لُمہ شاری ایک عورت نہیں، ایک نظریہ ہے
تحریر: زِرنود بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
ماں صرف ایک رشتہ نہیں ہوتا بلکہ پوری کائنات ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو صرف جنم نہیں دیتی، انہیں اپنی آغوش میں پالتی ہے، ان کے لیے دعائیں کرتی ہے، مگر تاریخ میں کچھ مائیں ایسی بھی گزری ہیں جنہوں نے صرف اپنے بچوں کے لیے نہیں بلکہ اپنی مٹی کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
ایک ماں کے لیے اپنی جان قربان کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ موت کے سامنے سب سے پہلے اسی کے اپنے بچوں کے چہرے یاد آتے ہیں، ان کی مسکراہٹ، ان کی آواز اور ان کے ننھے ہاتھ سب کچھ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے لیکن جب وطن کی حفاظت اور اپنی جان کے درمیان انتخاب کا لمحہ آتا ہے تو کچھ مائیں اپنی ذات سے بلند ہو جاتی ہیں۔
آج میں نے اپنا قلم ایک ایسے کردار پر لکھنے کے لیے اٹھایا ہے جو صرف ایک ماں نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، ایک سوچ ہے، ایک مثال ہے۔
وہ لُمہ شاری ہے، ماہو اور میرو کی ماں۔
ایک ایسی عورت جس نے اپنی سوچ، اپنے یقین اور اپنے اصولوں کو اپنی زندگی کا مرکز بنایا۔
لُمہ شاری کا نام آتے ہی ایک ایسی عورت کا تصور سامنے آتا ہے جس نے اپنے یقین کو اپنی شناخت کا حصہ بنایا اور اپنے فیصلے سے اپنی زندگی کو تاریخ میں ایک نمایاں باب بنا دیا۔
لُمہ شاری کا ایک خوشحال گھر تھا، شہر، دو معصوم بچے، اچھی نوکری؛ ان کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی لیکن ان کی محبت صرف اپنے گھر تک محدود نہیں تھی۔ ان کے دل میں وطن کے لیے محبت تھی، اپنی قوم کے لیے ایک عہد تھا اور اسی نے ان کی زندگی کو ایک ایسی مثال بنا دیا جسے فراموش کرنا آسان نہیں۔
جب لُمہ شاری نے فدائی کا فیصلہ کیا ہوگا، ایک طرف دو معصوم بچے، دوسری طرف سرزمین۔ اس کے بچوں کی ہنسی ہی اس کے لیے سب سے بڑی دولت ہوگی لیکن وطن کی محبت اس سے بھی کہیں زیادہ تھی۔
جب لُمہ شاری نے آخری دفعہ اپنے بچوں کو گلے لگایا ہوگا۔ اس لمحے وہ کوئی کردار نہیں تھی، صرف ایک ماں تھی۔ ایک ایسی ماں جس کا دل اپنے بچوں کے لیے چیخ رہا تھا لیکن اس کے اندر اپنی مٹی کی محبت زندہ تھی۔ وہ ایک ایسی ماں تھی جس کا دل بلوچستان کے لیے دھڑکتا تھا۔ شاری کی دھڑکنیں آنے والی نسلوں تک سنائی دیں گی۔
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت صرف میدانوں میں دکھائی نہیں دیتی؛ ایک عورت کا اپنے عقیدے پر آخری حد تک قائم رہنا بھی اپنے عہد پر ایک گہرا نشان چھوڑ جاتا ہے۔
لُمہ شاری کا نام ایک ایسی داستان ہے جسے تاریخ بار بار پڑھنے پر مجبور ہوگی۔ شاری کی عظمت صرف ان کے فیصلے میں نہیں بلکہ اس پیغام میں ہے جو انہوں نے آنے والی نسلوں، خصوصاً عورتوں کے لیے چھوڑا۔ ان کی زندگی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ہماری محبت صرف اپنے خاندان تک محدود رہے گی، یا ہم اپنی سرزمین کے مستقبل کے لیے بھی اپنی ذمہ داری پہچانیں گے؟
میں چاہتی ہوں کہ ہماری عورتیں شاری کو صرف ایک کہانی سمجھ کر نہ پڑھیں بلکہ ان کی زندگی سے اپنے عزم، شعور اور کردار کی طاقت پہچانیں۔ کیونکہ تاریخ صرف ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جو بڑے خواب دیکھتے ہیں، بلکہ انہیں بھی یاد رکھتی ہے جو اپنے نظریے پر ثابت قدم رہتے ہیں۔
کچھ مائیں اپنے بچوں کو زندگی دیتی ہیں اور لُمہ شاری نے اپنی جان دے کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر وطن چھوڑا۔ لُمہ شاری ایک فرد کا نام نہیں، ایک سوال ہے جو آج بھی ہر باشعور عورت کے سامنے کھڑا ہے: تم اپنی سرزمین کی تاریخ میں اپنا کردار کیا لکھوانا چاہتی ہو؟
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































