ی سے عشق – لکو بلوچ

24

ی سے عشق

تحریر: لکو بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

عشق ایک ایسا احساس ہے جسے نہ آنکھیں مکمل طور پر بیان کر سکتی ہیں اور نہ ہی الفاظ اس کی گہرائی کو سمیٹ سکتے ہیں۔ انسان اپنی زندگی میں کسی نہ کسی چیز سے ضرور محبت کرتا ہے؛ کسی کو اپنے محبوب سے عشق ہوتا ہے، کسی کو اپنی ماں سے، کسی کو اپنے گھر سے، کسی کو اپنی مٹی سے اور کسی کو ان یادوں سے جو وقت گزرنے کے باوجود دل سے کبھی نہیں جاتیں۔

جب انسان کسی محبوب سے سچا عشق کرتا ہے تو اس کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک محبوب کا ساتھ نصیب رہے۔ مگر کبھی کبھی زندگی انسان سے وہ چیز بھی چھین لیتی ہے جسے وہ اپنی پوری دنیا سمجھتا ہے۔ محبوب دور چلا جاتا ہے، راستے جدا ہو جاتے ہیں، لیکن اس کی آواز، اس کی مسکراہٹ اور اس کی یاد دل کے اندر کہیں زندہ رہتی ہے۔

میرے لیے بھی کچھ آوازیں اب صرف آوازیں نہیں رہیں۔ جب کہیں گولی کی آواز سنائی دیتی ہے تو ایک لمحے کے لیے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے محبوب کی آواز آ رہی ہو۔ شاید اسی لیے اب گولی کی آواز مجھے پہلے جیسا خوف نہیں دیتی۔ میرے دل نے اس آواز کے ساتھ بھی ایک ایسی یاد جوڑ دی ہے جسے میں چاہ کر بھی اپنے اندر سے نکال نہیں سکتا۔

لوگ شاید گولی کی آواز سنتے ہیں تو انہیں خطرہ محسوس ہوتا ہے، خوف محسوس ہوتا ہے، زندگی کے ختم ہونے کا خیال آتا ہے۔ لیکن میرے دل میں کبھی کبھی اسی آواز کے ساتھ میرے محبوب کی یاد جاگ اٹھتی ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے وہ مجھے پکار رہا ہو، جیسے فاصلے کے اُس پار سے اس کی آواز میرے کانوں تک پہنچ رہی ہو۔ یہ حقیقت نہیں، شاید صرف یاد کا وہ اثر ہے جو انسان کے دل اور ذہن پر گہرا نقش چھوڑ دیتا ہے۔

مجھے گولی سے عشق نہیں، مجھے اس یاد سے عشق ہے جو ہر آواز میں میرے محبوب کا چہرہ دکھا دیتی ہے۔ میرے لیے گولی کوئی محبت کی چیز نہیں، بلکہ ایک تلخ آواز ہے جسے میرے دل نے ایک پرانی محبت کی یاد کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ میں اس آواز میں ہتھیار نہیں ڈھونڈتا، میں اس میں اپنے محبوب کی وہ آواز تلاش کرتا ہوں جسے میں کبھی بھول نہیں سکا۔

محبت عجیب چیز ہے۔ کبھی ایک خوشبو انسان کو برسوں پیچھے لے جاتی ہے، کبھی کوئی راستہ کسی شخص کی یاد دلا دیتا ہے، کبھی کوئی گانا دل کو رُلا دیتا ہے اور کبھی ایک اچانک سنائی دینے والی آواز انسان کے اندر چھپی ہوئی پوری داستان دوبارہ زندہ کر دیتی ہے۔

میری حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ وقت گزر گیا، حالات بدل گئے، لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں آگے بڑھ گئے، مگر میرے دل کے اندر کچھ آوازیں آج بھی وہیں کھڑی ہیں۔ گولی کی آواز آتی ہے تو دل ایک لمحے کے لیے رک سا جاتا ہے اور مجھے لگتا ہے جیسے وہی آواز ہے، وہی پکار ہے، وہی شخص ہے جسے میرا دل آج بھی یاد کرتا ہے۔

شاید سچا عشق یہی ہے کہ انسان محبوب کے چلے جانے کے بعد بھی اس کی موجودگی محسوس کرتا رہے۔ کبھی کسی جگہ میں، کبھی کسی خوشبو میں، کبھی کسی لفظ میں اور کبھی کسی آواز میں۔

لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ زندگی صرف یادوں کا نام نہیں۔ انسان کو اپنے درد کے ساتھ جینا بھی سیکھنا پڑتا ہے۔ محبوب کی یاد کو دل میں عزت سے رکھنا چاہیے، مگر اپنی زندگی کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ محبت اگر سچی ہو تو وہ انسان کو تباہ کرنے کے بجائے اسے مضبوط بناتی ہے۔

اب اگر گولی کی آواز سن کر مجھے اپنے محبوب کی آواز محسوس ہوتی ہے تو میں اسے اپنی محبت کی ایک یاد سمجھتا ہوں، نہ کہ موت کی دعوت۔ میں اس آواز میں اپنے گزرے ہوئے وقت کی پرچھائیں دیکھتا ہوں، اپنے محبوب کی یاد سنتا ہوں اور پھر خود سے کہتا ہوں کہ کچھ محبتیں انسان کے ساتھ رہتی ہیں، مگر انسان کو ان محبتوں کے ساتھ زندہ رہنا بھی سیکھنا پڑتا ہے۔

آخرکار عشق کسی گولی کا نام نہیں، عشق اس دل کا نام ہے جو جدائی کے بعد بھی محبت کرنا جانتا ہے، جو درد کے باوجود انسانیت نہیں چھوڑتا، اور جو اپنے محبوب کی یاد کو سینے میں رکھ کر بھی زندگی کی طرف واپس آنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔