خدیجہ اور صفیہ کو جبری گمشدگی کے بعد جبری پریس کانفرنس کروانا ریاست کے دم توڑتے بیانیے کو زندہ رکھنے کی ناکام کوشش ہے۔بی وائی سی

39

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ پہلے سے جبری گمشدگی کے شکار خدیجہ بلوچ اور صفیہ بلوچ سے جبری پریس کانفرنسز کروانا بلوچستان میں ریاست کے دم توڑتے بیانیے کو زندہ رکھنے کی ناکام کوشش ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے اور یہ مسئلہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی ایک طویل تاریخ بن چکا ہے۔ اس کے باوجود ریاست اس جرم کو ختم کرنے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ روکنے کے بجائے اسی جبر کو بیانیہ سازی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو برسوں میں جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچستان میں جس وسیع عوامی مزاحمت اور سیاسی شعور کا اظہار ہوا، اس کے جواب میں ریاستی جبر میں کمی کے بجائے مزید شدت دیکھی گئی۔ خصوصاً گزشتہ ایک سال کے دوران بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جن میں نوجوان خواتین، حاملہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں تک کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات شامل ہیں۔ لیکن اس جبر کی انتہا یہ ہے کہ کسی خاتون کو پہلے جبری طور پر لاپتہ کیا جائے، اسے اس کے خاندان اور دنیا سے چھین لیا جائے، اور پھر اسی شخص کو ایک مخصوص ریاستی بیانیے کے اظہار کے لیے پریس کانفرنس کے سامنے لا کھڑا کیا جائے۔

بی وائی سی نے کہاکہ خدیجہ بلوچ کے معاملے میں ان کے والدین نے بی ایم سی میں ایک ماہ تک احتجاج کیا اور اپنی بیٹی کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ ان کی بیٹی کو جبری گمشدگی کا شکار بنانے کے بعد جبری پریس کانفرنس کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسے شخص کو، جسے پہلے اس کے خاندان اور عوام سے جبری طور پر الگ کیا گیا ہو، بعد ازاں میڈیا کے سامنے لا کر اس کے بیان کو رضاکارانہ سیاسی اظہار کے طور پر پیش کرنا ریاستی جبر کی حقیقت کو چھپا نہیں سکتا۔

بی وائی سی نے کہاکہ صفیہ بلوچ کے معاملے میں بھی بنیادی سوال آج تک اپنی جگہ موجود ہے: ایک بیس سالہ نوجوان خاتون کو جبری گمشدگی کے دوران کہاں رکھا گیا؟ اسے کس قانونی اختیار کے تحت حراست میں رکھا گیا؟ اور اس دوران اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ان سوالات کا جواب کسی پریس کانفرنس سے نہیں بلکہ شفاف قانونی کارروائی اور آزادانہ تحقیقات سے دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ کسی بھی بلوچ خاتون کو جبری گمشدگی کا شکار بنانا، اسے طویل عرصے تک اس کے خاندان سے الگ رکھنا اور پھر ایک مخصوص ریاستی بیانیے کے لیے میڈیا کے سامنے پیش کرنا انسانی آزادی، شخصی وقار اور بنیادی قانونی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بلوچ قوم ایسے جبر کو نہ خاموشی سے قبول کرے گی اور نہ جبری بیانیے کو عوامی حقیقت کا متبادل تسلیم کرے گی۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ عوام سے اپیل کرتی ہے کہ جبری گمشدگیوں کے ہر واقعے کو بین القوامی انسانی حقوق کے اداروں کے پاس درج کرائیں، ہر کیس کی دستاویز کاری کریں اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے خاموشی کے بجائے سیاسی جدوجہد جاری رکھیں۔