استاد واحد کمبر بلوچ کو جنگی قیدی کا درجہ دے کر منظرِ عام پر لایا جائے۔ بی این ایم

91

بلوچ نیشنل مومنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ قومی رہنما استاد واحد کمبر بلوچ گزشتہ دو سال سے پاکستانی فوج کے عقوبت خانوں میں قید ہیں، وہ بلوچ قوم کے سرکردہ رہنما ہیں، لہٰذا انھیں جنگی قیدی کا درجہ دے کر فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے قبضے میں ایک مقبوضہ وطن ہے اور استاد واحد کمبر بلوچ اپنے وطن کی آزادی کی جدوجہد کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، تحریکِ آزادی کو عوامی جدوجہد کی شکل دینے میں ان کا کردار انتہائی اہم اور فیصلہ کن رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 19 جولائی 2024 کو استاد واحد کمبر بلوچ کو ایران کے شہر کرمان سے پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغوا کیا، جہاں وہ دل کے عارضے کے علاج کے لیے اپنے قریبی عزیزوں کی معاونت سے مقیم تھے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی روشنی میں استاد واحد کمبر بلوچ کو جنگی قیدی کا درجہ دیا جانا چاہیے۔

بی این ایم کے مطابق انھیں جیل میں  جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ انھیں ذہنی طور پر توڑ کر ان کے نظریات کے برخلاف بیانات دلوائے جا سکیں، وہ عمر رسیدہ اور علیل ہیں، جس کے باعث ان کی صحت اور جان کے حوالے سے شدید خدشات موجود ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے پاکستان کو انسانی حقوق کی پاسداری پر مجبور کرنے میں اب تک ناکام رہے ہیں، پاکستان بین الاقوامی برادری سے مختلف تجارتی اور سفارتی مراعات حاصل کرتا ہے، جن کی بنیادی شرط جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کا احترام ہے، مگر ریاستِ پاکستان ان شرائط پر پورا اترنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری پاکستان کو جوابدہ بنائے اور اس پر مؤثر پابندیاں عائد کرے، کیونکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل بدترین ہوتی جا رہی ہے اور جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزاؤں اور سیاسی جبر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔