بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6404ویں روز بھی جاری رہا۔
اس دوران جبری طور پر لاپتہ محمد رفیق کے اہلِ خانہ نے وی بی ایم پی سے رابطہ کرکے بتایا کہ محمد رفیق ولد بہادین کو رواں سال 22 اگست کو ضلع آواران سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، تاہم تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
ٹکری واحد کرد اور داد محمد کرد کے اہلِ خانہ نے بھی تنظیم کو بتایا کہ دونوں بھائیوں کو 2 جون 2010ء کو ضلع مستونگ کے علاقے مرو سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔
اہلِ خانہ کے مطابق، ان کا مقدمہ عدلیہ اور کمیشن میں زیرِ سماعت رہا، جہاں یہ بات سامنے آئی کہ انہیں ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود دونوں بھائی تاحال بازیاب نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
دریں اثنا، ثناء بلوچ نے وی بی ایم پی کو بتایا کہ ان کے بھائی ظفر بلوچ کو 16 اکتوبر کو سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے کوئٹہ کے علاقے کرانی روڈ سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ ان کے مطابق، ظفر بلوچ اس سے قبل بھی چار سال تک جبری گمشدگی کا شکار رہے تھے اور 2018ء میں رہا ہوئے تھے۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محمد رفیق، ٹکری واحد کرد، داد محمد کرد اور ظفر بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے۔ اگر ان میں سے کسی پر کوئی الزام ہے تو انہیں ملکی قوانین کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے اور ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔


















































