ایمان اور ہادی کو دس، دس سال قید کی سزا سنانا انسانی حقوق کے دفاع اور انصاف کی جدوجہد کو خاموش کرانے کی ایک کوشش ہے۔بی وائی سی

50

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنانا پاکستان میں عدلیہ کی بے بسی، انصاف کے فقدان اور فوجی بالادستی پر مبنی نظام کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو لوگ ایک ظالم ریاست میں دوسروں کو انصاف دلانے کے لیے دن رات جدوجہد کرتے ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتے ہیں، بالآخر وہ خود ایک جابرانہ نظام کے تحت عدالتی کٹہرے میں کھڑے ہونے اور ریاستی ناانصافی کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

بی وائی سی نے کہا ہے کہ ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چھٹہ وکلا ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے کارکن بھی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ بلوچ، پشتون اور دیگر مظلوم اقوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی اور انصاف کی جدوجہد میں ہمیشہ صفِ اول میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ہر مظلوم ماں کے درد کو اپنا درد سمجھا اور جبری گمشدگیوں سمیت ریاستی جبر سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ آج وہ خود اسی ریاستی نظام کے تحت ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں جس کے خلاف وہ مظلوموں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ کل وہ دوسروں کے لیے انصاف کے طلب گار تھے، لیکن آج وہ خود انصاف سے محروم ہیں اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ 29 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے 2024 میں اسلام آباد میں ایک کرکٹ میچ کے دوران سڑک پر رکھی گئی رکاوٹیں ہٹانے سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی۔ اس فیصلے نے عدالتی نظام کی غیر جانب داری پر مزید سوالات اٹھائے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کے لیے آواز اٹھانا جرم ہے؟ کیا مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑا ہونا قابلِ سزا عمل ہے؟ اور کیا انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کو اسی لیے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ ریاستی جبر کے خلاف بولنے کی جرأت کیوں کرتے ہیں؟

بی وائی سی ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو سنائی گئی سزا محض دو افراد کی سزا نہیں، بلکہ یہ ان تمام آوازوں کے لیے ایک تشویش ناک پیغام ہے جو مظلوموں کے حق میں بولتی ہیں اور ناانصافی کے خلاف مزاحمت کرتی ہیں۔ جب وکلا اور انسانی حقوق کے کارکن بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں تو انصاف کے پورے نظام پر سوال اٹھنا فطری عمل ہے۔

بیان میں کہاکہ تاہم، تاریخ گواہ ہے کہ سچ کو قید و بند کی صعوبتوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جیل کی بلند دیواریں کسی آواز کو وقتی طور پر محدود تو کر سکتی ہیں، لیکن حق اور انصاف کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کر سکتیں۔ ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی سزا انصاف، آزادیِ اظہار اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے تمام افراد کے لیے ایک اہم سوال ہے کہ آیا اس ملک میں مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کی آزادی واقعی موجود ہے؟

مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی تمام انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا کی نمائندہ تنظیموں، سول سوسائٹی اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ آج اگر ہم ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خاموش رہے تو کل یہی خاموشی ہمارے اپنے بنیادی حقوق کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا صرف مظلوموں کا حق نہیں، بلکہ ہر باشعور انسان کی ذمہ داری ہے۔