سانحہ شال (حصہ دوئم) – درشہوار بلوچ

20

سانحہ شال

حصہ دوئم

تحریر: درشہوار

دی بلوچستان پوسٹ

ساتھوں جلدی سے آؤ، یہ سنگت بہت خراب ہے۔

میری آواز سنتے ہی چار دوست دوڑتے ہوئے آئے اور اس نوجوان کو اٹھا کر ہسپتال لے گئے۔

واپس اسماء کے پاس آئی تو دیکھا، اب اسماء ٹھیک ہے اور وہ مجھ سے پوچھنے لگی: درشہوار، اس نوجوان کی طبیعت کیسی ہے؟

میں کہنے لگی: اسے ہسپتال لے گئے، بالکل بے ہوش ہو گیا تھا۔

میں نے ہر طرف دیکھا اور مجھے پہلی مرتبہ احساس ہو رہا تھا کہ ہمارے نوجوان کیوں قربان ہو رہے ہیں، گودی شاری اور سمعیہ کیوں فدائی بنے، اور نوجوان سیاست کے بجائے جنگ کا راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ اس دن اس ناپاک دشمن کے ظلم کو دیکھ کر مجھے ان سب سوالوں کا جواب بھی مل گیا، کیونکہ وہ نوجوان اس حقیقت سے بالکل اچھی طرح واقف تھے کہ یہ ناپاک ریاست پُرامن تحریک کو کبھی برداشت نہیں کر سکتی۔ جب ہم پُرامن طریقے سے آگے بڑھتے ہیں تو یہ وہاں آ کر اپنی طاقت لوگوں کو دکھاتی ہے۔ اور پاکستان امن کی زبان کو نہیں، صرف اور صرف بندوق کی زبان کو ہی سمجھتا ہے۔

دشمن نے ریڈ زون کو بالکل بند کر رکھا تھا۔ ایک ہی شخص کو آگے آتے ہوئے دیکھتا تو واپس شیلنگ شروع کر دیتا تھا، لیکن ان ماؤں اور نوجوانوں کے حوصلے چلتن جیسی بلند تھے۔ ان حوصلوں کو کوئی بھی طوفان ہلا نہیں سکتا تھا۔ جب ہم اپنی ماؤں، بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ واپس ریڈ زون کی طرف بڑھے تو دشمن نے سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔ اس بار بلوچوں کی آنکھوں سے صرف آنسو نہیں گر رہے تھے، بلکہ بلوچوں کے جسموں سے خون بھی بہہ رہا تھا۔ کچھ پولیس والے سائیکل موٹر پر سوار ہو کر جہاں بھی کسی کو دیکھتے، فائرنگ کر کے اسے زخمی کر رہے تھے۔

ہم کچھ لوگ قریب ہی ایک دفتر میں گئے تاکہ خود کو محفوظ کر سکیں۔ دیکھا کہ دفتر کے گیٹ سے چار پولیس اہلکار دفتر میں گھس کر کہنے لگے: پکڑو اس دہشت گرد کو!

اتنے میں چاروں اہلکار میرے نزدیک کھڑے نوجوان کو گھسیٹ کر لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔ جب میں نے مزاحمت کی کہ اسے نہ لے کر جائیں تو ایک پولیس والے نے مجھے مارنا شروع کر دیا، جبکہ دوسرا اس نوجوان کے سر پر زور زور سے بندوق مار رہا تھا۔ اتنے میں دو اور پولیس والے آئے اور اس نوجوان کو مارتے ہوئے لے گئے۔

میں بے بس ہو کر بیٹھ گئی اور دیوار سے ٹیک لگا کر اس کربلا کے میدان میں ظلم و جبر کو دیکھ رہی تھی۔ اس وقت صرف میں نہیں، میری روح بھی رو رہی تھی۔

اتنے میں دیکھا کہ دو اور پولیس والے، جن کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں، سیدھے ایک نوجوان کی طرف بڑھے، اور اس نوجوان کے پیچھے اس کی بہن مہتاب کھڑی تھی۔ جب پولیس والے نے فائرنگ کی تو مہتاب اپنے بھائی کے سامنے آ گئی اور خود اپنے ہاتھ میں گولی کھا لی۔ اس کے ہاتھ سے خون بہنے لگا۔ یہ دیکھ کر میں جلدی سے اس کے پاس گئی۔ اتنے میں لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔ کچھ لوگ جلدی سے مہتاب کو رکشے میں سوار کر کے ہسپتال لے گئے، اور ہم دفتر کے اگلے گیٹ سے گلی کی طرف نکل گئے۔ گلی میں بھی سڑک پر ہر طرف خون کے نشان تھے۔

میں نے وہاں ایک شخص کو دیکھا جو بالکل ضعیف تھا اور وہ پولیس کے تنخواہ دار سپاہیوں کے سامنے کھڑے ہو کر ’’بلوچستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگا رہا تھا اور بار بار کہہ رہا تھا:

خیسن مریک کفن ننا
آزاد مریک وطن ننا

اتنے میں ایک ماں کی آواز آئی:

ظلم آنا، مونا بش متورے، مِش مریرے، مِش مریرے۔

یہیں پر شہید چیئرمین زبیر نے سب سے مخاطب ہو کر کہا کہ بلوچو! آج کے دن کو نہیں بھولنا۔ یاد رکھنا کہ ان دو ٹکے کے کرایہ دار فوجی سپاہیوں نے آپ لوگوں کی بہنوں کے دوپٹے کھینچے ہیں۔

پیچھے سے کچھ نوجوانوں کی آواز آئی کہ دشمن کو اب ہم بندوق سے جواب دیں گے اور بندوق کے ذریعے سے اپنی ماؤں اور بہنوں کا بدلہ لیں گے۔ اتنے میں انہوں نے ایک ساتھ کہا:

رخصت اف اوارن سنگتاک

وہاں سے ریلی واپس سریاب روڈ کی طرف نکلی اور ہم واپس سریاب والے دھرنے کی طرف آئے، لیکن واپسی میں ہم پورے نہیں تھے۔ یہاں سے ہم بڑی تعداد میں گئے تھے، مگر واپسی میں بہت کم تعداد میں آئے۔

ظلم کا وہ دن ختم ہوا۔ آخر سورج اس دن غروب ہوا، لیکن بلوچ نے اس ظلم کو اپنی یادداشت میں محفوظ رکھا تھا، کیونکہ بلوچ نے اسی دن وعدہ کیا تھا کہ ہم اس دن کو نہیں بھولیں گے اور دشمن کو جواب دیں گے۔

ایک دن میں سوشل میڈیا دیکھ رہی تھی کہ میرے سامنے ایک عکس آیا۔ اس تصویر کے اوپر لکھا تھا:

سہیب جان پہ وطن نمیران بُوت

میں نے یہ تصویر اسماء کو دکھائی اور کہا: اسماء! یہ وہی نوجوان ہے جو 2024 والے احتجاج میں دشمن کی شیلنگ کی وجہ سے بے ہوش ہوا تھا اور بار بار ’’بی ایل اے زندہ باد‘‘ کہہ رہا تھا۔

اسماء حیرانی سے کہنے لگی: اچھا!

میں نے پھر کہا: پتا نہیں یہ نوجوان کہاں شہید ہوا ہے اور کیسے؟

اسماء کہنے لگی: یار درشہوار! شام کو ہی تنظیم کی طرف سے ایک بیان آیا تھا، جس میں لکھا تھا کہ شہید سہیب قلات کے پہاڑوں میں دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوا ہے، لیکن میں نے اس نوجوان کو نہیں پہچانا کہ یہ وہی نوجوان ہے۔

اسماء کی یہ بات سن کر مجھے فخر محسوس ہوا اور میں اسماء سے کہنے لگی: آج شہید سہیب نے خود سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا، کیونکہ وہ اس دن مجھ سے یہی کہہ رہا تھا: اگر میں زندہ رہا تو دشمن کو بندوق سے جواب دوں گا۔

اسماء کہنے لگی: ہاں درشہوار! آج واقعی شہید نے دشمن کو جواب دیا، لیکن اس احتجاج میں اور بھی لوگوں نے یہی کہا تھا کہ ہم بندوق سے جواب دیں گے۔ پتا نہیں وہ لوگ بھی جنگ میں شامل ہو چکے ہیں یا نہیں، کیونکہ میں اس وقت یہی کہہ رہا تھا کہ شاید لوگ جذباتی ہوئے ہیں، اس لیے اس طرح کہہ رہے ہیں۔ لیکن یار، سہیب تو واقعی سرمچار بن گیا۔

میں کہنے لگی: شاید ممکن ہے کہ باقی لوگ بھی چلے گئے ہوں۔

جب آپریشن ہیروف کا آغاز ہوا تو اسی دن نوشکی کی زمین پر میرے سامنے سے سرمچاروں کا ایک قافلہ گزرا۔ میں کھڑی اس قافلے کو دیکھ رہی تھی۔ اس دن ہر طرف عوام بہت خوش نظر آ رہا تھا اور وطن زادوں کا دیدار کر رہا تھا۔ میں اس منظر کو دیکھ رہی تھی اور مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں ان میں سے کچھ لوگوں کو جانتی ہوں۔ اسماء بھی میرے پاس کھڑی تھی۔

اتنے میں اسماء مجھ سے کہنے لگی: درشہوار! یہ چار لوگ تو وہی ہیں جو ہمارے ساتھ احتجاج میں تھے، جن کا ایک ساتھی زخمی بھی ہوا تھا۔

اسماء کی یہ بات سن کر ہم دونوں ان کے پاس گئے۔

اسماء کہنے لگی: سنگت! مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں نے آپ کو شال میں احتجاج کے دوران دیکھا ہے۔

تو وہ سنگت ہنسنے لگا اور کہا: ہاں سنگت، میں وہی ہوں، جب ہم سب کے اوپر دشمن نے فائرنگ کی تھی۔

میں کہنے لگی: ہاں ہاں سنگت! یاد ہے وہ دن، لیکن آپ لوگ سرمچار کیسے بنے؟

ہمارے سامنے کھڑے نوجوان نے جواب دیا: سنگت! اگر آپ کو یاد ہو تو اس احتجاج میں ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم دشمن سے بدلہ لیں گے۔ پھر ہم نے اپنے جذبے کو شعور میں بدل دیا اور آج سرمچار بن کر دشمن کو بے بس کر رہے ہیں۔

اسماء کہنے لگی: ہاں سنگت! مجھے یاد ہے، آپ اور آپ کے ساتھیوں نے یہی کہا تھا: ’’رخصت آف اوران سنگت‘‘۔

وہ سنگت ہنس کر کہنے لگا: ہاں گودی! یہ الفاظ کہتے ہی ہم واپس آپ لوگوں کے ساتھ دھرنے میں نہیں آئے، بلکہ سیدھا پہاڑوں کا رخ کیا۔

ایک دن بیٹھ کر ہمیں بھی یہ احساس ہوا کہ اب ہمیں بھی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اسی لمحے ہم دونوں نے بھی وعدہ کیا: آزادی یا مرگِ شہادت۔

اسماء اسی موقع پر مجھ سے کہتی ہے: دیکھو درشہوار! ہمیں مضبوط رہنا ہے اور دشمن کو جواب دینا ہے۔

درشہوار اس دن مکمل بدل چکی تھی، کیونکہ وہ دونوں اب اپنی زندگی ایک مقصد کے لیے وقف کر چکے تھے۔ اسی لمحے میں نے جواب دیا: ہاں اسماء! دشمن کو جواب دے کر رہوں گا کہ:

’’ظلم قوموں کو کمزور نہیں، باغی بناتا ہے۔‘‘


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔