سبی میں ناکہ بندی، قابض فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 6 فوجی اہلکار ہلاک، پولیس چوکی نذرآتش اور سرمچار شہید۔ بی آر جی

0

بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے آج صبح 5 بجے سے لیکر 7 بجے تک بلوچ ریپبلکن گارڈز کے سرمچاروں نے بلوچستان کے ضلع سبی کے علاقے مٹھڑی میں مرکزی ہائی وے پر ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی مکمل تلاشی لی۔ 

ترجمان کے مطابق اسی دوران قابض پاکستانی فورسز نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، سرمچاروں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے فورسز پر حملہ کیا، کافی دیر تک شدید جھڑپ میں قابض دشمن کے 6 فوجی اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہوگئے۔

دوستین بلوچ کے مطابق سرمچاروں نے دوسرے طرف وہاں موجود ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا، پولیس اہلکار خوفزدہ ہوکر بزدلی سے بھگ نکلے، سرمچاروں نے چوکی کو اپنے کنٹرول میں لے کر تمام سازو سامان، موٹر سائیکلیں ضبط کر کے چوکی کو نذر آتش کردیا۔

ترجمان نے کہا اس پرعزم مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے دوران تنظیم کے ایک بہادر سرمچار شہید اصغر ولد عبدل حمید، سکنہ کچھی نے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ 

انہوں نے کہا اس کا یہ عظیم ایثار اور لازوال قربانی بلوچستان کی آزادی کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔ شہید اصغر جان نے 2025 کو بی آر جی میں شمولیت اختیار کی، شہید اصغر جان ایک انتہائی بہادر سرمچار تھے۔ 

انہوں نے مزید کہا اس نے بلوچ قومی آزادی جنگ میں بخوبی انداز میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کچھی ڈھاڈر، سنی، بولان، سبی جیسے تمام علاقوں میں قابض دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔

بی آر جی ترجمان نے کہا ہے بلوچ ریپبلکن گارڈز اپنے شہدا کے فکر اور فلسفے پر گامزن رہتے ہوئے بلوچ قوم کو یقین دلاتی ہے کہ شہدا کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا اور آزاد و خودمختار بلوچستان کے قیام تک یہ جنگ تمام تر محاذوں پر پوری قوت اور دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ لڑی جائے گی۔

دوستین بلوچ نے آخر میں کہا ان حملوں کی ذمہ داری ہماری تنظیم بی آر جی قبول کرتی ہے اور شہید اصغر جان کو سرخ سلام پیش کرتی ہے، ہمارے اس طرح کی کارروائیاں بلوچستان کی مکمل آزادی تک جاری رہیں گے۔