برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) نے بدھ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو ایک نامعلوم قسم کے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی۔ بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا اور عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔ تاحال ماحولیاتی آلودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ گذشتہ دو روز کے دوران ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور بارودی سرنگوں کی مشترکہ صفائی کی کارروائیوں پر بات چیت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن نے ایران پر اقتصادی پابندیوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں بچھائی گئی بحری بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں۔
فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی، تاہم گذشتہ چھ ماہ کے دوران جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ایران نے بدھ کے روز ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، اگرچہ حالیہ دنوں میں اس نے امریکی اقتصادی دباؤ کے جواب میں خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے بنیادی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ ردِعمل دے گا۔
















































