بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں دو بلوچ نوجوانوں کے قتل، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مذمت

3

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے بلوچستان میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، جبر اور ماورائے عدالت قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ترجمان نے اوتھل اور تربت میں ایف سی کے ہاتھوں دو بلوچ نوجوانوں کے قتل کے واقعات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

بیان کے مطابق، 22 ستمبر 2026 کو اوتھل کے علاقے گجیری، سوکھن میں ایف سی اہلکاروں نے 19 سالہ رشید لاسی ولد جلیل احمد کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ رشید لاسی ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے بکریاں چراتے تھے۔

بی وائی سی کے مطابق، جس عمر میں رشید کو اسکول میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے تھی، غربت کے باعث وہ محنت مزدوری کرنے پر مجبور تھے، لیکن فورسز نے ان سے جینے کا بنیادی حق بھی چھین لیا۔

بیان میں دوسرے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلیدہ کے علاقے الندور کے رہائشی 24 سالہ مزدور چنگیز ولد محمد ابراہیم کو 4 ستمبر 2026 کو تربت کے علاقے آپسر میں ان کی رہائش گاہ سے ایف سی اہلکاروں نے زبردستی حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

بی وائی سی کے مطابق، 14 روز تک لاپتہ رکھنے کے بعد 17 ستمبر کو ایف سی اہلکاروں نے لواحقین کو آپسر کیمپ بلا کر چنگیز کی لاش کی تصویر دکھائی۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ تصویر میں ان کے سر پر کسی بھاری چیز سے شدید ضربیں لگائے جانے کے نشانات واضح تھے، جن کے باعث انہیں بے رحمی سے قتل کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔ بیان کے مطابق، ان کی میت بھی لواحقین کے حوالے نہیں کی گئی اور تاحال اس کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلوں، ٹارگٹ کلنگ اور جبری گمشدگیوں کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ آخر کس آئین اور قانون کے تحت شہریوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور قتل کیا جاتا ہے؟

ترجمان نے اقوامِ متحدہ (یو این)، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ سنگین پامالیوں اور سیکیورٹی فورسز سے منسوب کارروائیوں کا فوری نوٹس لیں، ان واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کا محاسبہ یقینی بنائیں۔