بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ شہزاد نذیر، سکنہ پروم، پنجگور، کو 31 مئی 2025 کو پروم، پنجگور سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ ایک سال سے زیادہ عرصے تک ان کے اہلِ خانہ اس امید میں بیٹھے رہے کہ وہ بحفاظت واپس لوٹ آئیں گے، مگر آخرکار انہیں ان کی ہلاکت کی خبر ملی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں ایسے مسلح گروہوں نے قتل کیا جو مکمل استثنا کے ساتھ کام کرتے ہیں اور جنہیں پاکستانی فوج کی حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف چودہ برس کی عمر میں شہزاد ایک طالب علم تھے، جن کی جگہ کلاس روم میں ہونی چاہیے تھی، نہ کہ تشدد کا نشانہ بننے والوں میں۔ ایک ماں پر کیا گزرتی ہوگی جب وہ بیٹا، جس کی معمولی سی چوٹ بھی اس کے دل کو بے چین کر دیتی تھی، مسخ شدہ لاش کی صورت میں واپس ملے؟ ایک بہن کی کیفیت کیا ہوگی، جس نے ہمیشہ یہ خواب دیکھا ہو کہ ایک دن اپنے بھائی کو دولہا بنتے دیکھے گی؟ یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ایک ایسا سانحہ ہے، جس کا دکھ پورا خاندان عمر بھر اٹھائے گا۔ کسی بھی والدین کو یہ اذیت نہیں سہنی چاہیے کہ وہ مہینوں کی بے یقینی اور انتظار کے بعد اپنے بچے کو دفن کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی ریاست، اس کے ادارے اور ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہ خواتین، بچوں اور معاشرے کے دیگر افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانون، ضابطوں اور آئین کی پاسداری کے بجائے انہیں پرامن سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جو ریاستی کارروائیوں پر آواز اٹھاتے ہیں۔
بیان کے مطابق، بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی تشویش کا باعث ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، اور اگر انسانی حقوق کے عالمی ادارے خاموش رہے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
بیان کے آخر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر قریبی نظر رکھیں تاکہ حقائق سامنے لانے، جوابدہی یقینی بنانے اور شہریوں کے تحفظ کی کوششوں میں مدد مل سکے۔



















































