بلوچستان کے ضلع جھل مگسی سے اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں مسلح افراد نے نفور کے علاقے میں داخل ہو کر سابق گورنر و وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ریسٹ ہاؤس اور مقامی پولیس تھانے کوٹڑہ کو حملے کا نشانہ بنایا۔
مسلح افراد کی جانب سے راکٹ لانچرز اور دیگر ہتھیاروں سے حملے کے باعث پورا علاقہ گونج اٹھا، جبکہ مسلح حملہ آوروں اور سرکاری حمایت یافتہ گروہ و پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
واقعے میں ہلاکتوں کے حوالے سے تاحال کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ جھل مگسی پولیس کے مطابق علاقے کی ناکہ بندی کرتے ہوئے حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مذکورہ علاقے میں پاکستانی فورسز اور پولیس پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جبکہ متعدد واقعات میں مسلح افراد علاقے میں داخل ہو کر علاقے کا کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔
ماضی میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں، تاہم آج ہونے والے واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

















































