نامکمل رباعی – سنگت ھانلی

20

نامکمل رباعی

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

امید و بیم کی بے شمار گردشوں کے بعد، آج شکار بازوں کے اترنے کا دن تھا۔ وہ جو حرمتوں کے پاسبان تھے۔ جب شکاریوں کے حملے حد سے بڑھنے لگے تو آسمان کی بلندیوں میں فیصلہ ہوا کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ انسانیت کے نقاب میں ملبوس، قوت کے نشے میں مدہوش ان وحشیوں کو ان کے ایوانوں سمیت لرزہ براندام کر دیا جائے۔ سو شکارباز اترنے لگے، اسپیدہ سحر کے وقت۔ عقاب، باز، ہُدہُد، نازک اندام بلبل سے لے کر خون آشام ابابیل تک، جھنڈ در جھنڈ، گروہ در گروہ، تنہا و بے شمار، انسانی قصروں اور ایوانوں پر ٹوٹ پڑے۔ مگر ان سب میں ایک ایسا بھی تھا جس کی آمد شکاربازوں کے ہمراہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی، جس کے قدموں کی آہٹ سے ناواقف نگاہیں اب پہلی بار اس کے دیدار کی منتظر تھیں۔

عنقا۔

شکاربازوں کا سالار۔

جس کے گزرنے کو لوگ اپنے بخت کی بشارت سمجھتے ہیں، جس کی پرواز کی انتہا سے خود آسمان بھی ناواقف ہے۔ جسے لوگ عدم کی مملکت کا باشندہ سمجھتے تھے، اور اگر اس کے وجود کو کوئی مانتا بھی تو اسے بخت کی بلند پیشانیوں کا مکین جانتا، وہ محکوموں کی خاطر فلک سے کیوں اترے گا بلا؟ مگر عنقا اترا، اپنی تمام تر شدت کے ساتھ اترا۔
جب بھی کوئی شکارباز خاک و خوں میں تڑپ کر گرتا، کوئی گھونسلا نذرِ آتش ہوتا، یا شکاری اپنی ہوس کی تسکین کے لیے کسی بے زبان پرندے کا خون بہاتے، عنقا اپنے لفظوں میں اس سانحے کو ڈالتا۔ وقت گزرتا گیا، اور عنقا کے لفظوں میں مرنے والے شکارباز فنا کے بجائے بقا پانے لگے۔ آج جب شکارباز اترے تو عنقا ان کا سالار تھا۔

طاقت کے ایوانوں کو خاکستر کرنے کے بعد، جب شکارباز واپسی کے لیے پلٹے تو عنقا کے قدم اپنے ایک ساتھی، ابابیل کی لاش پر آ کر ٹھہر گئے۔ تب ہی اس کے ہزار رنگ خیالوں میں ایک نظم جنم لینے لگی؛

اک بار چلے آؤ ۔۔۔
کہ مدت سے کھڑا ہوں
ہر سانس میں اے یار ۔۔۔!!!
ترے غم میں گھرا ہوں۔
برسوں کا رفاقت،
وہ زمانوں کا سفر تھا۔۔۔
جیسے کہ فلک پر ۔۔
کوئی تنہا سا قمر تھا۔
کہہ دوں گا تیرے بن،
بھی میں جی لوں گا اک روز
اس دل کو ترے ہجر میں سمجھاؤں گا
اک روز ۔۔ !!!

عنقا کے لفظوں میں بچھڑنے والوں کی زندگیاں ابدیت پاتی رہیں، ہر گزرتے دن کے ساتھ شکاریوں کا جبر بھی شدید تر ہوتا گیا اور شکارباز بھی پہلے سے زیادہ قوت، زیادہ ہتھیار اور زیادہ سفاکی کے ساتھ پلٹنے لگے۔

دن بھر کی معرکہ آرائی کی تیاریوں کے بعد، جب شکارباز تھکن سے چُور ہو کر نیند کی آغوش میں اترنے لگے، تو شب کی تیرہ بخت فضاؤں میں عنقا کی مخصوص پرواز کی آہٹ ابھری۔ سب پہچان گئے، یہ عنقا ہے، جو آج پھر اپنے شہیدوں کے نام اور ان کی داستانیں سنانے آیا ہے۔ مائیں اپنے جگر گوشوں کے نام سننے کو گوش بر آواز ہوئیں، بہنیں اپنے بھائیوں کی یاد لیے جاگ اٹھیں، اور بیویاں اپنے بچھڑے ہم سفروں کے ذکر کی منتظر ہو بیٹھیں۔
اور جب عنقا تمام نام پکار چکا،
تو کچھ دیر کو رکا۔۔۔
پھر سر جھکا کر بولا ۔۔۔

تمہارے
لہو سے گلاب اگیں گے
تمہارے قدم سے
چراغ جلیں گے۔۔۔
تمہیں خاک کیا،
تم تو افلاک ٹھہرے ؟
تمہیں کیا مٹائیں گے،
تم خود اسحار ٹھہرے ۔۔۔۔
تمہاری صدا میں
پہاڑوں کا دم ہے
تمہاری وفا
میں وطن کا بھرم ہے ۔۔۔
تمہارے ہی دم سے یہ پرواز قائم
تمہارے ہی لہو سے ۔۔۔
یہ آواز قائم
میں عنقا ۔۔۔۔ !!!!
بھلا کس شمار میں آؤں؟
تمہارے قدموں کی
غبار میں آؤں ؟؟؟
تمہیں آسماں نے
شہادت میں چُنا ہے
مجھے تم نے اپنے رفاقت میں بُنا ہے۔۔۔

عنقا، جسے ہما بھی کہتے تھے، بخت کا پرندہ تھا۔ اس کی پرواز اتنی بلند تھی کہ کسی انسان نے اسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ آسمانوں میں رہتا تھا، زمین پر اترنا اس کی عادت نہیں تھی۔ مگر اُس دن وہ اونچائی سے اترا، اور جیت کا ذائقہ زبان پر رکھا تو کڑوا نکلا۔ کیا یہ جیت تھی، یا بس ایک دن تھا جس میں کچھ لوگ نہ رہے؟ اس نے اپنے ہر لفظ کو ان ناموں کے ترازو میں تولا جو وہ برسوں سے پکارتا آیا تھا، اور ہر بار پلڑا ہلکا رہا۔ اسے پہلی بار شک ہوا کہ جو کچھ وہ لکھتا آیا ہے، وہ ان کے سامنے کس کام کا تھا۔ یہ خیال دل میں اترا تو ساتھ ہی ایک سوال بھی اٹھا کہ اگر لفظ ناکافی ہیں تو باقی عنقا کے پاس کیا بچتا ہے؟ صرف جنگ ؟

نیچے مارگٹ کی سبز چوٹیاں تھیں، خوبصورت، بے حد خوبصورت۔ ایک فوجی ٹرک سڑک پر طاقت کے نشے میں چُور بھاگ رہا تھا، اتنا تیز کے چوڑے روڈ پہ گزرتے آھو کو بھی دیکھ نا سکی۔۔ اور آھُو اس کے نیچے آکر کچلا گیا۔ عنقا نے دیکھا کہ آھو کے سر سے خون بہتا رہا، اور ٹرک بغیر رکے نکل گیا۔ آگے دریا آیا۔ سفید ہنس تیر رہے تھے، اتنے سفید کہ آنکھ جھپکنا بھول جائے۔ مگر اسی سفیدی میں ایک پہاڑی فاختہ کا چہرہ ابھرا، جو گھونسلے کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جاچکا تھا، اور پھر عنقا کے سینے میں کچھ اور ٹوٹ گیا۔ دنیا کتنی خوبصورت ہے، یہ بات اب اسے تسلی نہیں دیتی، کیونکہ جن کے ساتھ وہ یہ منظر دیکھنا چاہتا تھا وہ اب اسے دیکھ نہیں سکتے۔

اس کے پر ساکت ہو گئے، مگر ہوا اسے ساکت ہونے نہیں دے رہی تھی۔ نیچے دریا بہتا رہا، اوپر آسمان اسی طرح خالی تھا۔ اسے وہ نظمیں یاد آئیں جو اس نے اپنے ساتھیوں کے لیے لکھی تھیں، ہر لفظ سلیقے سے تراشا ہوا، ہر مصرعہ ایک قبر کا پتھر۔ مگر آج ان لفظوں کی بےکسی اسے شرمندہ کرنے لگی تھی۔ جو لوگ لفظوں میں زندہ تھے، وہ کب کے ان لفظوں سے آگے نکل چکے تھے، اور وہ ابھی تک انہیں سمیٹنے میں لگا تھا۔ اس نے پہلی بار اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کیا۔ میں کب تک لکھتا رہوں گا جبکہ میرے دوست اپنا فرض ادا کر چکے ہیں ؟ وہ بس اڑتا رہا، ایک ایسے آسمان کی طرف جو اسے کچھ نہیں بتاتا تھا۔

۔۔۔

اب رات اتر چکی تھی۔ پہاڑوں کے درمیان پھیلے گھونسلوں میں کہیں زخمی پرندے آرام کر رہے تھے، کہیں مائیں اپنے بچوں کو پروں میں چھپائے بیٹھی تھیں، اور کہیں جنگ سے لوٹے شکارباز اپنے بچھڑے ساتھیوں کی یاد میں جاگ رہے تھے۔

اچانک زریں عقاب کی گرجتی آواز پہاڑوں پر پھیل گئی۔

وہ ایک بلند چٹان پر کھڑا تھا۔ اُس کی آواز ایک گھونسلے سے دوسرے گھونسلے تک پہنچی۔ پرندوں نے سر اٹھائے۔ کسی نے اپنے بچے کو سینے سے لگا لیا، کسی شکارباز نے اپنے ساتھی کی خالی جگہ کی طرف دیکھا۔

زریں عقاب نے عنقا کی لکھی ہوئی آخری نظم پڑھنا شروع کی۔۔۔

عنقا کے لفظ خنجر کی طرح سب کے سینوں میں اترتے گئے۔ اجڑے گھر، جلتے بدن، بکھرے سر، شاہراہ پر پڑا آھو، گاٹ دیتا جنگجو، اپنے بچھڑوں کی راہ تکتی بیوائیں، پنجروں میں قید نسل اور اُن کے انتظار میں بوڑھی ہوتی مائیں۔ ہر دکھ کے لیے معذرت تھی، ہر بچھڑنے والے کے لیے معذرت، ہر اُس درد کے لیے معذرت جسے عنقا اپنے لفظوں میں جگہ نہ دے سکا تھا۔

مگر عنقا کا اپنا درد بھی تو بے جا نہ تھا۔ وہ ہر روز کسی کو دفناتا، ہر روز کسی کے بچھڑنے پر لکھتا، ہر روز اپنے ہی لفظوں سے زخم کرید کر اُنہیں دوبارہ زندہ کرتا۔ کیا وہ ساری عمر یہی کرتا رہتا؟ کیا اُس کا قلم اُن کے سفر کا متبادل بن سکتا تھا؟ وہ جن ہستیوں کو لفظوں میں سمیٹنا چاہتا تھا، اُن کی عظمت اُس کے خیالوں سے کہیں بلند تھی۔

عنقا نے شاعری سے فراری اختیار کرلی تھی۔۔
عنقا شاعری چھوڑ چکا تھا۔۔۔
عنقا کی رباعی نامکمل رہ چکی تھی۔۔۔
تکلیف سی تکلیف تھی، درد سا درد تھا، مایوسی سی مایوسی تھی۔
عنقا ایسے کیسے کرسکتا ہے بلا ؟

اگلے روز ہر طرف ایک طوفان سا برپا تھا۔ کہیں اُسے منت سماجت کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی، کہیں شکارباز عنقا کے فیصلے پر ناراض تھے، کہیں اُس کی اذیت کا ذکر تھا اور کہیں اُس کے قلم چھوڑ دینے کے اعلان پر بحث چھڑی ہوئی تھی۔ ہر گھونسلے میں ایک نئی بات تھی، ہر چہرے پر ایک الگ تاثر۔ مگر ان سب سے دور ایک گھونسلے میں محاذ پر شہید ہونے والے ایک شکارباز کی بہن سرخ آنکھوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اُس کے سامنے عنقا کی شاعری بکھری پڑی تھی۔ وہ ایک ایک لفظ کو دیکھتی، پھر نگاہیں اٹھا کر سامنے خالی جگہ کو تکنے لگتی، جیسے عنقا وہیں بیٹھا ہو اور اُسے جواب دینا ہو۔

ماں، کیا اُسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہمیں اس حال میں چھوڑ دے؟ عنقا کو یہ حق کس نے دیا؟ کیا یہ تخلیق صرف اُس کی ہے؟ کیا اُس کی شاعری پر شکاربازوں اور اُن کے خاندانوں کا کوئی حق نہیں؟ اُس نے یہ پیغام زریں عقاب کے پیچھے چھپ کر کیوں دیا؟ وہ خود ہمارے سامنے آ کر کیوں نہیں کہتا؟ وہ ہماری آنکھوں میں آنکھیں کیوں نہیں ڈال سکتا؟

اُس کی آواز بھرّا گئی۔

میں جانتی ہوں، ماں، وہ اذیت میں ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ہر روز اپنے ساتھیوں کو کھونا اور پھر اُن کے لیے لکھنا کتنا مشکل ہے۔ مگر وہ تو مضبوط ہے نا؟ میں اُسے جانتی ہوں، ماں۔ عنقا بہت مضبوط ہے۔ وہ شکاربازوں کا سالار ہے۔ جب ہم سب ٹوٹ رہے ہوتے ہیں تو وہ ہمیں سنبھالتا ہے۔ پھر اُس نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا؟

ماں، وہ کہتا ہے کہ اُس کے لفظ شکاربازوں کے قد تک نہیں پہنچتے۔ مگر کیا لفظوں کا کام کسی شہید کا قد ناپنا ہے؟ کیا تاریخ میں زندہ رہنے کے لیے کسی قربانی کو شاعر کے لفظوں کی برابری کرنا ضروری ہے؟ شہیدوں نے اپنا فرض ادا کیا، عنقا نے اپنا۔ دونوں کے کام الگ ہیں، مگر کیا ایک کی عظمت دوسرے کے کام کو بے معنی کر دیتی ہے؟ اگر ہر وہ شخص قلم رکھ دے جسے اپنے لفظ حقیقت سے چھوٹے محسوس ہوں تو پھر ہماری کہانی کون لکھے گا؟ ہماری تاریخ صرف وہ لوگ لکھیں گے جن کے ہاتھوں میں بندوقیں ہیں، اور وہ اپنے حساب سے بتائیں گے کہ ہم کون تھے، کس لیے لڑے اور ہمارے ساتھ کیا ہوا۔ وہ ہماری تاریخ کو ایسے لوگوں کے لیے کیوں چھوڑ رہا ہے جنہوں نے ایک گولی تک نہیں چلائی؟

ہم اُس سے یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنے دوستوں کے برابر لکھے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے لکھتا رہے۔ اُس کے لفظ ہمارے شہیدوں کو واپس نہیں لا سکتے، مگر اُن کی یاد کو ہم سے چھننے بھی نہیں دیتے۔ پھر وہ ہم سے یہ سہارا کیوں چھین رہا ہے؟ کیا اپنے درد سے نکلنے کا راستہ ہم سب کو بے سہارا چھوڑ دینا ہے؟

بندوقیں جسموں کو زیر کر سکتی ہیں، بارود شہر مسمار کر سکتی ہیں، مگر ذہنوں پر قبضہ کرنے کے لیے تو کتابیں چاہیے نہ؟ اگر ہم صرف بم، بارود اور بندوق کی زبان جانیں گے تو ہماری کہانی کون لکھے گا؟ ہمارے دشمنوں کی کتابیں ہمارے شہیدوں کو قاتل، ہماری مزاحمت کو جرم اور ہماری تاریخ کو اپنی فتح بنا دیں گی۔ پھر ہمیں اپنے ہی بچوں کو بتانا پڑے گا کہ اُن کے بزرگ وہ نہیں تھے جو اُن کی کتابوں میں لکھے ہیں۔ اگر ہمارے پاس اپنی کہانی لکھنے والے ہی نہ رہے تو ہماری آنے والی نسلیں دوسروں کے لفظوں میں خود کو پہچانیں گی۔ اور ماں، اس سے بڑا نقصان کیا ہوگا کہ ہم اپنی زمین تو بچانے نکلیں، مگر اپنی تاریخ، اپنی زبان اور اپنی شناخت دوسروں کے حوالے کر جائیں؟

وہ کہتا ہے کہ وہ شاعری میں ماہر نہیں۔ کیا میں اسے نہیں جانتی، ماں؟ کیا مجھے معلوم نہیں کہ اُس کے بات کرنے کا انداز بھی اپنی ذات میں ایک شاعری ہے؟ اُس نے میرے بھائی کو قبر میں اتارا ہے۔ اُس کے لیے اُس کے لفظ عزیز ہیں، اور میرے لیے اُس کے لفظوں میں زندہ شکارباز۔ وہ مضبوط ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ لیکن اگر وہ مضبوط ہوتے ہوئے ٹوٹ گیا تو شکارباز اپنے آئیڈیل کو ٹوٹتے دیکھ کر کیا کہیں گے؟‘‘

اُس نے سرخ آنکھوں کے ساتھ عنقا کی تحریر پر ہاتھ رکھا۔

دنیا ہمیں کیا کہے گی؟ دیکھو، کس سالار کے پیروکار مارے مارے پھر رہے ہیں، ان کے سالار نے اُن کے لیے لکھنا بند کردیا۔ ہم نے اپنے بچھڑوں کو اُس کے لفظوں میں محفوظ کیا تھا۔ وہ جو قلم رکھ دے تو ہم شکاربازوں کو کہاں ڈھونڈیں؟

اور پھر شکارباز کی وارث نے ایک اُمید کے ساتھ اپنی لال بھبھوکا آنکھیں عنقا کی گُڈی شعر پہ جما دیں۔۔۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔