کوئٹہ: محمد سدیس لانگو کے قتل کیس میں اہم احکامات، دو کم عمر چرواہوں سمیت تین افراد جبری لاپتہ

37

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6401ویں روز بھی جاری رہا۔

وی بی ایم پی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، جبری لاپتہ محمد سدیس لانگو کے ماورائے عدالت قتل کے کیس میں تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، سدیس کے لواحقین کے ہمراہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔

کمیشن کے بلوچستان چیپٹر کے سربراہ جسٹس امان اللہ پسین زئی کے حکم پر محمد سدیس کے ماورائے عدالت قتل کے معاملے میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور متعلقہ اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا۔

کمیشن کے جج نے سول لائنز کے ایس ایچ او کو ہدایت کی کہ سدیس کے لواحقین کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے اور ایک ہفتے کے اندر کمیشن کو رپورٹ پیش کی جائے۔

کمیشن کے جج نے انتظامیہ کو یہ بھی حکم دیا کہ محمد سدیس کی قبر کشائی کرکے ان کی میت لواحقین کے حوالے کی جائے، تاکہ اہل خانہ ان کی میت کو ادب و احترام کے ساتھ دوبارہ دفن کر سکیں۔

لواحقین کے مطابق، سدیس کو رواں سال 19 اور 20 مئی کی درمیانی شب سیکیورٹی فورسز نے کلی اسماعیل، کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، جبکہ 20 اگست کو انہیں چھ دیگر افراد کے ہمراہ ایک مبینہ جعلی مقابلے میں قتل کردیا گیا۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے محمد سدیس کے کیس میں کمیشن کے احکامات کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم اس اقدام کو سراہتی ہے۔ ان کے مطابق، قانون کی بالادستی اور ایسے اقدامات سے شہریوں کو انصاف فراہم کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھے گا، جس کے پورے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ کمیشن محمد سدیس کے کیس میں مؤثر کردار ادا کرے گا، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائے گا اور متاثرہ خاندان کو ملکی قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ کمیشن جبری گمشدگیوں کے خاتمے، لاپتہ افراد کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی روک تھام اور تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔

علاوہ ازیں، ضلع کیچ اور کوئٹہ سے دو کم عمر چرواہوں سمیت تین افراد کی جبری گمشدگی کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے علاقے گومازی سے تعلق رکھنے والے 14 سالہ قمبر ولد نزار محمد اور 14 سالہ زبیر ولد داد کریم کو 3 ستمبر 2026 کو دوپہر 12 بجے تمپ کے علاقے ازیان سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ دونوں کم عمر لڑکے پیشے کے اعتبار سے چرواہے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، ان کی جبری گمشدگی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جبری گمشدگی کا تیسرا کیس کوئٹہ سے سامنے آیا ہے، جہاں قادری چوک، قمبرانی روڈ کے رہائشی 17 سالہ مصطفیٰ بلوچ ولد گل بلوچ کو 29 ستمبر 2026 کی رات تقریباً 2 بجے ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ مصطفیٰ بلوچ پیشے کے اعتبار سے درزی ہیں۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، ان کی جبری گمشدگی کا الزام آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی پر عائد کیا گیا ہے۔

تینوں افراد کے اہل خانہ تاحال اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات اور ان کی موجودگی سے متعلق تفصیلات کے منتظر ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں ان کی بازیابی کے حوالے سے کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔