بی ایل ایف نے 11 مختلف کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرلی

81

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 29 جولائی 2026 کے دن تین بجے خاران کے علاقے گْواش بُٹّ میں سی پیک لنک روڈ پر ناکہ بندی کرکے پانچ گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی۔ ناکہ بندی کا مقصد علاقے میں مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور دشمن کی نقل و حرکت کو محدود کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں کو تنظیم کے انٹیلی جنس ونگ نے ڈی ایس پی مرید بگٹی کی ایک سویلین گاڑی میں سفر کی خفیہ اطلاع دی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر 28 جولائی 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے کوہ سلیمان ڈویژن میں رکھنی کے قریب رکھنی – کوہلو روڈ پر کھٹہ چوکی  کے مقام پر ناکہ بندی کرکے سنیپ چیکنگ کی۔ اس دوران ٹارگٹ ڈی ایس پی مرید بگٹی وہاں پہنچے اور سرمچاروں کی ناکہ بندی دیکھ کر اس نے بھاگنے کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے ناکام بناتے ہوئے مرید بگٹی کو گن میں سمیت گرفتار کرلیا۔ ہمارے سرمچاروں نے ڈی ایس پی کی گن مین رسول بخش کو تنبیہ کرکے چھوڑ دیا جبکہ قومی مجرم ڈی ایس پی مرید کو موقع پر ہی فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ اس قومی مجرم ڈی ایس پی مرید کا سرفراز بگٹی نے رکھنی سے بارکھان تبادلہ کروایا تھا۔ اس حصوصی تعیناتی کا مقصد علاقے میں نام نہاد امن فورس کے نام پر ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کو فعال کرنا تھا۔ امن فورس ریاستی قائم کردہ ایک دہشت گرد گروپ ہے جس کو علاقے میں جبری اغوا، چوری، لوٹ مار اور عام لوگوں کو تنگ کرنے کی کھلی چوٹ حاصل ہے۔ اسی دہشتگرد گروپ کی پشت پناہی اور سہولت کاری کے جرم میں بی ایل ایف نے قومی مجرم ڈٰی ایس پی مرید بگٹی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 28 جولائی 2026 کی دوپہر ایک بجے قابض پاکستانی فوج کے تین گاڑیوں پر مشتمل فوجی قافلے کو خضدار کے علاقہ وڈھ میں باران لک ہوٹل کے مقام پر گھات لگا کر حملے میں خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے شدید نشانہ بنایا۔ اس مہلک حملے کے نتیجے میں قابض فوج کے 10 اہلکار موقع پر ہی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ حملے کی زد میں آنے سے قابض فوج کی دو گاڑیاں بھی ناکارہ ہوگئیں۔

ترجمان نے کہا کہ 26 جولائی 2026 کو سرمچاروں نے خاران تا یک مچ سی پیک لنک روڈ پر پیش قدمی کرتے ہوئے قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو پیشگی گھات لگا کر حملے کا نشانہ بنایا۔ سرمچاروں کے اس مربوط حملے کے نتیجے میں قابض فورسز کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
26 جولائی 2026 کو مستونگ کے علاقے تلخہکابی میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ اور گاڑیوں کے گشتی قافلے کو بیک وقت بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس مربوط کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے 2 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
25 جولائی 2026 کو نال کے علاقے گریشہ باڈی میں تنظیمی انٹیلی جنس کی خفیہ اطلاع پر سرمچاروں نے ایک منظم آپریشن کرتے ہوئے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہم کارندے نبی بخش کو ہلاک کر دیا۔ مجرم نبی بخش قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کا ایک اہم اور فعال رکن تھا، جو ریاستی آلہ کار صمد کا دستِ راست سمجھا جاتا تھا۔ ملزم نال، گریشہ، جھاؤ اور ان کے گرد و نواح کے علاقوں میں فوجی آپریشنز میں سہولت کاری، بھتہ خوری، منشیات کی فروخت، بلوچ عوام کو ہراساں کرنے اور دیگر کئی سماجی برائیوں میں براہِ راست ملوث تھا۔ اس کے علاوہ نبی بخش سرمچار شہید شاہ زیب، شہید جاوید، شہید مہیم اور دیگر سرمچاروں کی شہادت میں بھی براہِ راست شریک رہا تھا، جسے سرمچاروں نے ہلاک کر کے اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔
بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 25 جولائی کے دن 12:00 بجے کے قریب کیچ کے علاقہ دشت کھڈان میں قائم ایف سی کیمپ پر اے ون کے متعدد گولے فائر کئے جو کیمپ کے اندر اہداف پر گرے جس سے دشمن کو جانی و مالی نقصان پہنچا۔ اسی روز ایک اور حملے میں مغرب کے وقت بل نگور میں قائم ایف سی کے مرکزی کیمپ پر بھی اے ون کے متعدد گولے فائر کئے گئے جو کیمپ کے مختلف حصوں میں گرے جس سے دشمن کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
بل نگور کیمپ پر حملے کے بعد دشمن نے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی اور راستوں کو بند کرکے کواڈ کاپٹروں سے نگرانی اور حملے شروع کر دئیے۔ جوابی کاروائی میں سرمچاروں نے کواڈ کاپٹروں کو نشانہ بنا کر ایک کواڈ کاپٹر کو گرا کر تباہ کردیا۔ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے گوریلہ حکمت عملیوں سے دشمن کے پیدل فوج کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کا محاصرہ توڑ کر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
24 جولائی 2026 ہی کو سرمچاروں نے مشکے کے علاقے ملش بند میں قائم قابض پاکستانی فوج کی ایک چوکی کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں کے اس حملہ آور عمل کے نتیجے میں قابض فوج کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ 24 جولائی 2026 کو مستونگ کے علاقے مرو اسپلنجی میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج پر آئی ای ڈی (IED) دھماکے سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 7 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ دریں اثنا، جائے وقوعہ پر پیش قدمی کرنے والی اضافی کمک کو بھی سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے گھات لگا کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مزید 5 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس پوری کارروائی میں مجموعی طور پر دشمن کے 12 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔
22 جولائی 2026 کو مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں میکرو اسٹاپ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے پیش قدمی کرتے قافلے پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے 17 اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 15 جولائی 2026 کو مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں الحسن ہوٹل کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ اس حملے کی زد میں قافلے کی دو گاڑیاں آئیں۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 4 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ دونوں گاڑیاں مکمل طور پر ناکارہ ہو گئیں۔ حملے کے دوران دیگر اہلکار فرار ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف مستونگ، خاران، نال، رکھنی، خضدار، دشت اور مشکے میں 11 مختلف کارروائیوں میں 45 فوجی اہلکار، ڈی ایس پی مرید بگٹی اور ڈیتھ اسکواڈ کارندہ نبی بخش کو ہلاک کرنے کی زمہ داری قبول کرتی ہے۔ ان تمام کارروائیوں کو کامیابی سے انجام دینے کے بعد بی ایل ایف کے سرمچار بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔