محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ نصیر آباد ریجن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے پانچ افراد کی فنگر پرنٹس کے ذریعے شناخت کر لی گئی ہے۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کردہ ایک دعویٰ میں کہا گیا ہے کہ تھانہ سی ٹی ڈی نصیر آباد میں درج مقدمہ نمبر 38/2026 کے سلسلے میں کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے پانچ افراد کی شناخت جو سال ولد خیر محمد، سونو خان ولد امام داد، عبدالرزاق ولد عبدالغنی، سردار علی ولد مٹھن اور آباد ولد میر خان کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ادارے کے مطابق لاشیں سول ہسپتال کوئٹہ کے مردہ خانے میں موجود ہیں اور ورثاء کی تلاش جاری ہے۔
دریں اثنا، ہلاک شدگان میں شامل عبدالرزاق پرکانی ولد عبدالغنی، سکنہ مری آباد مچھ ضلع کچھی کے بارے میں تفصیلات سامنے آیا ہے کہ انہیں رواں سال 10 جنوری 2026 کو عبدالغفار قلندرانی کے پیٹرول پمپ سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ تھے اور ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
خیال رہے کہ یہ بلوچستان میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی متعدد بار سی ٹی ڈی پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا جاتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں بلوچستان میں اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جن میں لاپتہ افراد کی لاشیں “مقابلوں” کے بعد ملتی رہی ہیں۔ قوم پرست ریاستی اداروں پہ الزام عائد کرتے ہیں بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور جعلی مقابلے روز کا معمول بن چکے ہیں۔
















































