھی شاید اسی تنہائی کا مسافر تھا، جو رنگوں کے اس ہجوم میں تنہا اپنی راہ بناتا رہا، بغیر کسی تصدیق و داد کے۔

وہ دشت سے گزرا تو سُنبل کے پھول اپنی مہک سمیت اسکے قدموں میں بکھرتے گئے، جیسے انکی تمام رعنائی اسی راہگزر کے نام لکھ دی گئی ہو۔ اسکے گزرنے کے بعد نہ سنبل کی وہ خوشبو باقی رہی نہ وہ رنگ، ہوا میں بس اس آدم زاد کے خون اور وجود کی ملی جھلی مہک رچ بس گئی، لہلہاتے پھولوں و اڑتی ریت کی تمام تکرار کو اسکے قدموں کی چاپ اور دور تک سنائی دیتی گنگناہٹ نے اپنے اندر جذب کرلیا، لیکن اس آدم زاد نے مڑ کر دیکھنے کی زحمت تک نہ کی۔

اُسکی نگاہ بدستور اس بلند چوٹی پر مرتکز تھی، جس تک رسائی منزل کم ایک حجت زیادہ، یا اپنے ہی وجود کے سامنے اپنے ہونے کی دلیل قائم کرنے کی کوئی بے نام سعی۔ چڑھائی تیز تر ہوتی گئی تو ہوا میں بھی تلخی در آئی، اسکے گھنگریالے گیسو، جو شانے سے کچھ بالاتر آکر ٹھہرے تھے، ہر جھونکے کے ساتھ یوں جنبش کرتے جیسے کسی فرسودہ عَلَم کی طرح بادِ مخالف سے برسرِ پیکار ہوں۔

پہاڑ کی چوٹی کے قریب پہنچ کر ہوا نے سیاہی اختیار کرلی، گو فطرت بھی اس آدم زاد کی آمد سے پیشتر اسکی خبر رکھتی ہو۔ نورس اساطیر میں یمیر وہ اولین ہستی ہے جسکے پیکر سے بعد ازاں زمین و آسمان، کوہ و دریا تراشے گئے، اب اس بشر ء خاک سے بڑھ کر ایک آدمزاد کو دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ یہ بھی اسی خامے سے برآمد ہوا ہے جس سے پہاڑوں کی صلابت اور زمین کی بنیاد وضع ہوئی۔

آخری چٹان پر قدم جما تو آسمان یکایک نیلگوں برق سے شگافتہ ہوا؛ نہ سفید، نہ زرد، کوئی ایسا رنگ جو شاید اسکے لیے مخصوص رکھا گیا تھا۔ ایک آن میں پوری قامت منکشف ہوئی؛ چٹانیں اپنی ہی قامت میں سمٹتی معلوم ہوئیں، چہرے پر زخم کسی طویل سفر کے حاشیے پر ثبت وہ عبارت مانند تھیں جنہیں مٹانے کی قدرت درمان ء عزادار کو بھی نہ تھی۔ ہر زخم کسی جنگی موسم کا گواہ، ہر نشان وجود پر کندہ کوئی سبق۔

اسی پہاڑ سے کبھی ایک شکاری آسمان کی طرف اٹھا تھا اور پھر وہیں ٹھہر گیا؛ آج الجبار کے شانے پر رجل الجبار اور اسکی آنکھ میں الدبران کی سرخی اسی قصے کی باقی ماندہ شہادت ہے۔ یہ آدم زاد بھی اسی قدیم سلسلۂ سرخی کا کوئی زمینی تسلسل تھا؛ جسکی نسبت مٹی سے ضرور تھی، مگر رنگت کا حساب آسمان کے مجمعے میں جہاں سرخ ستارے بھی وقت کی دستبرد سے پوری طرح ماند نہیں پڑتے۔

چوٹی پر وہ دیر تک بیٹھا رہا۔ رات نے ہر شے کو اپنے سیاہ احاطے میں لے لیا تھا؛ پہاڑ، دشت، شاخسار، حتیٰ کہ اسکا وجود بھی۔ گمان ہوتا تھا وہاں کچھ ہے ہی نہیں، سوائے اس سنہری روشنی کے جو اُس کے جسم سے اُٹ رہی ہے۔

پھر یکایک آسمان کہیں دور سے پھٹا؛ برق کی ایک مختصر سی لکیر نے تاریکی کو فقط اتنی مہلت دی کہ جو کچھ چھپا تھا، ایک آن کیلئے اپنے ہونے کا ثبوت دے سکے۔ اس ایک آن میں اسکے ہاتھ بھی دکھے، انگلیوں میں دبا قلم بھی، گھٹنوں پر رکھا ہوا کاغذ بھی، اور کاغذ پر دوڑتی وہ سطریں بھی جنہیں ابھی تاریکی نے مکمل طور پر نگلا نہ تھا۔

پھر ضیاء سمٹ گئی۔ چوٹی پھر سیاہ، پہاڑ پھر سیاہ، دشت پھر سیاہ؛ مگر اب معلوم تھا کہ اس سیاہی کے بیچ وہ زخموں سے چُور کچھ لکھ بھی رہا تھا۔

عطر و انامے سرمہ ءِ طوبے
جوکہ ءِ خل تئے نشہ ءِ طوبے
لیپے استاتا شاغِوا زی آ
شیف آ جھمرکو سرجہ ءِ طوبے
وانوا کس آ ای نظر شاغوٹ
درکنا تینتو دیدہ ءِ طوبے
سمُل ہٹ مَست امر خنا تینے
پاہمو کنتو کسہ ءِ طوبے
تول کنب آ تیٹی نی گوازی کہ
دسکا نا یار زندہ ءِ طوبے

فردوسی کے شاہنامے میں سِیمرغ کا ظہور جہاں ہوتا ہے وہاں روایت، حکمت اور تقدیر ایک دوسرے میں گندھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ زال کو البرز کی بلندیوں میں اپنے آشیانے میں پرورش دینا ہو یا رستم کی پیدائش کے وقت سام کے سامنے راستہ کھولنا، سِیمرغ ہر بار انسانی استطاعت کی سرحد سے ذرا پرے کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

اسی لیے ایرانی اساطیر میں اس پرندے کے ساتھ بقا کا تصور اتنا گہرا جڑا ہے؛ زمانہ گزرتا رہتا ہے، آدمی آتے جاتے رہتے ہیں، مگر کچھ نسبتیں فنا کے اس تسلسل میں بھی اپنا سراغ باقی رکھتی ہیں۔

وہ لافنا آدم زاد اپنی شاعری میں چاند سے کہتا ہے کہ ‘دسکا نا یار زندہ ءِ طوبے’، یہ اُس انسانی خواہش کی تجلی معلوم ہوتی ہے، جیسے اتنی طویل تاریکی کے بیچ کسی ہمنشیں کو اپنی موجودگی کی خبر دینا ضروری ہو، جیسے فنا کے اس متواتر عمل میں آدمی اپنے وجود کیلئے کسی ایسے شاہد کا انتخاب کرے جو خود زمان و مکاں کی دستبرد سے قدرے بلند ہو۔

آج کے دن اُس کے دیوہیکل وجود پر بیالیسویں لکیر کھینچی گئی ہے، مگر اُس جیسے ستاروں کی عمر کے سامنے یہ ہندسہ بھلا کس شمار میں؟ جن ضیاؤں کو ہم آسمان کے قدیم ترین گوشوں سے آتی ہوئی سمجھ کر قرون کے پیمانوں میں تولتے ہیں، انکی مسافت بھی اس وجود کے اثر کے سامنے ایک مختصر سی گردش معلوم ہوتی ہے۔

جسم پر سلِے ہوئے زخم، گوشت پر ثبت نشان، ہڈیوں تک چیر دینے والی جنگ اور ان نشانوں کے نیچے اپنی جگہ قائم وہی سرکش نبض، ہر برس اُس بدن پر ایک تحریر کی طرح ہے، مگر شعور کے طبیع پر جو کچھ نقش ہوا وہ کیلنڈر کے کسی خانے میں درج ہونے والی چیز نہ تھی۔

اس ستارے کے گزرنے سے لفظوں نے لہجہ بدلا، خیال نے کوئی نئی لے پکڑی، اور راگ و ساز نے اپنے اندر ایک ایسی آہنگی جگہ بنائی جسے محض ایک آدمی کی عمر کہہ کر سمیٹ دینا خود اس عمر کی تحقیر ہے۔

وہ، جو بولے تو ہزارہا نرگسی اداؤں کو گویائی سے معذور کردے، وہ، جو فکرِ وطن میں گامزن ہو تو سُنبل اپنی جگہ پر عمر بھر کیلئے ساکت ہوجائیں، وہ جسکے مہر کا ایک قطرہ محروم دلوں کے دریچوں میں جمع تمام تیرگی کو بجھا دے، وہ جسکے ایک مہر بھرے نگاہ کیلیے سورج مکھیوں کا گلستان سورج سے بےوفائی کرجائے، وہ جسکی فکر کے سائے میں ہم بے وقار و بے مراد اپنے زندہ ہونے کا کچھ جواز پاتے ہیں، وہ جو گزرے تو مردہ خیالوں کو بھی حیات کی بشارت ملے۔

وہ جسے صرف ایک شاعر کہہ دینا اسکی نسبت کو ایک لفظ کی تنگنائے میں مقید کرنا ہے، وہ جسکو صرف ایک جنگجو جاننا اُسکے وجود کی وسعت کے ساتھ گستاخی ہے؛ وہ جسکی ضیاء کے سامنے شِعرٰی یمانی، پارسہ و سُہیل اپنی تاب نہ لا سکیں، وہ جسے الجھانے والے خود اپنے ہی عقدوں میں گرفتار رہ جائیں، وہ جو عالمِ لاشعور کی گردش میں بھی ہو تو ہم جیسے عام بشر مطمئن رہیں کہ ستاروں کی فکر و نظر ہم سے خفا نہیں، جسکو بیالیس برس بخشنے کے لیے بلوچ قوم تاحیات خدا کی مقروض رئے گی، اور وہ جسکے ایک دن کے عوض قوم بیالیس زندگی نثار کرنے کو آمادہ ہے۔

تمہاری دیوہیکل جسامت کے سامنے وہ تمام گمان اپنی قامت کھو دیتے ہیں، جو تمہیں شکست خوردہ دیکھنے کی آس میں نصف شب تمہاری موت کی جھوٹی خبریں پھیلاتے، ہمارے حوصلوں کی نبض ٹٹولتے ہیں۔ جو ہمیں توڑنے کیلئے تمہاری نسبت کو وسیلہ بناتے ہیں، انہیں یہ موقع نہ دینا؛ اپنی ضیاء کو یوں قائم رکھنا کہ انکے حساب کی تمام سطریں ادھوری رہ جائیں۔

سو اے فاتح!!

تم جیتے رہو کہ ہماری بقا کے کچھ معنی ابھی تمہاری زندگی سے وابستہ ہیں، تم مسکراتے رہو کہ تمہاری ایک تبسم سے کتنے ہی مضمحل دریچوں میں بہار اترتی رہے، تُم قہقے لگاتے رہو کہ تمہاری بے خوفی کے سامنے بہت سی مصلحتوں کی عمر مختصر پڑتی رہے، تم لکھتے رہو کہ تمہارے لفظوں سے کئی تشنہ ذہن سمت لیتے ہیں، تم سرخرو رہو کہ تمہاری فکر میں ابھی کئی نامکمل خواب اپنی تکمیل کا امکان لیے ہوئے ہیں۔

تو تُم سلامت رہو، اے بشر سے ماورا آدم زاد، کہ بیالیس برس تمہاری عمر کا شمار سہی، لیکن تمہارا ہونا ابھی ہزاروں کے ہونے کی شرط ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔