بلوچستان کے علاقے کچلاک میں چمن سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ لڑکی کو اس کے شوہر عبدالستار نے تشدد اور تیز دھار آلے سمیت سریوں کے وار کرکے قتل کردیا۔
مقتولہ کے خاندان کے مطابق مقتولہ کے جسم پر تشدد کے شدید نشانات موجود تھے جبکہ اس کے گردن، سینے، پیٹ اور چہرے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر وار کیے گئے، تشدد کے دوران لڑکی کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی گئی۔
اہلِ خانہ کے مطابق مقتولہ کی شادی تقریباً دو سال قبل، صرف 13 سال کی عمر میں عبدالستار سے ہوئی تھی مقتولہ کا تعلق عثمان زئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے، خاندان کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کے باعث کم عمری میں اس کی شادی کردی گئی تھی۔
مقتولہ کے والدین جنہوں نے کم عمری میں اس کی شادی عبدالستار سے کی تھی، نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ قتل کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق ملزم پر اس سے قبل ایک اور خاتون کے قتل کا الزام عائد ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں مقدمہ بھی درج ہے۔
بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کا وسیع تر پس منظر
کچلاک کا یہ واقعہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد، کم عمری کی شادی، گھریلو تشدد اور نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے مسلسل سامنے آنے والے واقعات کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔
بلوچستان میں گھریلو تشدد کے نتیجے میں خواتین کے قتل کے واقعات بارہا رپورٹ ہوئے ہیں جنوری 2023 میں شائع ہونے والی عورت فاؤنڈیشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2022 میں بلوچستان میں کم از کم 66 خواتین گھریلو تشدد کے واقعات میں قتل ہوئیں، جبکہ 2021 میں یہ تعداد 57 تھی۔
رپورٹ کے مطابق 2022 میں قتل ہونے والی 66 خواتین میں سے 19 کو مبینہ طور پر نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔
عورت فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 سے 2023 کے درمیان بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے 324 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اسی عرصے میں 179 افراد نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے۔
حالیہ برسوں میں بھی ایسے واقعات کا سلسلہ جاری رہا ہے اکتوبر 2025 میں حب کے علاقے بھوانی میں ایک خاتون کو اس کے شوہر نے گھریلو تنازع پر گولی مار کر قتل کردیا تھا، پولیس کے مطابق ملزم واقعے کے بعد فرار ہوگیا اور مقدمہ درج کرکے اس کی تلاش شروع کی گئی۔
جولائی 2025 میں نصیرآباد کے قریب ایک خاتون کو اس کے شوہر کی جانب سے گلا گھونٹ کر قتل کیے جانے کی رپورٹ بھی سامنے آئی تھی پولیس نے واقعے کو غیرت کے نام پر قتل قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کیا تھا۔
بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے متعدد واقعات میں پاکستانی فورسز اور ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈز کی جانب سے خواتین کی جبری گمشدگی، اغوا اور تشدد کے متعدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، گذشتہ روز تربت سے ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈ نے ایک خاتون کو اسلحہ کے زور پر اغوا کرکے تشدد کے بعد قتل کردیا تھا۔
مزید برآں بلوچستان سے متعدد خواتین تاحال جبری گمشدگی کا شکار ہیں جنھیں پاکستانی فورسز نے حراست بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے، جس کے بعد وہ منظرعام پر نہیں آسکے ہیں۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں کے مطابق ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کم عمری کی شادی، گھریلو تشدد، نام نہاد غیرت کے نام پر قتل اور دیگر صنفی تشدد کے مقدمات میں مؤثر قانونی کارروائی، متاثرہ خواتین کے لیے تحفظ اور انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔



















































