کراچی: حکام کا تین ایس آر اے ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ

39

پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے سندھودیش ریوولوشنری آرمی (SRA) سے وابستہ تین عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) فیز 2 میں چودہ اگست کے ایک اسٹال کے مالک کو فائرنگ کرکے قتل کرنے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

حکام کے مطابق ظفر علی، فراز اور سجاد احمد کو 18 اگست کو کورنگی کاز وے کے قریب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور ایک وفاقی خفیہ ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت مذکورہ افراد کے قبضے سے تین دستی بم اور ایک پستول برآمد کیا گیا۔ ان کے بقول گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا وہ شہر میں ہونے والی دیگر پرتشدد یا دہشت گردی کی کارروائیوں سے بھی منسلک رہے ہیں۔

حکام کے مطابق مذکورہ افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے 12 اگست کو ڈی ایچ اے فیز 2 میں سن سیٹ بلیوارڈ کے قریب چودہ اگست کے لیے لگائے گئے ایک اسٹال پر فائرنگ کی تھی۔
اس فائرنگ میں اسٹال کے مالک، جس کی شناخت حکام نے امان کے نام سے کی ہے، شدید زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق انہیں ان کی اہلیہ اور بچوں کے سامنے گولی ماری گئی تھی اور بعد ازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے کردار اور حملے کے محرکات سے متعلق شواہد سامنے آئے، جن کی بنیاد پر انہیں حراست میں لیا گیا۔

پاکستانی حکام کا مزید دعویٰ ہے کہ گرفتار افراد کو بیرونِ ملک موجود ایس آر اے کے ایک رکن ارسلان شاہ کی جانب سے ہدایات اور مالی معاونت فراہم کی گئی تھی۔

حکام کے مطابق مذکورہ افراد کو اگست کے پہلے ہفتے میں رقم فراہم کی گئی، جس کے بعد انہیں مذکورہ حملہ کرنے کے لیے متحرک کیا گیا۔ تاہم حکام نے اس دعوے کی مزید تفصیلات، بشمول مبینہ مالی منتقلی کے طریقہ کار، عوامی طور پر فراہم نہیں کیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کار اب مبینہ طور پر گرفتار افراد کے رابطوں اور ممکنہ سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران گرفتار افراد کے دیگر ممکنہ حملوں میں کردار اور ایس آر اے کے وسیع تر نیٹ ورک سے ان کے روابط کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس خبر میں شامل الزامات اور تفصیلات پاکستانی حکام کے سرکاری بیانات پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔