ایک ماں کی درد بھری کہانی – لطیف بولانی

4

ایک ماں کی درد بھری کہانی۔۔۔

تحریر: لطیف بولانی

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان دن بہ دن جل رہا ہے، مائیں اپنے بیٹوں کے لیے رو رہی ہیں، بہنیں اپنے بھائیوں کی بازیابی اور انصاف کے لیے دربدر بھٹک رہی ہیں، لیکن ہمارے سود خور نوابوں، سرداروں، ٹکریوں اور میروں کے دروازوں پر آج بھی مظلوموں کی فریادیں بے اثر ہیں۔

جب ہماری مائیں اور بہنیں اپنے پیاروں کی تلاش میں ان بااثر لوگوں کے پاس جاتی ہیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو، دل میں درد اور لبوں پر ایک ہی فریاد ہوتی ہے کہ ہمیں ہمارے پیاروں کے بارے میں بتایا جائے، ہمیں انصاف دیا جائے۔

مگر افسوس! جب ایک مجبور ماں کسی نواب کے سامنے جا کر گڑگڑاتی ہے، اپنے آنسو بہاتی ہے اور اپنے بیٹے کی خبر مانگتی ہے تو نواب صاحب اسے کسی دوسرے سردار کے پاس جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فلاں سردار کے پاس جاؤ، وہ تمہارا مسئلہ حل کر دے گا۔

ایک ماں، جو پہلے ہی غم سے نڈھال ہوتی ہے، اپنی آخری امید لے کر اس سردار کے دروازے پر پہنچ جاتی ہے۔ وہاں بھی وہی رونا، وہی فریاد اور وہی بے بسی۔ ماں اپنے آنسوؤں کے ساتھ اپنا دامن پھیلا کر انصاف مانگتی ہے، مگر سردار صاحب کی طرف سے بھی اسے صرف جھوٹی تسلیاں ملتی ہیں۔ اسے کہا جاتا ہے کہ ہم بات کرتے ہیں، آپ سے رابطہ کریں گے، آپ فکر نہ کریں۔

وہ ماں ان الفاظ پر یقین کر کے واپس لوٹ جاتی ہے۔ اس کے دل میں ایک چھوٹی سی امید زندہ رہتی ہے کہ شاید اب اس کے بیٹے کی خبر مل جائے، شاید اب کوئی اس کی فریاد سن لے، شاید اب اس کے گھر کی ویرانی ختم ہو جائے۔

لیکن چند دن گزرنے کے بعد خبر آتی ہے کہ اس ماں کے جگر کے ٹکڑے، اس کی آنکھوں کے تارے کو ایک سنسان مقام پر قتل کر دیا گیا ہے، اور پھر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایک دہشت گرد مارا گیا ہے۔

ذرا سوچیے! جس ماں نے اپنے بیٹے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھائیں، جس نے نوابوں اور سرداروں کے سامنے ہاتھ جوڑے، جس نے اپنا دامن پھیلا کر انصاف مانگا، آج اسی ماں کو اپنے بیٹے کی لاش اور اس پر دہشت گرد ہونے کا الزام سننے کو ملے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟

کیا کسی نے اس ماں کے آنسوؤں کی قیمت پوچھی؟ کیا کسی نے اس کے درد کو محسوس کیا؟ کیا کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر اس کے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا؟ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اس کی شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ کسی بھی خاندان کو اپنے پیارے کے بارے میں سچ جاننے اور انصاف مانگنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

اے بلوچستان کے نوابو، سردارو، ٹکریو اور میرو!

جب ایک ماں آپ کے دروازے پر آتی ہے تو وہ آپ سے دولت نہیں مانگتی، جاگیر نہیں مانگتی، نہ ہی کسی اقتدار کی خواہش لے کر آتی ہے۔ وہ صرف اپنے بیٹے کی خبر مانگتی ہے، اپنے درد کا جواب چاہتی ہے اور انصاف کی امید لے کر آپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔

اگر آپ واقعی اپنے لوگوں کے خیرخواہ ہیں تو ان کی مجبوریوں کو سمجھیں۔ ان کے آنسوؤں کو محض چند لفظوں کی تسلی دے کر خاموش نہ کریں۔ کیونکہ ایک ماں کے لیے اس کے بیٹے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا، اور جب اس کا بیٹا اس سے چھن جائے تو پوری دنیا بھی اس کے دکھ کا مداوا نہیں کر سکتی۔

یہ کہانی صرف ایک ماں کی کہانی نہیں، بلکہ بلوچستان کی ان تمام ماؤں اور بہنوں کے درد کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر بھٹک رہی ہیں اور انصاف کی منتظر ہیں۔

یاد رکھیے! مظلوم کی فریاد کو نظرانداز کرنا، اس کے دکھ کو معمولی سمجھنا اور اسے جھوٹی امیدیں دینا کسی بھی صورت انسانیت نہیں۔

بلوچستان کی ماؤں کو جھوٹی تسلیاں نہیں، سچائی چاہیے۔ انہیں محض وعدے نہیں، انصاف چاہیے۔ انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں حقیقت جاننے کا حق چاہیے۔

ایک ماں کے آنسوؤں کو سمجھو، ان کے درد کو محسوس کرو، اور ان تمام ماؤں کی آواز بنو جو آج بھی اپنے بیٹوں کی واپسی یا ان کے بارے میں سچائی کی منتظر ہیں۔

کیونکہ جب ایک ماں اپنے بیٹے کے لیے روتی ہے تو اس کا درد صرف ایک گھر کا درد نہیں رہتا، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان بن جاتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔