ماؤ ماؤ بغاوت (1952 تا 1960) (حصہ دوئم) – گُل شیر منیر

1

ماؤ ماؤ بغاوت (1952 تا 1960)

(حصہ دوئم)

مترجم : گُل شیر منیر

دی بلوچستان پوسٹ

کینیا لینڈ اینڈ فریڈم آرمی (KLFA)

مرد مسلح جنگجوؤں پر مبنی بیانیوں میں اکثر کم توجہ ملنے کے باوجود خواتین نے اس مزاحمت میں نمایاں اور اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے خفیہ معلومات (انٹیلی جنس) اکٹھی کی، خوراک اور بارود منتقل کیا، قاصد کے طور پر کام کیا، جنگجوؤں کو پناہ دی اور عوام اور جنگل میں موجود دستوں کے درمیان رابطہ بحال رکھنے میں مدد کی۔ کچھ خواتین نے مسلح کارروائیوں میں بھی براہِ راست حصہ لیا۔ ان کی اس شمولیت نے صنف کے روایت کے مطابق طے شدہ کرداروں کو چیلنج کیا، جبکہ دوسری طرف انہیں گرفتاری، تفتیش، بے دخلی اور جنسی تشدد جیسے شدید خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ خواتین کی محنت اور کوششیں خاص طور پر اس لیے اہم تھیں کیونکہ گوریلا جنگ کا تمام تر انحصار عام شہریوں کے ان نیٹ ورکس پر تھا جو رسمی فوجی سپلائی کے نظام کی پہنچ سے دور رہ کر بھی وسائل فراہم کر سکتے تھے۔

اس تحریک کے کنیا کے عام عوام کے ساتھ تعلقات کافی پیچیدہ تھے۔ کچھ شہریوں نے KLFA کی حمایت اس لیے کی کیونکہ وہ اسے نوآبادیاتی قبضے اور ظلم و ستم کے خلاف ایک جائز ردِعمل سمجھتے تھے۔

دوسروں نے دباؤ میں آ کر امداد فراہم کی، جبکہ بہت سے لوگوں کو باغیوں اور سرکاری افواج دونوں کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کا خوف تھا۔ اس تحریک نے ان لوگوں کے خلاف بھی جبر اور تشدد کا استعمال کیا جنہیں وہ مخبر (ساتھی)، سیاسی مخالفین یا اپنے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ اس طرح کے اقدامات ان کی عوامی حمایت کو کمزور کر سکتے تھے اور برادریوں کے اندر تفرقے کو مزید گہرا کر سکتے تھے۔ افریقی وفادار (برطانوی حکومت کے حامی)، نوآبادیاتی سیکیورٹی فورسز کے اراکین اور اعتدال پسند سیاست دان اس تنازع میں مختلف موقف رکھتے تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کینیا کا معاشرہ صرف دو مخالف دھڑوں میں واضح طور پر تقسیم نہیں تھا۔

برطانوی افواج کی جانب سے اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو پھیلانے، شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنے اور جنگلوں کو قریبی بستیوں سے جوڑنے والے سپلائی کے راستوں کو منقطع کرنے سے KLFA کی فوجی حالت بگڑتی چلی گئی۔ گرفتاریوں، فرار کی کوششوں، کمانڈروں کی گرفتاری اور خوراک و بارود تک رسائی ختم ہونے کی وجہ سے منظم مزاحمت تدریجاً کمزور پڑ گئی۔

اکتوبر 1956 میں کیماتھی (Kimathi) کی گرفتاری جنگل کی اس مہم کے زوال میں ایک اہم علامتی موڑ ثابت ہوئی اگرچہ اس کے بعد بھی جگہ جگہ بکھری ہوئی مزاحمت جاری رہی۔ KLFA نے فوجی فتح کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کیے، لیکن اس کی جدوجہد نوآبادیات مخالف مزاحمت کی ایک پائیدار علامت بن گئی اور اس نے اس سیاسی ماحول کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں بالاآخر برطانوی راج کا خاتمہ ہوا۔

برطانوی بغاوت کشی کی حکمتِ عملی (British Counterinsurgency Strategy)

کینیا میں برطانیہ کی بغاوت کش مہم میں فوجی کارروائیوں، انٹیلی جنس اکٹھی کرنے، پولیسنگ، سیاسی کنٹرول اور عام شہریوں کی زندگی کو نئے سانچے میں ڈھالنے کی تدابیر شامل تھیں۔ مزاحمت میں شدت آنے کے بعد، نوآبادیاتی حکومت نے 20 اکتوبر 1952 کو ایمرجنسی (حالتِ اضطرار) کا اعلان کر دیا۔ انتظامیہ نے اس بغاوت کو امن و امان اور آباد کاروں (سیٹلرز) کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا، اور اس جواز کو گرفتاری، نظر بندی اور نگرانی کے غیر معمولی اختیارات کے لیے استعمال کیا۔ یہ مہم جلد ہی مسلح جنگجوؤں کے ساتھ براہِ راست تصادم سے آگے بڑھ کر مزاحمت کو برقرار رکھنے والے سماجی نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ایک وسیع تر کوشش میں بدل گئی۔

ابتدائی مرحلے کی تمام تر توجہ فوجی سرکوبی اور مشتبہ رہنماؤں کی گرفتاری پر تھی۔ برطانوی دستوں، نوآبادیاتی پولیس اور افریقی سیکیورٹی اہلکاروں نے وسطی کینیا میں گشت کیا، بستیوں کی تلاشی لی اور گوریلا دستوں کا تعاقب کیا۔

حکام نے نقل و حرکت اور عوامی اجتماعات پر بھی پابندیاں عائد کر دیں، جبکہ ہتھیار رکھنے اور ممنوعہ تنظیموں میں مشتبہ شمولیت پر سخت سزائیں دی جا سکتی تھیں۔ تاہم جنگل کے جنگجوؤں کے علاقے کی زمینی صورتحال سے واقفیت اور بکھرے ہوئے شہری نیٹ ورکس پر ان کا انحصار ایسے عوامل تھے جن کی وجہ سے روایتی فوجی فورسز کے لیے اس بغاوت کو جلدی ختم کرنا مشکل ہو گیا۔

اس حکمتِ عملی کا ایک بڑا عنصر انٹیلی جنس اور مخبروں کا استعمال تھا۔ نوآبادیاتی حکام نے باغیوں اور ان کے حامیوں کی شناخت کے لیے نگرانی، تفتیش، مخبروں کے نیٹ ورک اور افریقی وفاداروں کی فراہم کردہ معلومات پر بھروسہ کیا۔ گرفتار جنگجوؤں پر ناموں، ملاقات کی جگہوں اور سپلائی کے راستوں کو افشا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا جس سے سیکیورٹی فورسز کو تحریک کے مزید اراکین کو نشانہ بنانے میں مدد ملتی تھی۔ حکومت نے مراعات اور سرینڈر کے مواقع فراہم کر کے فرار کو بھی فروغ دیا۔

اگرچہ ان طریقوں نے مزاحمت کے اندر نفوذ کرنے کی سرکاری صلاحیت کو بہتر بنایا، لیکن اس سے مقامی برادریوں میں شک و شبہات کا ماحول پیدا ہوا اور پہلے سے موجود سماجی تقسیم میں مزید شدت آ گئی۔

اپریل 1954 میں “نیروبی” (Nairobi) میں شروع کیا جانے والا “آپریشن اینول” (Operation Anvil) اس مہم کی ایک بڑی توسیع کا مظہر تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے دارالحکومت کے حصوں کو گھیرے میں لے لیا اور بڑے پیمانے پر شناختی چیکنگ، تلاشی اور گرفتاریاں کیں، جن میں خاص طور پر “کیکویو” (Kikuyu) آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا یا اسکریننگ مراکز میں منتقل کر دیا گیا۔ جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جن کی بغاوت میں شمولیت کسی منصفانہ عدالتی عمل کے ذریعے ثابت نہیں ہوئی تھی۔ اس آپریشن نے ان شہری نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا جو جنگل کے جنگجوؤں کو مالی امداد، سامان، معلومات اور نئے رنگروٹ فراہم کرتے تھے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوآبادیاتی حکومت کا مقصد صرف مسلح جنگجوؤں تک اپنی کارروائی محدود رکھنا نہیں تھا بلکہ وہ عام اور وسیع تر آبادی پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتی تھی۔

حکومت نے بعد میں وسطی کینیا کے زیادہ تر حصے میں جبری دیہات سازی (Forced Villagisation) کے عمل کو پھیلا دیا۔ دیہی گھرانوں کو بکھرے ہوئے مکانات چھوڑنے اور باڑ، خندقوں یا پہرے داروں والے حصار میں قائم بستیوں میں منتقل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد عام شہریوں کو KLFA کو خوراک، پناہ اور انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے سے تھا۔ کنٹرول شدہ مقامات پر آبادی کو جمع کر کے حکام ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتے تھے، تلاشی لے سکتے تھے اور جنگجوؤں سے رابطے کو محدود کر سکتے تھے۔ تاہم، اس بے دخلی نے کھیتی باڑی کو معطل کر دیا، خاندانوں کو ان کے گھروں سے جدا کر دیا اور ان کی زمین اور ذریعہ معاش تک رسائی کو کم کر دیا۔ اس لیے یہ پالیسی ایک سیکیورٹی اقدام کے ساتھ ساتھ سماجی کنٹرول کے ایک ہتھیار کے طور پر بھی کام کرتی رہی۔

برطانوی حکمتِ عملی میں افریقی وفاداروں کو متحرک کرنا اور مقامی سیکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل یا توسیع بھی شامل تھی۔ ان وفاداروں نے انٹیلی جنس فراہم کی، تلاشی کی کارروائیوں میں مدد کی اور جنگجوؤں کے خلاف مسلح آپریشنز میں حصہ لیا۔

جاری۔۔۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔