بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پانچ افراد کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ مستونگ سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والی ایک خاتون بازیاب ہو کر کوئٹہ پہنچ گئی۔
تفصیلات کے مطابق حافظ شاہ میر ولد نواب، سکنہ پنجگور، عیسیٰ کو گزشتہ شب پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
کوئٹہ کے کلی جیو سے 20 فروری 2026 کو 13 سالہ طالب علم امان اللہ بنگلزئی ولد عنایت اللہ بنگلزئی کو رات 2 بجے گھر سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
تربت کے علاقے ملائی بازار سے 19 اگست 2026 کو 20 سالہ طالب علم فہد انور ولد انور کو رات 1 بجے گھر سے ایم آئی اور ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔
اسی طرح کیچ کے علاقے بلیدہ کے رہائشی 24 سالہ چنگیز ولد محمد ابراہیم کو 4 ستمبر 2026 کو رات 11 بجے تربت کے علاقے آپسر سے ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
مستونگ کے رہائشی احسان بلوچ ولد محمد اسماعیل کو 9 ستمبر 2026 کو صبح 9 بجے لک پاس چیک پوسٹ، مستونگ سے ایم آئی اور ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔
دوسری جانب مستونگ کے علاقے کردگاپ سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں 11 ستمبر 2026 کو جبری طور پر لاپتہ ہونے والی سیما بلوچ دختر ماسٹر عبد الستار 17 ستمبر کو بازیاب ہو کر کوئٹہ پہنچ گئی ہیں۔



















































