شورپارود سے ہزاروں بلوچ خاندانوں کی جبری بے دخلی، بلوچ قومی وجود، شناخت اور تاریخی وابستگی کو مٹانے کی ایک منظم ریاستی پالیسی ہے۔بی وائی سی

20

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ شورپارود میں ہزاروں بلوچ خاندانوں کو اپنی آبائی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کرنا محض ان کے گھروں اور زمینوں سے محرومی کا معاملہ نہیں، بلکہ ان کی معاشی خودمختاری، ثقافتی شناخت، تاریخی وابستگی اور اجتماعی زندگی کو نقصان پہنچانے کا ایک جابرانہ اقدام ہے۔ جب لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا جائے اور انکار کی صورت میں طاقت کے استعمال کی دھمکی دی جائے، تو ان کی زندگی، سلامتی اور مستقبل کو خوف اور غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کر دیا جاتا ہے۔ اس کے اثرات صرف بے گھری تک محدود نہیں رہتے، بلکہ روزگار، تعلیم، سماجی رشتوں اور نسلوں سے قائم ثقافتی وابستگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ شورپارود کے عوام کو ان کی آبائی سرزمین سے بے دخل کرنا ان کے اپنے گھروں میں محفوظ رہنے، اپنی زمین سے وابستہ زندگی برقرار رکھنے اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں اختیار رکھنے کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔ یہ جبر کے ذریعے ایک پوری آبادی کو اس کی سرزمین سے الگ کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ان اقدامات کو بلوچ عوام کے خلاف اجتماعی سزا اور ریاستی دہشد کی اس منطق کا اظہار سمجھتی ہے جس کے تحت اپنی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے زمین پر آباد لوگوں کو ہی اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

مزید کہا ہے کہ جبری بے دخلی کو جواز دینے اور عوام کو راضی کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے عارضی کیمپوں، خوراک اور ادویات کی فراہمی کے وعدے کیے جا رہے ہیں، مگر خیمے آبائی گھروں کا متبادل اور امداد زمین سے محرومی کا ازالہ نہیں ہو سکتی۔ لوگوں کو پہلے اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا اور پھر عارضی پناہ فراہم کرنا ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا متبادل نہیں بن سکتا۔

انہوں نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی شورپارود کے عوام کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات اور جبری بے دخلی کی دھمکیوں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ یہ احکامات فوری طور پر واپس لیے جائیں، مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور لوگوں کے اپنے گھروں، زمینوں اور آبائی علاقوں میں باعزت، آزادانہ اور محفوظ زندگی گزارنے کے حق کا احترام کیا جائے۔

بیان کے آخر میں کہا ہے کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ بلوچ عوام کو ان کی آبائی سرزمین سے بے دخل کرکے ان کے اجتماعی وجود، شناخت اور مستقبل کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کریں گے۔ بلوچ قوم کی سرزمین کوئی خالی خطہ نہیں جس پر آباد لوگوں کی مرضی، تاریخ اور حقوق کو نظرانداز کرکے فیصلے مسلط کیے جائیں۔ ہمارے گھر محض عمارتیں نہیں، ہماری زمین محض جغرافیہ نہیں اور ہماری موجودگی کسی حکم نامے کی محتاج نہیں۔ یہ سرزمین ہماری تاریخ، ہماری شناخت اور ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہے۔ ہمیں اپنی ہی سرزمین پر رہنے کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں۔ بلوچ عوام کو ان کی زمین سے بے دخل کرکے ان کے تاریخی تعلق کو ختم نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی دھمکی، جبر اور طاقت کے ذریعے کسی قوم کو اس کی شناخت اور آبائی سرزمین سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔