بلوچستان کے ضلع کوہلو میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے سول سوسائٹی کی جانب سے ہیپاٹائٹس آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں سرکاری افسران، طلبہ، سیاسی و قبائلی عمائدین، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
آگاہی واک محمد نواز مری چوک سے شروع ہوئی اور شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی ختمِ نبوت چوک پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ چیئرمین میر نثار احمد مری، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر خالد مری اور دیگر شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کوہلو میں ہیپاٹائٹس جیسے موذی مرض کے پھیلاؤ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ ضلع کے متعدد علاقوں میں کئی ایسے خاندان موجود ہیں جہاں ایک ہی گھر کے دو سے تین افراد ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہیں۔ تاہم، صورتحال کی درست تصویر سامنے لانے کے لیے ضلع بھر میں جامع اور فوری اسکریننگ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ طبی مراکز میں حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ غیر محفوظ طبی طریقہ کار، آلودہ یا دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجیں اور حجام کی دکانوں پر غیر محفوظ بلیڈز کا استعمال بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
شرکاء نے وفاقی و صوبائی حکومت، محکمہ صحت اور متعلقہ ہیپاٹائٹس پروگرام سے مطالبہ کیا کہ ضلع کوہلو میں ہنگامی بنیادوں پر جامع اسکریننگ مہم شروع کی جائے، متاثرہ افراد کی تشخیص اور مفت علاج کو یقینی بنایا جائے، جبکہ عوام کو ہیپاٹائٹس سے بچاؤ، ویکسینیشن اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے بھرپور آگاہی فراہم کی جائے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ بنیادی مراکزِ صحت اور دیگر سرکاری طبی مراکز میں ضروری سہولیات، ٹیسٹنگ کٹس اور علاج کی ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، تاکہ مرض کے مزید پھیلاؤ کو بروقت روکا جا سکے۔



















































