داستانِ خاران – میراس بلوچ

3

داستانِ خاران

تحریر: میراس بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

پچھلے کئی برسوں سے گوادر جیسی سرزمین، جسے دنیا کی ہر ریاست اپنے ریلیشن میں دیکھنا چاہتی ہے، جس کی بندرگاہ دنیا میں انتہائی مشہور بندرگاہوں میں شامل ہو جاتی ہے، جہاں پر ریاستِ ناپاک پاکستان شکست خوردہ ہو کر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش میں کئی بے گناہ لوگوں کو اٹھا کر انہیں کئی برسوں تک اپنے قید خانے میں رکھ کر اذیت دینے کے بعد جسم کے گوشت کو کاٹ کاٹ کر کے مسخ کرنے کے بعد لاش کئی ویرانے میں پھینک دیتے ہیں۔ شال جیسی سرزمین، جو برفائے بدن ہو کر دل کو ٹھنڈک دیتی ہے، جس کی سرد ہوا نکلتی ہے تو جنت کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے، جسے قابض ریاست نے جہنم بنا کر مظلوم لوگوں کو اسی آگ میں دھکیلا گیا ہے، جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں ویرانوں میں قبرستان بنا کر بے گناہ لوگوں کو مسخ کر کے خاموشی سے دفنا دیا جاتا ہے۔ راسکوہ جیسی سرزمین، جہاں پر آج بھی لوگ اسی آگ میں جل رہے ہیں، جہاں پر قابض نے لوگوں کو بے دخل کرنے کی ناکام کوششیں کیں۔

اوپر پہاڑی پر بیٹھ کر وہ اسی خیالوں میں گم تھا کہ شہیک کو کان میں آواز آئی، ”شہیک نیچے آؤ، سنگت بُلا رہے ہیں۔“ شہیک جیسے ہی اپنے ہوش میں آیا تو وہ پہاڑی کے بہت اوپر سگریٹ کی کش لگاتے ہوئے اپنے کلاشنکوف پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ شہیک اٹھ کر جیسے ہی نیچے آیا تو سب دوست کسی تیاری میں تھے۔ کوئی دوست اپنی بندوق کو کھول کر صفائی کر رہا تھا تو کچھ دوست اپنے میگزین، رینج برابر کر رہے تھے۔ سنگت میرین شہیک سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا،

”اپنی تیاری کرو، مشن پر جانا ہے۔ ویسے کسی پلاننگ ہو تو اسی مشن کے ٹائم پر بتا دیا جاتا ہے۔“

شہیک بھی اپنی بندوق کھول کر صفائی کرنے لگا۔ سب کچھ کرنے کے بعد اب سنگت میرین، جو دوستوں کو کمانڈ کر رہے تھے، سب سے مخاطب ہو کر ایک سرکل بنا دیا گیا، جہاں پر مشن کے بارے میں پلاننگ کرنی تھی۔ سنگت میرین ایک نقشہ نکال کر دوستوں کو آگاہ کر رہے تھے کہ خاران شہر میں قابض ریاست کو اپنے عبرت ناک انجام تک پہنچانا ہے، جہاں پر قابض اپنے نام نہاد جشنِ آزادی میں مصروف تھا۔ نقشے پر سب کچھ بتایا کہ راستہ کہاں سے مارنا ہے، کہاں سے نکلنا ہے۔ سنگت میرین نے تین الگ الگ ٹیمیں بنائیں، جہاں پر ہر ایک ٹیم کو ایک لیڈنگ سنگت دیا گیا۔ سنگت میرین مشن کے بارے میں سمجھا رہے تھے۔ سنگت نے ٹائم منتخب کر کے بتا دیا کہ اسی ٹائم نکلنا ہے۔

کئی پر کچھ دوستوں نے سوال شروع کیا اور سنگت میرین نے مہر و محبت سے جواب دے کر سمجھایا، ”عموماً کئی پر بھی جنگ چھوٹی یا بڑی لڑی جاتی ہے، پلاننگ کے بغیر جنگ ناکام ہے۔“ سنگت میرین نے آخری بار دوستوں سے پوچھا، ”کسی کو بھی کئی پر کوئی سوال ہے تو بتاؤ۔“ اب مشن پلاننگ کا ٹائم ختم ہو کر شام کے قریب ہو رہے تھے۔ کچھ دوستوں نے روٹی بنا کر ایک ساتھ سب نے کھانا کھایا، ایک دوسرے کو مذاق کے انداز میں چھیڑ رہے تھے۔ سب اب اپنے ٹائم گزرنے کے بعد سنگت میرین کی پھر سے آواز آئی اور انہوں نے کہنا شروع کیا، ”تیاری کرو دوستوں۔“ تو سب دوستوں نے اپنی بندوق اٹھا کر اپنی بلوچی بوتل، جو رنگ برنگی کپڑوں سے لپٹی ہوئی بوتل تھی، پانی سے بھر دی۔

تقریباً ساڑھے گیارہ بج رہے تھے رات کے، کچھ بائیک اور کچھ گاڑیاں نکال کر سب دوست نکل پڑے اپنی سرزمین کی دفاع اور اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے۔ ہر ایک دوست دوسروں سے عجیب تھا، ہر کسی کی پیشانی پر الگ ہی غصہ تھا، دشمن کے لیے ہر کوئی مرنے کے لیے جا رہا تھا، ہر کوئی اپنا سینہ گولی کھانے کے لیے آگے کر رہا تھا۔ دور سے خاران شہر کی لائٹیں نظر آ رہی تھیں۔ ایک عجیب سی محبت تھی، ہوا اپنے جوش سے نکل رہی تھی، سب کے بال ہوا میں ہل رہے تھے۔ ایک شہر جہاں پر سب اپنی آرام دہ زندگی گزار رہے تھے، ہر کوئی اس ٹائم اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر اپنے خواب پورے کرنے کے لیے سوچ رہا تھا کہ کچھ وطن زاد شہر میں داخل ہوئے۔

اب پلان کے مطابق ہر ایک دوست نے اپنا الگ راستہ منتخب کیا۔ سنگت شہیک، جو سنگت میرین کی ٹیم میں تھا، کچھ گلیاں آر پار کر کے ہر کسی نے اپنا مشن شروع کیا۔ ایک ہی ٹائم پر دوستوں نے تین مختلف جگہوں پر حملہ شروع کیا، جہاں پر لیویز لائن، پولیس تھانہ اور سی ٹی ڈی دفتر ایک ساتھ ہی تھے، تیسرا ڈی سی آفس تھا، جہاں پر بلوچ انسرجنسی کو کاؤنٹر کرنے کی پلاننگ بنائی جاتی تھی۔ سنگت میرین خاران شہر کے پولیس تھانے پر حملہ آور ہوئے۔ گولیوں کی آواز سن کر لوگ خوشی محسوس کرنے لگے۔ ہر طرف سے رات کے اندھیرے میں گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ خاران شہر بلوچ جنگجوؤں کے قبضے میں آ گیا، تو کوئی کہہ رہا تھا کہ ڈیتھ اسکواڈ والوں کے لیے موت آ گئی ہے۔ ہر کوئی اپنی طرح اپنے جذبات ایک دوسرے سے نکال رہا تھا۔ ہر گھر میں ماؤں نے درود، قرآن شریف اور تسبیح پڑھتے ہوئے اپنی سرزمین کی دفاع کرنے والوں کے لیے دعائیں کر رہی تھیں۔

اب ریاست کے لیے ایک خوف سی چھا گئی۔ ڈیتھ اسکواڈ کے لوگ ڈر کے سائے میں جی رہے تھے۔ پولیس لائن کو دوستوں نے کچھ ہی منٹ میں اپنے قبضے میں لے کر سب کو یرغمال بنا لیا۔ اب مختلف کونوں پر دوستوں کی پوزیشن بنی ہوئی تھیں۔ سنگت میرین اب وائرلیس آن کرتے ہوئے دوسری ٹیموں سے رابطہ کرنے لگے۔ وائرلیس سے سنگت زگرین کی آواز آئی، جو لیویز لائن والی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے، ”سنگت، یہاں پر کچھ اے ٹی ایف والوں سے کچھ جھڑپیں ہوئیں، بعد میں انہیں یرغمال بنا دیا۔ باقی سب کچھ کلیئر ہے، اب لیویز لائن ہمارے کنٹرول میں ہے۔“

وائرلیس سے سنگت گہرام کی آواز آئی اور انہوں نے کہنا شروع کیا، ”سنگت، ڈی سی آفس کو ہم نے گھیرے میں لے لیا ہے، اب مختلف مقامات پر شدید حملہ کر رہے ہیں۔“ سنگت میرین نے پولیس لائن کے کچھ اہلکار گرفتار کیے، جنہیں تفتیش کے بعد بلوچ ہونے کے ناتے چھوڑ دیا گیا۔ پولیس لائن سے اب ہر طرف دھواں اڑ رہا تھا۔ شہیک کے ہاتھوں میں کچھ پٹرول اور ایک ماچس تھی، ساتھ میں سب کچھ جل رہا تھا۔ سرکاری ریکارڈ، جہاں پر اپنے ہی طریقے سے کسی کو پکڑ کر اندر ڈالا اور سرکاری بندوں کو اپنی طرح نکالا جاتا تھا، سب ریکارڈ شہیک نے اپنے جوش و جذبات سے جلا دیا۔ سی ٹی ڈی آفس کے ریکارڈ بھی اسی کے ساتھ جلائے۔ سرکار کا جنگی ساز و سامان اپنے قبضے میں لے کر اب ہر طرف دوستوں کی پوزیشن تھی۔ ہر شاہراہ پر ناکہ بندی تھی، داخلی و خارجی راستوں پر بلوچ جنگجو پوزیشن سنبھالے ہوئے تھے۔

اب پلان کے مطابق کام ہونے کے بعد سب سنگت ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ پولیس لائن، لیویز لائن اور ڈی سی آفس سب کچھ پر حملہ اور جلانے کے بعد دوستوں نے نکلنے کی تیاری کی۔ اب تقریباً رات کے دو بج رہے تھے۔ سب کچھ ہونے کے بعد اب سینئر کمانڈ کے انتظار میں تھے کہ وہ کیا کہیں گے۔ اب وائرلیس آن کرتے ہوئے سنگت میرین نے سب ٹیموں سے کہنا شروع کیا، ”قربان، کام ہو چکا ہے، اب پلان کے مطابق سب کو نکلنا ہے۔ زگرین، آپ اپنے دوستوں کو لے کر جہاں پر بتایا تھا وہاں پر لے جائیں۔“ اور سنگت گہرام سے مخاطب ہو کر سنگت میرین نے کہا، ”اب آپ بھی دوستوں کو لے کر اپنے ٹھکانے پہنچ جاؤ۔“

اب گاڑیوں اور بائیکوں پر دوست مختلف راستوں کا انتخاب کر کے نکل پڑے۔ شہیک، جو گاڑی کے پیچھے تھا، جہاں خاران سرزمین کی ہوا کا مزہ لیتے ہوئے پھر سے خیالوں میں گم ہوا، اچانک اوپر ڈرون کی آواز مچھر کی طرح آ رہی تھی۔ اب سب دوستوں سے رابطہ کرتے ہوئے سنگت میرین نے کہا، ”اپنے آپ کو سنبھالو، دشمن کا ڈرون آ چکا ہے۔“ اب سب دوست مختلف راستوں سے شہر سے نکلے۔ اب ہر طرف پہاڑ ہی پہاڑ تھے۔ دوست اپنے اپنے ٹھکانوں پر بحفاظت پہنچ گئے۔

اور سنگت شہیک پہلے ہی چاہ دان کو لے کر پانی بھرنے لگا۔۔۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔