تفتان سے کوئٹہ: 630 کلومیٹر کا سفر اور آرمی ایسکورٹ
تحریر: عبداللہ
(بائیک ٹورسٹ)
دی بلوچستان پوسٹ
تفتان سے کوئٹہ کا سفر بظاہر ایک عام روڈ ٹرپ لگ سکتا ہے، لیکن اس بار صورتحال بالکل مختلف تھی۔ مجھے تفتان میں 11 دن رکنا پڑا، کیونکہ اکیلے آگے سفر کرنا ممکن نہیں تھا اور مجھے آرمی کے قافلے کے ساتھ روانہ ہونے کا انتظار کرنا پڑا۔
آخرکار وہ دن آیا جب مجھے ایک بڑے آرمی ایسکورٹ قافلے کے ساتھ تفتان سے کوئٹہ کی طرف روانہ ہونا تھا۔
سفر کا سب سے مشکل حصہ ہمیشہ سڑک نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی انتظار زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
تفتان میں گزرتے ہوئے 11 دنوں کے دوران میرے ذہن میں ایک ہی سوال تھا:
آخر میں یہاں سے کب نکل سکوں گا؟
میں پاکستان کے مختلف علاقوں اور کئی ممالک میں موٹر سائیکل پر سفر کر چکا ہوں، لیکن اس بار صورتحال میرے اختیار میں نہیں تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ راستہ طویل ہے اور سیکیورٹی صورتحال معمول کے سفر جیسی نہیں۔
اسی لیے آرمی ایسکورٹ کے ساتھ روانگی کا انتظار کرنا ہی بہتر فیصلہ تھا۔
پھر شروع ہوا 630 کلومیٹر کا سفر
جب قافلہ روانہ ہوا تو میرے سامنے ایک غیر معمولی منظر تھا۔
درجنوں بسیں، سیکیورٹی گاڑیاں اور آرمی کی گاڑیاں ایک لمبی قطار میں آگے بڑھ رہی تھیں۔ پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی سڑک پر یہ قافلہ جتنا آگے جاتا، اتنا ہی مجھے احساس ہوتا کہ یہ کوئی عام موٹر سائیکل ٹرپ نہیں ہے۔
میرے لیے یہ سفر تقریباً 630 کلومیٹر کا تھا۔
اتنی لمبی مسافت خود ایک چیلنج ہے، لیکن جب راستے کے ساتھ سیکیورٹی کا خطرہ بھی موجود ہو تو ذہنی دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
سفر کے دوران ایک آرمی اہلکار نے ہمیں خاص طور پر تیز رفتار برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
اس لمحے نے مجھے اندر سے واقعی پریشان کر دیا۔
عام طور پر موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے ہم رفتار کم کرتے ہیں، خوبصورت مناظر دیکھتے ہیں، کیمرہ نکالتے ہیں اور رک کر فوٹیج بناتے ہیں۔
لیکن یہاں صورتحال مختلف تھی۔
یہاں مقصد خوبصورت منظر دیکھنا نہیں بلکہ جلد اور محفوظ طریقے سے خطرناک علاقے سے گزرنا تھا۔
پہاڑ، خاموش سڑک اور ایک لمبا قافلہ
بلوچستان کے پہاڑ اپنی خوبصورتی میں منفرد ہیں۔
دور تک پھیلے ہوئے خشک پہاڑ، خالی سڑکیں اور وسیع و عریض زمین ایک طرف انسان کو حیران کرتی ہے، لیکن دوسری طرف اسی خاموشی میں ایک عجیب سا خوف بھی محسوس ہوتا ہے۔
جب آپ اکیلے موٹر سائیکل پر ہوں تو یہ احساس اور بھی شدید ہو جاتا ہے۔
لیکن اس بار میں اکیلا نہیں تھا۔
میرے آگے اور پیچھے بسوں اور سیکیورٹی گاڑیوں کا ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔
دور سے دیکھنے پر یہ منظر شاید کسی فلم کا حصہ لگتا ہو، لیکن میرے لیے یہ ایک حقیقی سفر تھا۔
کیا بلوچستان محفوظ ہے؟
یہ سوال میرے ذہن میں پورے سفر کے دوران موجود رہا۔
کیا بلوچستان میں موٹر سائیکل پر سفر کرنا محفوظ ہے؟
اس کا ایک سادہ جواب دینا شاید ممکن نہیں، کیونکہ سیکیورٹی صورتحال علاقے، وقت اور حالات کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہے۔
میں نے اس سفر میں جو حالات دیکھے، وہ میرے ذاتی تجربے کا حصہ ہیں۔ کسی بھی دوسرے مسافر کو سفر سے پہلے موجودہ سیکیورٹی صورتحال، مقامی ہدایات، روڈ کنڈیشن اور متعلقہ حکام کی اجازت کے بارے میں تازہ معلومات ضرور حاصل کرنی چاہئیں۔
میرے لیے اس سفر کا سب سے اہم سبق یہی تھا کہ ایڈونچر کا مطلب خطرے کو نظر انداز کرنا نہیں۔
اصل ایڈونچر یہ ہے کہ آپ خطرے کو سمجھیں اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کریں۔
موٹر سائیکل ٹریول صرف خوبصورت راستوں کا نام نہیں
جب ہم موٹر سائیکل ٹریول کی ویڈیوز دیکھتے ہیں تو ہمیں اکثر خوبصورت پہاڑ، جھیلیں، آف روڈ ٹریکس اور کیمپنگ نظر آتی ہے۔
لیکن اصل سفر میں اس کے ساتھ بہت کچھ اور بھی ہوتا ہے۔
کبھی بارڈر پر کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔
کبھی خراب موسم راستہ روک دیتا ہے۔
کبھی موٹر سائیکل میں مسئلہ آ جاتا ہے۔
اور کبھی آپ کو 11 دن ایک جگہ رک کر صرف صحیح وقت کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
یہی وہ لمحات ہیں جو سفر کو صرف ایک ٹرپ کے بجائے ایک کہانی بنا دیتے ہیں۔
630 کلومیٹر کے بعد کوئٹہ
آخرکار وہ لمبا سفر مکمل ہوا اور میں کوئٹہ پہنچ گیا۔
تفتان سے کوئٹہ تک کا یہ سفر میرے لیے صرف 630 کلومیٹر کا فاصلہ نہیں تھا۔
یہ 11 دن کے انتظار، غیر یقینی صورتحال، سیکیورٹی کے خدشات اور ایک بڑے آرمی ایسکورٹ قافلے کے ساتھ سفر کا تجربہ تھا۔
اور شاید یہی موٹر سائیکل ٹریول کی سب سے خوبصورت بات ہے۔
آپ کبھی نہیں جانتے کہ اگلی سڑک آپ کو کیا کہانی دینے والی ہے۔
—
سفر ابھی جاری ہے
میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ Abdullah On Wheels پر صرف منزلیں نہیں بلکہ سفر کی اصل کہانی دکھاؤں۔
میرا مقصد صرف یہ بتانا نہیں کہ میں کہاں پہنچا، بلکہ یہ بھی دکھانا ہے کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے کیا کچھ ہوا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































