گیارہ اگست یومِ تجدید ہمیں اپنی قومی ریاست کی بحالی کے لیے مزید منظم ہونے کی تلقین کرتی ہے۔ بی ایس او آزاد

0

دنیا ہماری قومی ریاست کی بحالی اور خطے میں پائدار امن کے لیے بلوچ قومی جدوجہد کی حمایت کرکے اپنا آئینی اور اخلاقی فرض ادا کرے۔ شولان بلوچ

بلوچ آزادی پسند طلباء تنظیم بی ایس او آزاد کے ترجمان شولان بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ قوم کی طرف سے گیارہ اگست یومِ تجدید کے طورپر منائی جاتی ہے، یہ دن ہمیں اپنی شناخت، سرزمین، آزادی اور قوم سے جوڑنے کی شعور اور احساسات دیتی ہے اور ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہم ایک آزاد و باوقار قوم کے حیثیت سے صدیوں سے اپنی سرزمین پر رہتے ہیں۔ 

شولان بلوچ کے مطاب قیہ وہ دن ہے جب گیارہ اگست 1947 میں بلوچستان نے برطانیہ سامراج کے خلاف طویل مزاحمت کے بعد اپنی آزادی حاصل کی۔ یہ دن بلوچ قوم کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں ہم اپنے وطن اور سرزمین کی آزادی کے لیے محبت کا اظہار کرتے ہیں، جس طرح یہ دن ہمیں قومی اتحاد اور ایک قوم ہونے کا احساس دیتی اسی طرح ہمیں ہماری سلب گی گئی آزادی کی بھی یاد دلاتی ہے۔ 

بی ایس او ترجمان نے کہا ہے برطانیہ کی برصفیر سے انخلا کے دوران زیرقبضہ تمام ریاستوں کی پرانی ساخت کو بحال کرنے اور انہیں آزاد و خودمختار کرنے کے لیے مختلف اجلاس و کانفرینس منعقد کیے گئے، 4 اگست 1947 کو بلوچستان کے حکمرانوں نے خان آف قلات کی سربراہی میں برطانیہ کی ایک وفد جس کی سربراہی لورڈ ماونٹ بیٹن کررہے تھے، بلوچستان کی خودمختاری اور ریاست کی بحالی پر ملاقات کی، جس میں یہ طے پایا کہ بلوچستان کی خودمختاری کو تسلیم کرکے اس کی پرانی ساخت کو بحال کیا جائے گا۔ 

“اس دوران جناح بھی شامل تھا جس نے ریاستِ بلوچستان کی بحالی اور آزادی کے لیے وکالت کیا تھا، جبکہ بعد میں اسی شخص نے بلوچستان سے غداری کرکے اپنی مکار چہرے کو واضح کیا۔ برطانیہ نے بلوچستان کی آزادی و خودمختاری کو تسلیم کیا جبکہ نئے قائم شدہ مصنوعی ملک پاکستان نے بھی بلوچستان کی آزادی کو تسلیم کیا”۔

ترجمان نے کہا 11 اگست 1947 کو خان آف قلات نے بلوچستان کی آزادی اور قومی ریاست کی خودمختاری کا اعلان کیا اس اعلان کو ریڈیو انڈیا، ریڈیو بی بی سی اور نیویورک ٹائمز جیسے خبر رساں اداروں نے دنیا بھر میں شائع کیا۔ قومی ریاست کی بحالی کے بعد بلوچ حکمرانوں نے اپنا ایک قومی پارلیمنٹ  “ ایوان ء بالا” اور ایوان ء زیریں” کے نام سے قائم کیا۔ 

“بلوچستان کو ایک سیکولر اور جمہوری ریاست جبکہ اس میں اسلامی روایات کی پاسداری پر مشتمل ایک ریاستی ڈھانچہ تیار کیا گیا جس کی قومی زبان بلوچی مقرر کی گئی، اپنے ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات رکھنے کے لئے فارئن پالیسی مرتب کیے گئے اور بلوچستان کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کرنے کے لیے مختلف فیصلے اور پالیسیاں اپنائی گئی”۔

انہوں نے کہا چونکہ بلوچستان طویل مدت کے بعد برطانیہ سامراج سے آزاد ہوا تو وہ نوابادیاتی پالیسیوں کے اثرات کے سبب اندرونی طور پر کمزور تھا جہاں انگریزوں نے قبضہ کے دوران بلوچ سماجی ڈھانچہ کو کمزور کرنے اور ان کی زمین کو تقسیم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہوئے تھے تو بلوچستان ابھی ایک مکمل اور مضبوط ریاستی تشکیل کی طرف گامزن تھا کہ اس پر برطانیہ سامراج اور نئے قائم کردہ مصنوعی ریاست پاکستان نے حملہ کیا۔ 

شولان بلوچ کا کہنا تھا بلوچستان کی سرزمین پر پہلے سے بلوچستان دشمن عناصر کی نگاہ تھی اور وہ بلوچستان کو ایک آزاد و خودمختار ریاست دیکھنے پر خوش نہیں تھے، پاکستان نے برطانیہ کے مدد سے بلوچستان کے حکمرانوں کو پاکستان میں شامل کرنے کے دعوت دی جسے بلوچ پارلیمنٹ نے مسترد کیا، جب بلوچستان نے پاکستان میں شامل ہونے سے انکار کیا تو پاکستانی ریاست فوجی آپریشن کا آغاز کرکے 27 مارچ 1948 کو بزور فوجی طاقت بلوچستان پر قبضہ کیا۔ 

بی ایس او ترجمان نے مزید کہا ان آٹھ مہینوں میں بلوچستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست رہا اور اپنی قومی ریاست کو منظم کرنے جدوجہد میں آگے جارہا تھا کہ اس پر بزور طاقت قبضہ کیا گیا، تب سے بلوچ قوم اپنی سلب کی گئی آزادی کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، جب پاکستان کا وجود  نہیں تھا تو بلوچستان صدیوں سے ایک آزاد ریاست تھا، ہم ہرلحاظ سے پاکستانی ریاست سے الگ ہیں، ہماری شناخت، زبان، ثقافت، سرزمین سے لے کر ہماری نفسیات قابض سے الگ ہے ہماری تاریخ ان تمام دلائل اور سچائیوں کا آئینہ ہے۔  

انہوں نے آخر میں کہا گیارہ اگست یومِ تجدید ہمیں اپنی قومی ریاست کی بحالی کے لیے مزید منظم ہونے کی تلقین کرتی ہے بلوچ قوم کو چاہئے کہ اپنی قومی ریاست کی بحالی اور پاکستانی غلامی سے نجات پانے کے لئے مزید منظم ہوکر قومی جدوجہد میں شامل ہو اور اپنی سلب کی گئی آزادی کو دوبارہ بحال کرنے میں اس جدوجہد کو منزلِ مقصود تک پہنچانے میں اپنا قومی کردار ادا کرے۔ 

“دنیا ہماری قومی ریاست کی بحالی اور خطے میں پائدار امن کے لیے بلوچ قومی جدوجہد کی حمایت کرکے اپنا آئینی اور اخلاقی فرض ادا کرے”۔