بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی ترجمان نے کہاہےکہ تنظیم بھاگ زون کے آرگنائزر ڈاکٹر اسرار بلوچ کی جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اسے سیاسی و جمہوری کارکنوں کے بنیادی حقوق پر ایک اور سنگین حملہ قرار دیتی ہے۔
مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر اسرار بلوچ ایک سیاسی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار شہری اور نوجوانوں کی آواز ہیں۔ ان کو جبری طور پر اغوا کرنا نہ صرف ان کے خاندان کے لیے اذیت اور کرب کا باعث ہے بلکہ بلوچستان بھر کے سیاسی، سماجی اور طلبہ حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر چکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ریاست اور حکومت کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، مگر بدقسمتی سے حکومت اور ریاستی ادارے بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ آئے روز بلوچستان کی خونی شاہراہوں پر عوام کو اغوا اور جبری گمشدگیوں کا سامنا ہے۔ سیاسی کارکنوں، طلبہ، ڈاکٹروں، اساتذہ اور دیگر مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ حکومتِ وقت ڈاکٹر اسرار بلوچ کی فوری اور بحفاظت بازیابی کو یقینی بنائے۔بی ایس او پجار حکومت اور متعلقہ اداروں کو واضح کرتی ہے کہ ڈاکٹر اسرار بلوچ کی بازیابی کے معاملے پر تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر انہیں فوری طور پر بازیاب نہ کرایا گیا تو بی ایس او پجار اپنے آئینی، جمہوری اور پُرامن حقِ احتجاج کو استعمال کرتے ہوئے بھرپور احتجاج کا راستہ اپنائے گی اور تمام جمہوری و پُرامن احتجاجی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو گی۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ بی ایس او پجار اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑی ہے اور سیاسی کارکنوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ ڈاکٹر اسرار بلوچ کی بحفاظت بازیابی تک ہر جمہوری فورم پر ان کی آواز بلند کی جائے گی۔بی ایس او پجار ایک بار پھر حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹر اسرار بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور تمام شہریوں کے بنیادی، آئینی اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

















































