بلوچ اسکول ٹیچر کا قتل؛ عالمی برادری بلوچستان میں ہونے والے واقعات پر آواز اٹھائے۔ بی وائی سی

10

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق پرویز بلوچ کو 13 اکتوبر کو پسنی کے مرکزی بازار سے جبری لاپتہ کیا گیا، اگلے روز مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی “بی وائی سی” نے اسکول ٹیچر پرویز بلوچ کے قتل کے خلاف ان کے اہلخانہ کے احتجاج کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے واقعے میں انصاف اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

بی وائی سی کے بیان کے مطابق، 16 اکتوبر کو پرویز بلوچ کے ضعیف والد اور دیگر اہلخانہ نے ان کے قتل کے خلاف پسنی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پرویز بلوچ ولد مزار بلوچ کو 13 اکتوبر 2026 کو بلوچستان کے ضلع گوادر کے علاقے پسنی کے مرکزی بازار سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جبکہ اگلے روز ان کی مسخ شدہ لاش پسنی کے علاقے دروبند سے برآمد ہوئی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پرویز بلوچ کو ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈز نے ماورائے عدالت قتل کیا، بلوچستان میں بلوچ افراد کے قتل اور ان کے اہلخانہ کی اذیت ایک مسلسل حقیقت بنتی جا رہی ہے، جبکہ متاثرہ خاندان انصاف اور جوابدہی کے لیے فریاد کر رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے بجائے ایسے واقعات میں ملوث افراد احتساب سے بچ رہے ہیں۔

بی وائی سی نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ بلوچ عوام کی نسل کشی کے حوالے سے عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مزید کتنی جانوں کا ضیاع ضروری ہے اور مزید کتنے خاندانوں کو اس اذیت سے گزرنا پڑے گا۔

کمیٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں ہونے والے واقعات پر آواز اٹھائے اور پاکستان سے ان واقعات کے حوالے سے جواب طلب کرے۔