بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں پاکستان نیوی سے وابستہ اہلکار اسد رحیم کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں تشدد زدہ لاش ملنے کے واقعے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اہلِ خانہ اور مقامی ذرائع کے مطابق اسد رحیم کو جون میں لاپتہ کیا گیا، جبکہ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ان کی لاش تربت کے قریب سے برآمد ہوئی۔ خاندان نے واقعے کو جبری گمشدگی اور قتل قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ رپورٹ دستیاب معلومات، اہلِ خانہ کے بیانات اور مقامی ذرائع کے دعوؤں کی بنیاد پر واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔
اسد رحیم ولد رحیم بخش، عمر تقریباً 23 سال، تربت کے علاقے ڈنک کے رہائشی تھے۔ وہ پاکستان نیوی میں سپاہی کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور ان کی تعیناتی تربت نیوی کیمپ میں بتائی جاتی ہے۔ وہ کئی برسوں سے نیوی میں ملازمت کر رہے تھے۔
اہلِ خانہ کے مطابق اسد رحیم کو 13 جون کو تربت کے علاقے ڈنک سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی گمشدگی کے بعد انہیں کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
اس واقعے کے بعد اسد رحیم کی والدہ شدید صدمے کا شکار ہوئیں اور اہلِ خانہ کے مطابق وہ گزشتہ دو ہفتوں سے انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں زیرِ علاج ہیں۔
گمشدگی کے بعد اسد رحیم کی والدہ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اپنے بیٹے کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔
اہلِ خانہ کے مطابق 24 جولائی کو سوشل میڈیا پر ریاستی حمایت یافتہ اکاؤنٹس سے اسد رحیم کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی۔ ویڈیو میں انہیں ہاتھ میں ہتھیار پکڑے ہوئے دکھایا گیا اور انہیں مبینہ طور پر ایک بلوچ مسلح تنظیم سے وابستہ قرار دیا گیا۔
ویڈیو میں اسد رحیم کی جانب سے اپنی والدہ کو پریشان نہ ہونے کا پیغام دیا گیا۔ تاہم، خاندان اور مقامی ذرائع نے اس ویڈیو پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسد رحیم کے اندازِ گفتگو، آواز اور چہرے کے تاثرات سے محسوس ہوتا ہے کہ ویڈیو ان کی مرضی کے بغیر ریکارڈ کروائی گئی۔
اہلِ خانہ اور مقامی ذرائع کے مطابق 26 جولائی کی رات تقریباً 10 بجے تربت سے تقریباً 12 کلومیٹر مغرب میں زگران دیات کے قریب ایک لاش برآمد ہوئی، جسے بعد میں اسد رحیم کی لاش قرار دیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق مذکورہ مقام کے قریب پاکستان آرمی کا ڈی بلوچ کیمپ موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق لاش پر تشدد کے نشانات موجود تھے اور سر کے پچھلے حصے پر گولی لگنے کا نشان پایا گیا۔ پولیس نے مبینہ طور پر ایف سی کی اطلاع کے بعد لاش تربت کے سرکاری ہسپتال منتقل کی۔
اہلِ خانہ کے مطابق لاش فوری طور پر ان کے حوالے نہیں کی گئی اور اسے ہسپتال کے مردہ خانے میں رکھا گیا۔ ہسپتال حکام کی جانب سے مبینہ طور پر اس تاخیر کی وجہ متعلقہ اداروں کی تحقیقات کو بتایا گیا۔ خاندان نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
اسد رحیم کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف دعوے سامنے آئے۔ بعض اکاؤنٹس نے واقعے کو بلوچ مسلح تنظیموں سے جوڑنے کی کوشش کی، جبکہ اہلِ خانہ اور مقامی افراد نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ واقعہ ریاستی اداروں سے متعلق ہے۔
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بعض سکیورٹی اہلکاروں کے قتل یا گمشدگی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جن پر مختلف فریقوں نے مختلف مؤقف اختیار کیے۔ ان واقعات کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے آزاد اور غیر جانب دار تحقیقات کو ضروری قرار دیا جاتا ہے۔

















































