بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔ گورنر بلوچستان

95

گورنر بلوچستان جعفر مندوخیل کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے کسی قسم کا علم نہیں۔

کوئٹہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےجعفر مندوخیل نے کہا کہ گورنر راج کا معاملہ اسلام آباد کے صاحب اختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہے، صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے کسی قسم کا علم نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہے ،آج بحیثیت گورنر کئی باتیں نہیں کرسکتا ،جب گورنر نہیں ہوں گا تو کھل کرتبصرہ کروں گا۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے موجودہ حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، صوبے میں امن کی بحالی کے لیے سب کو مل بیٹھ کر غور کرنا ہوگا۔

بلوچستان بار کونسل کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں جو خدمات انجام دیں، وہ ان کی ذمہ داری اور فرض تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں کوئٹہ جاتے ہوئے احتیاط کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جبکہ ایک وقت تھا جب وہ بغیر کسی محافظ کے کہیں بھی چلے جاتے تھے، صوبہ اس صورتحال تک کیسے پہنچا، یہ غور طلب بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امن چاہیے کیونکہ امن ہوگا تو کاروبار چلے گا اور لوگ عدالتوں میں آسکیں گے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سانحہ سول اسپتال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سانحے کو نہیں بھول سکتے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے صوبے میں ریاستی رٹ کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں حکومتی رٹ قائم ہے، تاہم حکومتی اتحادی اور اپوزیشن جماعتیں اس مؤقف پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کی اہم شاہراہوں پر بی ایل اے کا کنٹرول ہے، اعلیٰ سرکاری افسران اور ریاستی مشینری سے وابستہ افراد کے اغوا کے واقعات، جبکہ رواں سال بی ایل اے کے آپریشن ’’ہیروف دوم‘‘ کے دوران کوئٹہ کے ریڈ زون تک تنظیم کے جنگجوؤں کی رسائی، حکومتی ناکامی کا ثبوت ہے۔